چمن کی عدالت میں پیشی کے دوران عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) بلوچستان کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی کو گرفتار کر لیا گیا۔ دوسری جانب، تیمور شاہ کے والد ظاہر شاہ نے وضاحتی بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کیس میں اصغر خان اچکزئی کا کوئی قصور نہیں اور نہ ہی ان کا اس معاملے سے کوئی تعلق ہے۔
ظاہر شاہ نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ کلمہ پڑھ کر کہتے ہیں کہ اس کیس میں اصغر خان اچکزئی کا کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ گزشتہ روز بھی عدالت میں اپنا بیان ریکارڈ کرا چکے ہیں۔
اصغر خان اچکزئی کی گرفتاری کے بعد عوامی نیشنل پارٹی خیبر پختونخوا کے صدر میاں افتخار حسین، اے این پی کے صدر عبدالرحیم وزیر ایڈووکیٹ اور پاکستان بار کونسل کے رکن منیر احمد خان کاکڑ نے گرفتاری پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے قانونی تقاضے پورے کرنے، شفاف عدالتی کارروائی اور منصفانہ سماعت یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
اے این پی خیبر پختونخوا کے صدر میاں افتخار حسین نے اصغر خان اچکزئی کی گرفتاری کو انصاف کے تقاضوں کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی رہنماؤں کو اس انداز میں گرفتار کرنا عدل و قانون کی بالادستی پر سوالیہ نشان ہے۔ ان کے مطابق، جب مقدمے کے مدعی کی جانب سے وضاحتی بیانِ حلفی سامنے آچکا ہے تو متعلقہ حکام کو تمام حقائق اور شواہد کی روشنی میں قانون کے مطابق فیصلہ کرنا چاہیے۔
میاں افتخار حسین نے کہا کہ ضمانت خارج ہونے کے بعد اصغر خان اچکزئی کی گرفتاری نے کئی شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ مقدمے کے مدعی کے عدالت میں دیے گئے بیان اور جمع کرائے گئے بیانِ حلفی کو کیوں نظر انداز کیا جا رہا ہے؟ انہوں نے یہ بھی سوال کیا کہ آیا اس مقدمے کو جواز بنا کر اصغر خان اچکزئی پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی رہنماؤں کو مقدمات اور گرفتاریوں کے ذریعے دباؤ میں لانے سے نہ عوامی مسائل حل ہوں گے اور نہ ہی سیاسی آوازوں کو خاموش کیا جا سکے گا۔ ان کے مطابق، کسی بھی الزام کا فیصلہ سیاسی انتقام کے بجائے شفاف عدالتی کارروائی کے ذریعے ہونا چاہیے اور ہر شہری کو منصفانہ سماعت کا حق دینا متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے۔
میاں افتخار حسین نے مطالبہ کیا کہ اصغر خان اچکزئی کے معاملے میں تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں، بیانِ حلفی سمیت متعلقہ شواہد کو مقدمے کا حصہ بنایا جائے اور انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی خیبر پختونخوا اصغر خان اچکزئی کے ساتھ بھرپور اظہارِ یکجہتی کرتی ہے اور آئین، قانون اور جمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے اپنا مؤقف ہر فورم پر پیش کرتی رہے گی۔
دوسری جانب، اے این پی فیڈرل کیپیٹل اسلام آباد کے صدر عبدالرحیم وزیر ایڈووکیٹ نے بھی اصغر خان اچکزئی کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی و جمہوری آوازوں کو قانونی کارروائی کی آڑ میں دبانے کا کوئی بھی تاثر ناقابلِ قبول ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر مقدمے کا مدعی عدالت کے روبرو بیان دے اور حلفیہ بیان جمع کرا کر واضح کرے کہ ایف آئی آر میں اصغر خان اچکزئی کا نام شامل کرنے سے اس کا یا اس کے خاندان کا کوئی تعلق نہیں، تو اس کے بعد گرفتاری کا اقدام بادی النظر میں سنگین قانونی و آئینی سوالات پیدا کرتا ہے۔
عبدالرحیم وزیر ایڈووکیٹ کے مطابق، قانون کا بنیادی تقاضا ہے کہ ہر کارروائی شفاف، منصفانہ اور ٹھوس قانونی بنیادوں پر کی جائے، کیونکہ کسی شہری کی آزادی سلب کرنا معمولی معاملہ نہیں، خصوصاً اس وقت جب مقدمے کے مدعی کا اپنا بیان ریکارڈ پر موجود ہو۔
انہوں نے اصغر خان اچکزئی کو ایک قدآور سیاسی رہنما، بے خوف جمہوری آواز اور پشتون، بلوچ سمیت تمام محکوم اقوام کے حقوق کا توانا ترجمان قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ عوامی مسائل پر بلاخوف آواز اٹھاتے آئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اصغر خان اچکزئی کا خاندان پہلے بھی سیاسی جدوجہد کے دوران اپنے پیاروں کی شہادتوں کا صدمہ برداشت کر چکا ہے، تاہم مقدمات اور گرفتاریوں کے ذریعے ایسی آواز کو خاموش کرنے کی کوشش کامیاب نہیں ہوگی۔
عبدالرحیم وزیر ایڈووکیٹ نے اربابِ اختیار سے مطالبہ کیا کہ آئین اور قانون کی بالادستی یقینی بنائی جائے اور ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے جن سے سیاسی انتقام یا آزادیٔ اظہار کو محدود کرنے کا تاثر پیدا ہو۔
ادھر، پاکستان بار کونسل کے رکن منیر احمد خان کاکڑ نے بھی اصغر خان اچکزئی کی گرفتاری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی شہری کے بنیادی، قانونی اور آئینی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے۔
منیر احمد خان کاکڑ کے مطابق، مقدمے میں بیانِ حلفی جمع کرانے والے شخص نے اصغر خان اچکزئی سے بھائیوں جیسے تعلقات اور مقدمے سے ان کی لاتعلقی کا بیان دیا تھا۔ اس کے باوجود ضمانت خارج ہونے اور گرفتاری کے معاملے پر سنجیدہ قانونی سوالات پیدا ہوتے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ قانون کی بالادستی، شفاف عدالتی عمل اور منصفانہ سماعت کو یقینی بنایا جائے اور ہر شہری کو اپنے دفاع کا مکمل قانونی حق دیا جائے۔













































