واھگ – سنگت ھانلی

56

واھگ

تحریر: سنگت ھانلی

دی بلوچستان پوسٹ

(میرا نام واھگ بزدار ہے۔ میں آپ کا گشتی کمانڈر ہوں، ایک نفسیات کا طالب علم، سپاہی، جنگ کا ناقص حصہ، اور مقبوضہ بلوچستان کا ایک غلام۔

مقبوضہ بلوچستان؟ ہم سب مقبوضہ بلوچستان سے ہی تو ہیں ۔۔۔

تم ایک بار نوآبادیاتی تسلط کا شکار ہوئے ہو۔

میں دو بار۔

مطلب؟

ڈیرا غازی خان ۔۔۔)

کس کو خبر تھی کہ میرے تحاریر کا پہلا مداح، ایک روز خود میری تحریر کا عنوان بن جائے گا؟ اور جب ایسا ہوگا تو خیالات قفسِ سکوت سے آزاد ہو جائیں گے، گمان و خیال یوں اترنے لگیں گے کہ اس کے بارے میں لکھتے ہوئے زبان پر ایک گونگیت طاری ہو جائے گی۔

کردار ایسا بلند کہ بلند سے بلندی کی انتہا بھی اس کے سامنے سرنگوں ہو جائے۔ جب کسی سرمچار کا کردار لکھنے بیٹھوں تو قلم سے سیاہی، بازو سے خون اور آنکھوں سے بینائی چھن جائے۔

نادان کہتا ہے کہ

تقدیر دنو بخت دنو شین دنو اف
دا دن کہ ننا یاکو قسم پین دنو اف

واھگ یعنی ارمان۔

ارمان کے ساتھ ایک قلم کار، ایک مہربان دوست، ایک عمیق انسان، نفسیات کا طالب علم اور ایک سپائی۔ واھگ ہر چیز کا نچوڑ ہے۔ واھگ لامکاں و لافنا ہے، واھگ احساسِ انقلاب ہے۔ وہ ہر اس جگہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ ہے جہاں ساتھی خود اپنے ساتھ بھی کھڑا نہ رہ سکے۔ واھگ مشکل اوقات میں صبح تک جاگ کر تسلی دینے والا مہروان ہے۔ واھگ وہ سب کچھ ہے جو ایک انقلابی ہوسکتا ہے۔

(ہاں، ڈیرا غازی خان۔ ڈیراجات کی وہ سرزمین جہاں بلوچ آبادی کی تاریخ کم از کم پندرھویں صدی تک جاتی ہے۔ کبھی یہاں بلوچ قبائلی اقتدار تھا، کبھی افغان اور سکھ سلطنتوں کی عمل داری، پھر 1849ء میں برطانوی قبضہ۔ تقسیمِ ہند کے بعد یہی خطہ پاکستان کا حصہ بنا اور بالآخر پنجاب کے انتظامی نقشے میں شامل ہوگیا۔

تو آپ بلوچ بھی ہو اور پنجاب کے رہنے والے بھی۔۔)

یہ جنگ کی سوغاتیں ہیں، سنگت۔ تمہیں اچانک ہی بتا دیا جائے گا، بہت آرام سے، کہ تم اپنا ایک ساتھی کھو چکے ہو۔

اور پھر؟

اور پھر کیا؟ تم اٹھو گے، آنسو پونچھو گے اور واپس جنگ کی تیاری میں لگ جاؤ گے۔

بس، اتنا ہی۔

جنگ کے اپنے اصول بھی ہیں۔۔ تم اس کی آخری رسومات میں بھی شریک نہیں ہو سکو گے۔ تمہارے پاس بس اس کی آخری باتیں ہوں گی، جو تمہیں آخری وقت تک یاد رہیں گی۔ اس کے بعد کچھ نہیں۔

اینو ولدا قبر ئس خنتون
ولدا تینا لاد ئس گوہان

رات آہستہ آہستہ گہری ہوتی جا رہی ہے۔ سامنے ایک چھوٹا سا، ٹمٹماتا ہوا چراغ ہے، جس کی روشنی بس اتنی ہے کہ سیاہی اور کاغذ دکھائی دے سکیں۔ دور کہیں کسی بھیڑیے کی آواز رات کے سکوت کو چیرتی ہوئی ریڑھ کی ہڈی میں سنسنی اتار رہی ہے۔

(پتا ہے، جب میں پہلی بار محاذ پر گیا تھا تو بندوق تھامتے ہوئے میرے ہاتھ کانپ رہے تھے۔)

