دالبندین شہر اور کوئٹہ–تفتان شاہراہ پر بی ایل اے کا مکمل کنٹرول – بی ایل اے

1

بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری کیئے گئے ایک بیان میں کہا ہے کہ بی ایل اے کے سرمچاروں نے گزشتہ دو روز کے دوران بلوچستان بھر میں دشمن قوتوں اور استحصالی نیٹ ورکس پر کاری ضربیں لگاتے ہوئے 10 کامیاب کارروائیاں کیں، جن میں دالبندین شہر کا مکمل کنٹرول حاصل کرنا بھی شامل ہے۔ ان مربوط حملوں میں قابض پاکستانی فوج کے 11 اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے، جبکہ استحصالی کمپنیوں سے منسلک متعدد گاڑیوں کو تباہ اور اہم شاہراہوں پر سرمچاروں کا کنٹرول برقرار رکھا گیا۔

انہوں نے تفصیلات جاری کرتے ہوئے کہا کہ 15 مئی: مستونگ کے علاقے کانک میں کوئٹہ–تفتان مرکزی شاہراہ پر سرمچاروں نے بلوچ وسائل کی لوٹ مار میں مصروف، معدنیات (کرومائیٹ) لے جانے والے 5 بڑے ٹریلرز کو اپنی تحویل میں لینے کے بعد نذرِ آتش کر دیا۔
اسی روز مستونگ کے ہی علاقے شیخ واصل میں کوئٹہ–تفتان مرکزی شاہراہ پر واقع ایک اہم پُل کو سرمچاروں نے دھماکہ خیز مواد نصب کر کے مکمل طور پر تباہ کر دیا، جس سے دشمن کی رسد کا نظام معطل ہو گیا۔
نوشکی میں مَل کے مقام پر سرمچاروں نے کوئٹہ–تفتان مرکزی شاہراہ کا مکمل کنٹرول حاصل کرکے گھنٹوں تک اسنیپ چیکنگ کی، جس کے دوران سیندک پروجیکٹ سے منسلک 4 مشکوک افراد کو تفتیش کے لیئے حراست میں لیا گیا۔ اس دوران قابض پاکستانی فوج نے علاقے میں پیش قدمی کی ناکام کوشش کی، جسے پوزیشن سنبھالے سرمچاروں نے بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنایا۔ اس حملے میں دشمن فوج کے 2 اہلکار موقع پر ہی ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے، جبکہ قابض فوج کی ایک گاڑی کو شدید نقصان پہنچا۔
خاران کے علاقے ارماگئے میں سرمچاروں نے کارروائی کرتے ہوئے معدنیات لے جانے والے 2 مال بردار ٹرکوں کو اپنی تحویل میں لیا اور بعد میں انہیں نذرِ آتش کردیا۔

“16 مئی: مستونگ کے علاقے کانک میں آباد کے مقام پر کوئٹہ–تفتان شاہراہ پر سرمچاروں نے قابض فوج کے ایک باقاعدہ قافلے کو گھات لگا کر نشانہ بنایا۔ اس مربوط حملے میں قابض فوج کے 3 اہلکار ہلاک اور کئی زخمی ہو گئے، جبکہ دشمن کی ایک فوجی گاڑی موقع پر ہی ناکارہ ہوگئی۔
تربت کے علاقے ناصر آباد میں سرمچاروں نے قابض فوج کی پوسٹ پر سرمچاروں کی نقل و حرکت مانیٹر کرنے کے لیئے نصب کردہ تمام جاسوسی کیمروں کو نشانہ بنا کر تباہ کردیا۔ اسی طرح تمپ کے علاقے حیرآباد میں بھی ریاستی جاسوسی کیمروں کے نیٹ ورک کو ناکارہ بنا دیا گیا، جبکہ زامران کے علاقے جابشان میں سرمچاروں نے قابض فوج کی واٹر سپلائی مشینری کو نشانہ بنا کر اسے شدید نقصان پہنچایا۔”

