تنظیم کی جانب سے حملوں میں شریک مجید برگیڈ کی فدائین و جھڑپوں میں جانبحق سرمچاروں کے نام و تصاویر جاری کئے جارہے ہیں۔
بلوچ لبریشن آرمی نے 31 جنوری سے چھ فروری تک بلوچستان کے درجن سے زائد علاقوں میں جاری رہنے والے آپریشن ھیروف کے دوسرے مرحلے کے دوران پاکستانی فورسز، آئی ایس آئی، پولیس و ڈیتھ اسکواڈ سے جھڑپوں اور خودکش حملہ کرنے والے مزید 10 بلوچ سرمچاروں کے نام تصاویر اور تفصیلات جاری کردئے گئے ہیں۔
بی ایل اے کے مطابق آپریشن ھیروف کے دوسرے مرحلہ کے دوران انکے 93 سرمچار شہید ہوئے ہیں جن میں 50 بلوچ فدائین شامل ہیں۔
تنظیم کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات میں فتح اسکواڈ رکن سبی سانگا کے رہائشی محمد دین مری عرف وحید ولد قائم خان مری شامل تھے جنہوں نے سال 2022 میں تنظیم میں شمولیت اختیار کی اور مستونگ کے محاذ پر شہید ہوئے۔
تنظیم نے کہا ہے کہ شہید محمد دین مری جنگِ آزادی کا ایسا سپاہی تھا جس کا خاندان خود قربانی اور بہادری کی جیتی جاگتی علامت ہے، اس کے دو بھائی، فدائی ازل عرف ڈاڈا اور شہید محمد حسین عرف جبل، اس سے پہلے ہی آزادی کی راہ میں جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں یوں ایک ہی خاندان کے تین چراغ وطن پر قربان ہو گئے۔
اس عظیم روایت نے اس کے عزم کو کمزور نہیں کیا بلکہ اسے مزید فولادی بنا دیا، اور وہ اس امانت کو آخری سانس تک نبھانے کے لیئے پرعزم رہا۔
شہید محمد دین مری میدانِ جنگ کا ماہر، پہاڑوں کا شناسا اور کٹھن حالات کا عادی تھا بلوچستان کے سنگلاخ پہاڑ اس کے لیئے پناہ گاہ بھی تھے اور تربیت گاہ بھی، جہاں اس نے برداشت، صبر اور ثابت قدمی کا ہنر سیکھا۔
اپنی جنگی مہارت، خاموش پیش قدمی اور دشمن پر کاری ضرب لگانے کی صلاحیت کے باعث وہ تنظیم میں شمولیت کے بعد نہایت کم عرصے میں ‘فتح اسکواڈ’ کا حصہ بن گیا۔
انہوں نے بولان، کوئٹہ اور مستونگ کے محاذوں پر ہر معرکے میں ہراول دستے (فرنٹ لائن) پر لڑتے ہوئے دشمن کو شکست دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ جنگی محاذوں پر اس کا حوصلہ کبھی پست نہ ہوا اور وہ آخری لمحے تک استقامت، جرات اور عزم کی روشن مثال بن کر لڑتا رہا۔
فائن آرٹس میں یونیورسٹی آف بلوچستان سے تعلیم حاصل کرنے والے اور فتح اسکواڈ کے رکن شہید ارسلان عرف موسیٰ ولد منور خان ماندائی سکنہ کلی عطا محمد نوشکی سال 2025 میں تنظیم کا حصہ بنے اور خاران میں شہید ہوئے۔
بلوچ لبریشن آرمی کے مطابق ارسلان عرف موسیٰ اس پڑھے لکھے بلوچ طبقے کا نمائندہ تھا جس نے قلم اور رنگوں کے ذریعے خواب بننے کے بجائے، اپنی مٹی کی آزادی کے لیے لہو کا انتخاب کیا، یونیورسٹی آف بلوچستان سے فائن آرٹس کے طالب علم کے طور پر ارسلان کی نظر جمالیات پر تھی، لیکن انہوں نے محسوس کیا کہ جب قوم کی شناخت ہی خطرے میں ہو تو آرٹ کا سب سے بڑا شاہکار قربانی کی صورت میں پیش کیا جاتا ہے۔