سیاہی پھیلتی جا رہی ہے، بالکل رات کی طرح۔ سیاہ، خوف ناک، الجھی ہوئی۔ خیالات ساتھ نہیں دے رہے، ذہن سُن پڑا ہے، مگر ایک جستجو ہے کہ لکھنا ہے۔ کیسے لکھنا ہے، یہ معلوم نہیں۔

(تمہیں پتا ہے، آج کل تو سفر کے لیے گاڑیاں ہیں، ورنہ ہم چوبیس چوبیس گھنٹے رکے بغیر سفر کرتے تھے۔ اس طرح کہ پاؤں کی کھال تک چھل جاتی تھی۔ اور چوٹ کے نشانات مہینوں پاؤں سے نہیں جاتے تھے)

اس کے بلوچی بولنے کا لہجہ کوہِ سلیمان جیسا تھا۔ اتنا مخصوص کہ بات سمجھنے کے لیے دو دو بار دہرانے کی درخواست کرنا پڑتی تھی۔ شکل و صورت، رنگ و روپ، سب خالص کوہِ سلیمانی۔ وہ اپنی شناخت نہ بھی بتاتا، تب بھی اسے پہچاننا مشکل نا تھا۔

(تم ایک اچھی لکھاری ہو۔ بلاشبہ، بہت اچھی لکھاری۔ اور پتا ہے کیوں؟ کیونکہ تم وطن پر لکھتی ہو، جدوجہد پر لکھتی ہو۔ تمہارے لفظوں میں جو کشش ہے وہ انہی سے آتی ہے۔ جس دن تم ان پر لکھنا چھوڑ دو گی، تم بھی ایک عام لکھاری رہ جاؤ گی)

نفسیات اسکا مضمون تھا اور پہلا سائیکولوجکل ٹراما وہ جغرافیائی زخم تھا جس پر اس کا گھر کسی اور کے نام لکھا گیا تھا۔ ڈو بوئس اسے ڈبل کانشئیسنیس کہتا ہے، جہاں انسان خود کو اپنی نگاہ سے بھی دیکھتا ہے اور اس نگاہ سے بھی جس نے اسے ایک غلط شناخت دی ہو۔ مجھے نہیں معلوم وہ خود اپنی ذات کو ان اصطلاحات میں دیکھتا بھی تھا یا نہیں، مگر اس کی سرزمین اور شناخت کا معاملہ ان نظریات کو سمجھنے کا ایک زاویہ ضرور فراہم کرتا ہے۔ کاغذ اسے پنجاب کا ایک ٹکڑا کہے، مگر خون اسے بلوچستان سے جوڑے۔ نقشے کی لکیر اور شناخت کی سرحد ایک دوسرے سے مختلف تھیں۔ اسی لیے اس کی باتیں نفسیات سے شروع ہوکر وطن پر ختم ہوتی تھیں۔ اس نے اپنی ذات کے تضادات کو کسی کتابی اصطلاح میں قید کرنے کے بجائے انہیں اپنے لفظوں میں ڈھالنے کی کوشش کی۔ کیونکہ انسان اپنے وجود کو سمجھنے کے لیے نفسیات کی کتاب کھولتا ہے، اور اسے اپنے اندر تاریخ کا ایک پورا باب ملتا ہے۔

تصور کچھ یوں ہے کہ نفسیات کی جماعت میں شناخت کے بحران کا باب کھلا اور استاد نے بلند آواز سے پڑھنا شروع کیا۔ باقی طلبہ نے اسے ایک نظریہ جان کر نوٹ بک میں اتار لیا، مگر ایک طالب علم نے اسے اپنی سرگزشت کی طرح سنا۔ صفحوں میں اس کے قوم کا نام کہیں درج نہیں تھا، مگر ہر سطر میں اس کا مسئلہ موجود تھا۔

“نوآبادیت اس وقت جنم لیتی ہے جب کوئی بیرونی طاقت کسی سرزمین میں اتر کر وہاں اپنا نظام، اپنی زبان اور اپنے قانون رائج کر دے۔ لیکن جب وہی طاقت کسی خطے کو الگ رہنے دینے کے بجائے اپنے وجود میں ضم کر لے، اسے اپنی ہی حدود کا حصہ ٹھہرا دے، تو اس عمل کے لیے ایک اور اصطلاح بنی، داخلی نوآبادیت۔ یہ زیادہ گہری ہوتی ہے، کیونکہ یہاں قابض کو جانا نہیں ہوتا، اس لیے محکوم کو کوئی روانگی کا دن نظر نہیں آتا۔

