بلوچ رہنماؤں کے سروں کی قیمت مقرر کرنا ریاستی دہشت گردی کے مترادف اقدام ہے۔ بی آر پی

45

بلوچ ریپبلکن پارٹی کے مرکزی ترجمان شیر محمد بگٹی نے کہا ہے کہ پارٹی پاکستانی ریاست کی جانب سے نواب براہمدغ بگٹی اور دیگر بلوچ سیاسی رہنماؤں کے سروں کی قیمت مقرر کرنے کے اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔ یہ خطرناک اور جارحانہ فیصلہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ریاست سیاسی اختلافِ رائے کو برداشت کرنے کے بجائے اسے دبانے، خاموش کرانے اور خوف کے ذریعے کنٹرول کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

انہوں نے کہاکہ سیاسی قیادت کو انعامی فہرستوں میں شامل کرنا طاقت نہیں بلکہ کمزوری اور بوکھلاہٹ کا اظہار ہے۔ ایسے اقدامات بلوچستان کی پہلے سے کشیدہ صورتحال کو مزید سنگین بنائیں گے اور خطے میں عدم استحکام کو بڑھائیں گے۔

بگٹی نے کہاکہ بلوچستان اس وقت ایک سنگین انسانی حقوق کے بحران سے دوچار ہے۔ جبری گمشدگیاں، مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی اور ماورائے قانون قتل معمول بن چکے ہیں۔ ایسے ماحول میں سیاسی رہنماؤں کے سروں کی قیمت مقرر کرنا ریاستی جبر کو کھلے عام فروغ دینا ہے اور اس بات کا اعلان ہے کہ اختلاف رکھنے والوں کے خلاف طاقت کے استعمال کو جائز سمجھا جا رہا ہے۔

مزید کہا ہے کہ گزشتہ کئی برسوں سے ریاستی سرپرستی میں مختلف اضلاع میں جرائم پیشہ عناصر پر مشتمل ڈیتھ اسکواڈز تشکیل دے کر سیاسی کارکنوں اور ان کے اہلِ خانہ کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ اب ریاست خود کھلے عام سیاسی رہنماؤں کو نشانہ بنانے کا اعلان کر رہی ہے، جو ریاستی دہشت گردی کے مترادف ہے۔

بلوچ ریپبلکن پارٹی عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیموں اور جمہوری حکومتوں سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اس خطرناک پیش رفت کا فوری نوٹس لیں اور بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