نوشکی کی سرزمین سے اٹھنے والا یہ نوجوان 2025 میں باقاعدہ طور پر بی ایل اے کا حصہ بنا۔
ارسلان نے نوشکی اور خاران کے کٹھن محاذوں پر اپنی سیاسی اور جنگی صلاحیتوں کا لوہا منوایا، ایک آرٹسٹ کی حساسیت اور ایک سپاہی کی سختی ان کی شخصیت میں یکجا تھی۔ “آپریشن ھیروف” کے فیصلہ کن معرکے میں ارسلان خاران کے محاذ پر موجود تھے، جہاں ایک شدید جھڑپ کے دوران لڑتے ہوئے انہوں نے جامِ شہادت نوش کیا۔
ان کی شہادت اس سچائی پر مہرِ تصدیق ہے کہ بلوچستان کی درسگاہیں اب ایسے ہنر مند پیدا کررہی ہیں جو اپنی دھرتی کے نقش و نگار کو اپنے ہی خون سے سنوارنے کا فن جانتے ہیں۔
تنظیم نے کہا ہے کوئٹہ سریاب کے رہائشی شہید کبیر سرپرہ عرف الیاس پسند خان سرپرہ بھی اسی سال بی ایل اے میں شامل ہوئے انکی زندگی کا سفر سریاب کی گلیوں سے شروع ہوکر خاران کے ریگزاروں میں شہادت کی منزل تک پہنچتا ہے۔
جولائی 2025 میں جب انہوں نے مسلح جدوجہد کی راہ اپنائی، تو یہ ان کے برسوں پر محیط اس شعور کا نتیجہ تھا جو انہوں نے بلوچستان کے سیاسی مرکز، کوئٹہ میں پرورش پا کر حاصل کیا تھا، کبیر کا تعلق گُرگینہ کے ایک ایسے علاقے سے تھا جہاں کی مٹی مزاحمت کی خوشبو سے معطر ہے اور انہوں نے اپنے عمل سے ثابت کیا کہ وطن کی پکار کے سامنے شہر کی رونقیں اور ذاتی آسائشیں کوئی معنی نہیں رکھتیں۔
ان کی شخصیت میں وہ خاموش استقامت تھی جو ایک حقیقی سرمچار کا طرہ امتیاز ہوتا ہے کبیر سرپرہ نے بہت مختصر عرصے میں خود کو سخت ترین جنگی حالات کے لیئے تیار کیا۔ “آپریشن ھیروف” کے دوران جب خاران کا محاذ گرم ہوا تو کبیر نے فرنٹ لائن پر رہتے ہوئے اپنی بہادری کے انمٹ نقوش چھوڑے۔
دشمن سے ایک جھڑپ کے دوران انہوں نے پسپائی کے بجائے سینہ سپر ہوکر لڑنے کو ترجیح دی اور جامِ شہادت نوش کیا ان کی قربانی اس فکری تسلسل کا حصہ ہے جو سریاب سے خاران تک پھیلی ہوئی ہے۔
مستونگ اسپلنجی کے رہائشی فدائی عنایت اللہ عرف بابر ولد حاجی غنی بنگلزئی اپریل 2024 میں تنظیم کا حصہ بنے اور اگست میں مجید برگیڈ میں شامل ہوگئے۔
تنظیم نے انکے حوالے سے بتایا ہے فدائی عنایت اللہ ایک باصلاحیت سرمچار تھے، اُن کی جنگی صلاحیت اور مہارت کی بنیاد پر انہیں انتہائی قلیل مدت میں تنظیم کی جانب سے ناگوہو محاذ کا گشتی کمانڈر مقرر کیا گیا بحیثیت گشتی کمانڈر، شہید فدائی عنایت اللہ نے اپنے ساتھی سرمچاروں کی جنگی تربیت میں اہم کردار ادا کیا اُن کی زیرِ کمان ساتھی سرمچاروں نے اُن کی جنگی صلاحیت اور مہارت سے بہت کچھ سیکھا۔