اب اس کے اثرات دیکھو۔ نگوگی وا تھیانگو کہتا ہے کہ نوآبادیت کا سب سے گہرا وار ایک ثقافتی بم ہوتا ہے، جو محکوم کو اس کے نام، اس کی زبان، اس کی تاریخ اور اس کی اپنی صلاحیتوں پر یقین سے محروم کر دیتا ہے۔ اس کے نزدیک زبان اپنے قوم سے جڑنے کا ظرف ہے، اس لیے جب ماں کی زبان کو کم تر اور حاکم کی زبان کو معیار ٹھہرایا جائے تو قوم خود سے کٹ جاتی ہے۔ البرٹ میمی کے مطابق قابض محکوم کی ایک تصویر بناتا ہے اور اتنی بار دہراتا ہے کہ محکوم اسے اپنا چہرہ سمجھ بیٹھتا ہے۔ اور پاؤلو فریرے کی بات سب سے تلخ ہے کہ جبر کی آخری فتح وہ ہے جب محکوم کے اندر ایک چھوٹا سا آقا بس جائے۔”

استاد نے کتاب بند کی ہوگی، تختے سے آخری لفظ مٹایا ہوگا اور کمرے سے نکل گیا ہوگا۔۔ باقی طلبہ نوٹ بکس سمیٹ کر ایک ایک کر کے اٹھ گئے اور جماعت خالی ہوتی گئی۔ مگر ایک طالب علم اپنی نشست پر بیٹھا رہا۔ اس کے سامنے کھلی کاپی میں چند سطریں تھیں اور ذہن میں ہزاروں سوچیں۔ وہ نقشہ جس پر اس کا گھر کسی اور کے نام لکھا تھا، وہ زبان جو پہاڑ پر بولی جاتی تھی اور شہر میں چھپانی پڑتی تھی، وہ سوال جس کا جواب استاد دے کر نہیں گیا۔ تختے پر مٹے ہوئے لفظ کی دھندلی سی لکیر باقی تھی۔ وہ دیر تک اسے دیکھتا رہا۔

رات اب بھی گہری ہے اور چراغ کی لو اب بھی کانپ رہی ہے۔ مجھے نہیں معلوم وہ طالب علم اس دن کتنی دیر بیٹھا رہا، مگر اتنا جانتی ہوں کہ جو سبق جماعت نے نہیں دیا تھا، وہ اس نے خود لکھا۔ آج وہی سبق میرے سامنے کھلا ہے، اور میں اس کے سامنے خالی ذہن کے ساتھ بیٹھی ہوں۔

کہتے ہیں فنا بقا کا پہلا دروازہ ہے۔ میں نہیں جانتی یہ کتنا سچ ہے، مگر اتنا جانتی ہوں کہ جب تک کوئی نام لکھا اور پکارا جاتا رہے، اس کی غیر حاضری ایک طرح کی حاضری ہے۔ جس نے اپنے لیے کوئی گھر نہ پایا، اس نے لفظوں میں اپنا گھر بنا لیا، اور وہ گھر کالونائیز نہیں ہوسکتا۔

بولان اسکا محاز تھا ۔۔ اور بولان تو ہمیں ہر شئے سے زیادہ عزیز ہے۔۔ جو چیز عزیز ہوتی ہے، اس کا نام زبان پر آتے ہی لہجہ نرم ہو جاتا ہے۔ ہم نے بولان کے پہاڑوں کو اسی نرمی سے پکارا ہے ہمیشہ ۔۔۔ لکّڑ، بزگر، مارگٹ، سارو، یخو۔ یہ ہمارے لیے گھر کے بزرگوں کے ناموں کی طرح ہیں، جنہیں ہم نے اس لیے یاد رکھا کہ انہوں نے ہمیں پناہ دی۔ محبت کی پہلی صورت یہی ہے کہ آدمی کسی شے کو اس کے اپنے نام سے پکارنے کا حق مانگے۔ نقشہ نویس نام بدل سکتا ہے، مگر عزیز کو اس کے پرانے نام سے بلانے والا ہر بار ایک چھوٹی سی بغاوت کرتا ہے۔ اور جو ان پہاڑوں کو ان کے نام سے پکارتا ہوا ان کے دامن میں اترے، پہاڑ اسے کبھی اجنبی نہیں سمجھتے۔ تو پھر نام کس لیے ہیں؟ ان کے لیے جو گزر جاتے ہیں، تاکہ پیچھے رہ جانے والوں کو معلوم رہے کہ جانے والا کن راستوں سے ہو کر گیا تھا۔۔ اور تم بولان سے ہوکر گئے ہو سیبُل کو۔

واھگ۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