ترجمان نے کہا کہ آج ایک انتہائی منظم اور بڑے حملے میں بی ایل اے کے سرمچاروں نے دالبندین شہر کا مکمل کنٹرول حاصل کر لیا۔ مقامی پولیس تھانے سمیت تمام سرکاری عمارتیں گھنٹوں تک سرمچاروں کے مکمل کنٹرول میں رہیں۔ پولیس تھانے سے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور دیگر فوجی ساز و سامان ضبط کرکے اپنی تحویل میں لے لیا گیا، جبکہ وہاں موجود سرکاری گاڑیوں کو نذرِ آتش کردیا گیا۔ اس کارروائی کے دوران پیش قدمی کرنے والی قابض فوج کو بائی پاس کے مقام پر شدید حملوں کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں قابض فوج کے 6 اہلکار ہلاک ہوگئے جبکہ باقی اہلکار اپنے متعدد زخمی ساتھیوں کو چھوڑ کر فرار ہوگئے۔ اس کامیاب جوابی حملے میں دشمن فوج کی 2 گاڑیاں مکمل طور پر ناکارہ بنا دی گئیں۔

جیئند بلوچ نے کہا کہ بلوچ لبریشن آرمی اس پریس ریلیز کے ذریعے یہ واضح کر دینا چاہتی ہے کہ کوئٹہ–تفتان مرکزی شاہراہ پر بی ایل اے اب مکمل کنٹرول حاصل کرچکی ہے اور یہ پوری شاہراہ اب بی ایل اے کے زیرِ کنٹرول خطے کا حصہ ہے۔ ہم اب کسی بھی صورت بلوچ وسائل اور معدنیات کو لوٹ کر لے جانے والے گاڑیوں کے ٹرکوں، ٹریلرز یا کسی بھی قسم کے قافلوں کو یہاں سے گزرنے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔ جو بھی کمپنیاں، ٹھیکیدار یا ٹرانسپورٹرز بلوچ وسائل کی اس غاصبانہ لوٹ مار کا حصہ بنیں گے، وہ اپنے ہر قسم کے جانی و مالی نقصان کے خود ذمہ دار ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ بی ایل اے بلوچ عوام اور عام مسافروں کے جان و مال کے تحفظ کا مکمل عزم رکھتی ہے اور ان کی سہولت کے لیئے شاہراہوں پر ان کے ساتھ ہر ممکن تعاون کیا جائے گا۔ ہم بلوچ عوام سے بھی یہ اپیل کرتے ہیں کہ وہ مٹی سے وفاداری کا ثبوت دیتے ہوئے بی ایل اے کے سرمچاروں کے ساتھ اپنا تعاون اسی طرح جاری رکھیں، جس طرح انہوں نے اب تک برقرار رکھا ہے، تاکہ کسی بھی عام بلوچ شہری کو نقصان پہنچائے بغیر دشمن کے اس استحصالی اور لوٹ مار کے روٹ کو ہمیشہ کے لیئے بلاک کیا جاسکے۔ یہ تمام وسائل صرف اور صرف بلوچ قوم کی ملکیت ہیں، لہٰذا اپنے قومی سرمائے کو اس ریاستی لوٹ مار سے بچانا ہم سب کا مشترکہ اور اولین قومی فریضہ ہے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ ہم ان تمام مقامی و غیر مقامی کمپنیوں اور معدنیات لے جانے والے عناصر کو آخری بار سخت اور حتمی وارننگ دیتے ہیں کہ وہ اب سرزمینِ بلوچستان سے بلوچ وسائل کو چرانے کی تمام تر کوششیں فوری طور پر ترک کر دیں، بصورتِ دیگر بی ایل اے کے سرمچاروں کی اگلی ضربیں ان کے لیئے مزید عبرت ناک ہوں گی۔