شہید فدائی عنایت اللہ آپریشن ہیروف فیز ۲ کے دوران کوئٹہ کے محاذ پر موجود تھے، انہوں نے کوئٹہ جیسے حساس محاذ پر فرنٹ لائن میں دشمن کے خلاف لڑتے ہوئے دشمن کو پیچھے دھکیلا اور اپنے ساتھی سرمچاروں کو کور فراہم کرتا رہا۔
ان کی جرات اور استقامت نے محاذ پر موجود ہر سرمچار کے حوصلے کو نئی توانائی بخشی۔
شدید جھڑپوں کے دوران وہ اپنے ساتھی سرمچاروں کے ساتھ پیش قدمی کرتے ہوئے ریڈ زون کے قریب واقع ریلوے اسٹیشن تک جا پہنچے، جہاں کئی گھنٹوں تک مقابلہ جاری رہا وہ عزم کی ایک زندہ مثال بن کر آخری سانس تک ڈٹے رہے بالآخر اسی محاذ پر انہوں نے جان کا نذرانہ پیش کیا اور ان کا نام بہادری اور قربانی کی ایک دائمی داستان میں امر ہو گیا۔
انہوں نے کہا فدائی نعمت اللہ گرگناڑی عرف جاوید ولد میر احمد گرگناڑی سکنہ کلی پدّا مستونگ سال 2025 میں تنظیم اور مجید برگیڈ کا حصہ بنیں، فدائی نعمت اللہ گرگناڑی میدانِ جنگ میں بے مثال جرات اور مضبوط عزم کی علامت تھے جب حالات غیر یقینی اور دباؤ سے بھرپور ہوتے وہ ثابت قدمی اور ذمہ داری کے احساس کے ساتھ ڈٹے رہتے اگلی صفوں میں ان کی موجودگی ساتھیوں کے لیے حوصلے اور اعتماد کا باعث بنتی، کیونکہ وہ صرف الفاظ سے نہیں بلکہ اپنے عمل، تدبر اور دباؤ میں حکمت کے ساتھ جنگی محاذ کو سنبھالتے تھے جرات کے ساتھ ساتھ وہ غیر معمولی جنگی صلاحیتوں کے حامل بھی تھے۔
تنظیم کے مطابق فدائی نعمت اللہ آپریشن ہیروف فیز ۲ کے دوران مستونگ کے محاذ پر موجود تھے، جہاں انہوں نے دشمن کو اس کے قلعے میں بھی غیر محفوظ بنا دیا اور آپریشن ہیروف کے حقیقی مقاصد کو عملی طور پر سرانجام دیا۔
وہ دشمن کے لیے زمین تنگ کرتے ہوئے ان کے محفوظ سمجھے جانے والے ہیڈکوارٹرز میں داخل ہو کر کئی گھنٹوں تک بہادری سے لڑتے رہے اور اسی محاذ پر انہوں نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرکے قربانی کے عظیم فلسفے کو عملی جامہ پہنایا۔
شہید فدائی قدرت اللہ کرد عرف مجید بلوچ ولد بدل خان کرد کا تعلق مَرو، اسپلنجی، مستونگ سے تھا انہوں نے تنظیم میں شمولیت سال 2024 میں کی اور 2025 میں مجید برگیڈ کا حصہ بنیں شہید فدائی قدرت اللہ کرد عرف مجید بلوچ ان نوجوانوں میں شمار ہوتے ہیں جن کی زندگی کا سفر مختصر ضرور ہوتا ہے، مگر اس کی معنویت طویل ہوتی ہے۔
ان کی جدوجہد اس نسل کی نمائندگی کرتی ہے جو کسی حادثاتی جوش یا وقتی جذبے کے تحت نہیں بلکہ ایک واضح شعور اور فیصلہ کے ساتھ مزاحمت کا راستہ اختیار کرتی ہے۔
