محمد عامر اور عبداللہ کے ماورائے عدالت قتل: بی وائی سی کی مذمت

22

بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان میں جاری ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں اور ریاستی جبر کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔ عیدالفطر جیسے مقدس موقع کے قریب بھی بلوچ عوام کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو نہایت افسوسناک اور قابلِ مذمت عمل ہے۔

تنظیم نے کہا ہے کہ مستونگ کے
کے رہائشی دل مراد کے بیٹے، نوجوان محمد عامر کو عیدالفطر کی آمد سے قبل فورسز نے ان کے گھر سے زبردستی اٹھایا اور محض پانچ منٹ کے اندر گولی مار کر قتل کر دیا۔ اس کارروائی کے دوران نہ کوئی وارنٹ پیش کیا گیا اور نہ ہی کسی قسم کی وضاحت دی گئی۔

قتل کے بعد فورسز نے تقریباً بارہ گھنٹے تک لاش کو اپنے قبضے میں رکھا اور بعد ازاں ورثاء کے حوالے کیا۔ لاش کی واپسی کے وقت اہلِ خانہ کو زبردستی ایک اسٹامپ پیپر پر دستخط کروائے گئے، جسے انہیں پڑھنے کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔

اہلِ خانہ نے واضح کیا ہے کہ اگر اس دستاویز میں کوئی بھی بات ان کے مفاد کے خلاف ہو تو وہ اسے مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔

محمد عامر کی والدہ نے گہرے دکھ اور کرب کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے بچوں کو شدید مشکلات اور قربانیوں کے ساتھ پالا، مگر ایک لمحے میں ان کا بیٹا ان سے چھین لیا گیا۔ ان کا کہنا تھا:
“کیا ہم اپنے بچوں کو اس لیے بڑا کرتے ہیں کہ کوئی بھی ہمارے گھروں میں گھس کر انہیں قتل کر دے؟ ہم اتنے غیر محفوظ ہو چکے ہیں کہ ہماری حفاظت کرنے والا کوئی نہیں۔

بی وائی سی نے کہا ہے کہ اسی طرح پنجگور کے علاقے میں 20 مارچ 2026 کو عبداللہ کو بھی قتل کر دیا گیا، جو بلوچستان میں جاری ٹارگٹ کلنگ کے سلسلے کی ایک اور کڑی ہے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کہا ہے کہ آخر یہ کیسی ریاست ہے جہاں عید جیسے خوشی کے موقع کو سوگ میں بدل دیا گیا ہے؟ جہاں خاندان عید منانے کے بجائے اپنے پیاروں کے جنازوں میں شرکت کرنے پر مجبور ہیں۔

مزید کہا ہے کہ بلوچستان میں خوشی کی جگہ غم نے لے لی ہے، انسانی جانیں لی جا رہی ہیں اور اس سب پر خاموشی طاری ہے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ ان سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا فوری نوٹس لیں۔ بلوچستان میں بلوچ عوام کے قتل کا سلسلہ معمول بن چکا ہے، جہاں نہ کوئی احتساب ہے اور نہ ہی کوئی جواب دہی۔