سندھ: سی ٹی ڈی کا پانچ مبینہ سرمچاروں کی گرفتاری کا دعویٰ

54

سی ٹی ڈی نے بلوچ ریپبلکن گارڈز کے ارکان کی گرفتاری کا دعویٰ کیا ہے۔

کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ سندھ نے بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیم سے منسلک پانچ مبینہ ارکان کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ پولیس کے مطابق مذکورہ گروہ بلوچستان اور سندھ کے سرحدی علاقوں، جیسے جعفر آباد، نصیر آباد، جیکب آباد اور شکارپور میں کافی سرگرم ہے۔

سی ٹی ڈی کے مطابق گرفتار ارکان میں کمانڈر جھنور ولد یار محمد، جامک خان ولد مصری خان، علی جان ولد امیر بخش، نیاز ولد امام بخش اور نور محمد ولد جمعہ خان شامل ہیں، جن کا تعلق مبینہ طور پر بلوچ ریپبلکن گارڈز سے بتایا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ سندھ پولیس کی جانب سے اس سے قبل بھی سندھ کے مختلف علاقوں سے بلوچ اور سندھی قوم پرستوں و شہریوں کو حراست میں لے کر ان کا تعلق مسلح تنظیموں سے جوڑنے کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں، جو بعد ازاں عدالتوں میں بے گناہ ثابت ہوئے۔

سی ٹی ڈی پر یہ بھی الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ اس نے متعدد افراد کو جعلی مقابلوں میں قتل کرکے ان کا تعلق سندھی اور بلوچ آزادی پسند تنظیموں سے ظاہر کیا، جو پہلے ہی پولیس اور پاکستانی فورسز کی حراست میں تھے۔

گذشتہ ماہ کراچی میں سی ٹی ڈی نے چار زیر حراست بلوچ نوجوانوں کو مبینہ مقابلے میں قتل کردیا تھا، جہاں اب عدالت کی جانب سے واقعہ میں ملوث سی ٹی ڈی اہلکاروں کو انکے پوسٹوں سے ہٹا کر تحقیقات کا حکم جاری کیا گیا ہے۔