تنظیم سے وابستگی کے بعد قدرت اللہ نے نہایت کم عرصے میں اپنی سنجیدگی، ضبط اور ثابت قدمی کے ذریعے خود کو ایک ایسے کارکن کے طور پر منوایا جس پر مشکل ترین ذمہ داریاں سونپی جاسکتی تھیں، مجید بریگیڈ میں شمولیت محض عسکری تربیت کا نتیجہ نہیں ہوتی بلکہ ایک ذہنی اور اخلاقی مرحلے سے گزرنے کے بعد حاصل ہونے والی ذمہ داری ہوتی ہے، اور قدرت اللہ نے یہ مرحلہ غیر معمولی پختگی کے ساتھ طے کیا۔
آپریشن ہیروف کے دوران کوئٹہ میں ہونے والی جنگ ان کی زندگی کا آخری مگر سب سے نمایاں باب ثابت ہوئی ریڈ زون کے قریب ریلوے اسٹیشن کے مقام پر انہوں نے گھنٹوں دشمن فورسز کے ساتھ لڑائی لڑی۔
شدید جھڑپوں کے دوران انہیں گولی لگی، مگر زخمی ہونے کے باوجود ان کے رویئے میں نہ عجلت تھی نہ اضطراب وہ ایک ایسے سکون کے ساتھ تھے جو صرف اسی شخص کے حصے میں آتا ہے جس نے اپنے فیصلے کے ساتھ مکمل صلح کرلی ہو۔
ان کے آخری لمحات اس ویڈیو میں محفوظ ہیں بارود سے بھری گاڑی میں بیٹھے ہوئے وہ اپنے ساتھیوں کو مسکراتے ہوئے رخصت کرتے ہیں ان کے چہرے پر نہ خوف ہے نہ بے یقینی بلکہ ایک گہرا اطمینان ہے۔ وہ اپنے ساتھیوں سے کہتے ہیں ہم ایک ساتھ ہیں، ہم آزادی تک ایک ساتھ ہیں، اسے (پاکستان) سلامت چھوڑنا مت۔
ایک ساتھی ان کے ماتھے پر بوسہ دے کر رخصت کرتا ہے، اور وہ سکون کے ساتھ اس گاڑی کو خود چلاتے ہوئے ریڈ زون کی جانب بڑھتے ہیں، جہاں وہ اپنے ہدف سے ٹکرا کر شہید ہوجاتے ہیں۔
قدرت اللہ کی شخصیت کو سمجھنے کے لیئے ان کے ان آخری لمحوں کو دیکھنا کافی ہے مزاحمت کے میدان میں سب سے بڑی طاقت شور یا شدت نہیں بلکہ وہ خاموش یقین ہوتا ہے جو انسان کو اپنے انجام سے بے خوف کردیتا ہے۔ ان کی مسکراہٹ اسی یقین کی علامت تھی۔
ان کے کزن، شہید فدائی عبدالسلام عرف نصراللہ، بھی اسی جدوجہد کا حصہ تھے اور شہید ہوئے شہید فدائی قدرت اللہ کرد عرف مجید بلوچ کی زندگی اور شہادت ہمیں یہ سمجھاتی ہے کہ مزاحمت صرف میدانِ جنگ میں نہیں ہوتی بلکہ وہ اس لمحے میں بھی موجود ہوتی ہے جب ایک انسان اپنے فیصلے کے ساتھ مکمل سکون سے کھڑا ہو۔ تاریخ کی سب سے بلند آواز وہی خاموش مسکراہٹ ہوتی ہے جو انجام سے پہلے چہرے پر ٹہرجاتی ہے۔
تنظیم نے فتح اسکواڈ کے رکن سوراپ پنجگور کے رہائشی شمس الحق عرف عمر جان ولد مراد جان کے حولے بتایا کہ انکی عمر 26 سال تھا اور 2023 میں بی ایل اے کا حصہ بنیں اور نوشکی کے محاذ پر شہید ہوئے۔
پنجگور کے علاقے سوراپ سے تعلق رکھنے والا 26 سالہ نوجوان شمس الحق عرف عمر جان، اس فکری و عسکری پختگی کا علامت تھا جو بہت کم عرصے میں بڑے اہداف حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے ستمبر 2023 میں قومی تحریک کا حصہ بننے کے بعد، شمس الحق نے اپنی جنگی مہارت اور غیر معمولی نظم و ضبط کی بدولت جلد ہی تنظیم کے ہراول دستے ‘فتح اسکواڈ’ میں اپنی جگہ بنا لی۔
ان کا مختصر مگر بھرپور عسکری سفر بولان کی سنگلاخ وادیوں، چمالنگ کے پہاڑوں اور قلات کے کٹھن محاذوں پر پھیلا ہوا ہے، جہاں انہوں نے ہر معرکے میں اپنی جرات کا لوہا منوایا۔
شمس الحق ان منتخب جانثاروں میں شامل تھے جنہوں نے ‘درہ بولان آپریشن’ کے پہلے مرحلے میں دشمن کے دانت کھٹے کیئے وہ محض ایک جنگجو نہیں بلکہ ایک سٹریٹجک سپاہی تھے جو میدانِ جنگ کی باریکیوں کو سمجھنے اور دشمن پر کاری ضرب لگانے کا فن جانتے تھے، ان کی شخصیت میں موجود خاموشی اور مقصد سے لگن نے انہیں اپنے ساتھیوں میں نہایت معتبر بنا دیا تھا۔
شہادت کے وقت شمس الحق ‘آپریشن ہیروف فیز 2’ کے دوران نوشکی کے محاذ پر سینہ سپر تھے نوشکی کی جھڑپوں میں دشمن کے سامنے آہنی دیوار بن کر کھڑے رہنے والے اس نوجوان نے اپنی مٹی کی حرمت پر سمجھوتہ کرنے کے بجائے جامِ شہادت نوش کرنا پسند کیا۔
لال بخش عرف درپشان ولد رسول بخش سکنہ کرکی تربت نے 10 اگست 2025 میں بی ایل اے میں شمولیت اختیار کی اور وہ ایس ٹی او ایس کا حصہ تھے نوشکی میں شہید ہوئے۔
تربت کے علاقے کرکی سے تعلق رکھنے والے لال بخش عرف درپشان کا انتخاب اس حقیقت کا آئینہ دار ہے کہ جب وطن پر آزمائش آئے تو قوم کے بہترین ذہن کتابیں چھوڑ کر مورچہ سنبھال لیتے ہیں لال بخش ایک ہونہار طالب علم تھے، جنہوں نے ایف ایس سی کے بعد طب کے شعبے میں جانے کے لیئے تیاری شروع کی تھی، تاکہ وہ بطور ڈاکٹر انسانیت کی خدمت کر سکیں، لیکن دھرتی کے زخموں نے انہیں مسیحائی کے ایک الگ راستے پر گامزن کردیا۔
لال بخش کا تعلق ایک ایسے عظیم المرتبت گھرانے سے ہے جس کے خون نے تحریکِ آزادی کی آبیاری کی ہے وہ شہید شاہمیر، شہید امیر اور معروف فدائین، فدائی فاروق، فدائی سوالی اور فدائی بلال کے کزن تھے ایسے ماحول میں پرورش پانے والے نوجوان کے لیئے اپنی مٹی کی پکار کو نظر انداز کرنا ممکن نہ تھا۔
انہوں نے 10 اگست 2025 کو باقاعدہ طور پر مسلح جدوجہد کا راستہ چنا اور اپنی ذہانت و عزم کی بدولت تنظیم کے خصوصی دستے ‘ایس ٹی او ایس’ کا حصہ بنے۔
قلات کے محاذ پر متحرک رہنے کے بعد، لال بخش ‘آپریشن ہیروف فیز 2’ کے دوران نوشکی میں دشمن کے خلاف برسرِ پیکاررہے، نوشکی کی شدید جھڑپوں میں انہوں نے اپنی خاندانی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے نہایت جرات مندی سے مقابلہ کیا اور جامِ شہادت نوش کر کے اپنے عظیم کزن شہداء کی فہرست میں اپنا نام درج کروا دیا، لال بخش کی قربانی اس عزم کی علامت ہے کہ بلوچستان کا پڑھا لکھا نوجوان اپنی ذاتی ترقی پر قومی آزادی کو مقدم رکھتا ہے۔
تنظیم نے کہا ہے کہ کلی مینگل نوشکی کے رہائشی عاطف شاہ عرف آغا مرید ولد شکور شاہ 15 ستمبر 2025 میں بی ایل میں شامل ہوئے اور ایس ٹی او ایس کا حصہ تھے نوشکی کے محاذ پر شہادت پائی۔
عاطف شاہ عرف آغا مرید اس نظریاتی پختگی کی مثال تھے جہاں ایک نوجوان اپنی زمین کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے اپنی زندگی کے تمام ذاتی خوابوں کو قومی آزادی کے عظیم مقصد کے لیئے وقف کردیتا ہے نوشکی کے علاقے کلی مینگل سے تعلق رکھنے والے عاطف شاہ ستمبر 2025 میں اس وقت مسلح جدوجہد کا حصہ بنے جب بلوچستان کی سرزمین ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑی تھی۔
ان کی ذہانت اور جنگی جوہر کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں تنظیم کے خصوصی دستے ‘ایس ٹی او ایس’ میں شامل کیا گیا جہاں انہوں نے قلیل مدت میں خود کو ایک بااعتماد سپاہی کے طور پرمنوایا۔
عاطف شاہ کا تعلق اسی مٹی سے تھا جہاں انہوں نے آخری سانس تک لڑنے کا عہد کیا تھا آپریشن ہیروف فیز 2 کے دوران جب نوشکی کا محاذ دشمن کے خلاف ایک میدانِ جنگ بن گیا تو عاطف شاہ نے اپنے مقامی جغرافیائی علم اور عسکری تربیت کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے ہراول دستے میں رہ کر مقابلہ کیا، نوشکی کی شدید جھڑپوں میں انہوں نے بہادری کی نئی داستان رقم کی اور اپنی جائے پیدائش کی حفاظت کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔
فتح اسکواڈ کے گشتی کمانڈر اسفند قمبرانی عرف روکین ولد منور علی نومبر 2024 میں تنظیم کا حصہ بنیں اور قلات میں شہید ہوئے شہید اسفند قمبرانی کا تعلق کوئٹہ سے تھا۔
بی ایل اے میں شمولیت کے بعد انتہائی کم عرصے میں اپنی عسکری صلاحیتوں کی بنا پر انہیں قلات کے محاذ پر گشتی کمانڈ کی ذمہ داری سونپی گئی اور ساتھ ہی انہیں تنظیم کے ہراول دستے ‘فتح اسکواڈ’ میں بھی شامل کیا گیا۔
شہید اسفند سنگلاخ پہاڑوں طویل محاصروں اور بارودی فضا میں بھی فولادی حوصلہ رکھتے تھے وہ تھکن، قلتِ رسد اور مسلسل دباؤ کو جنگ کا لازمی حصہ سمجھ کر برداشت کرتے اور آخری لمحے تک اپنی پوزیشن نہیں چھوڑتے تھے، ان کی پیش قدمی خاموش مگر کاری ہوتی تھی اور ان کی استقامت ساتھیوں کے لیے عملی مثال بن جاتی تھی۔
انہوں نے ثابت کر دیا کہ جنگِ آزادی میں برتری اسی کو ملتی ہے جو صبر کو ہتھیار، نظم کو ڈھال اور عزم کو اپنی اصل قوت بنالے۔
شہید اسفند 6 دسمبر 2025 کو جب ‘آپریشن ھیروف’ کی تیاریوں کے ایک اہم مشن پر تھے، قلات کے سنگلاخ پہاڑوں میں دشمن سے سامنا ہوا وہ اپنی فتح اسکواڈ کی ٹیم کے ساتھ میدانِ جنگ کی فرنٹ لائن پر ڈٹے رہے جہاں ان کی بہادری، متحرک جنگی حکمتِ عملی اور نظم و ضبط نے دشمن کو پسپائی اختیار کرنے پر مجبور کیا شہید اسفند اپنی جان کا نذرانہ پیش کرکے جنگِ آزادی کی تاریخ میں امر ہوگئے۔

















































