“میرے شہر میں محبت کا قحط ہے”
تجریر: ملک عیسی خان رند
دی بلوچستان پوسٹ
کچھ شہر بارشوں کے باوجود پیاسے رہتے ہیں، کچھ بستیوں میں چراغ تو بہت ہوتے ہیں مگر روشنی نہیں ہوتی، اور کچھ شہروں کی گلیوں میں انسانوں کا ہجوم تو ہوتا ہے، مگر انسانیت کہیں دکھائی نہیں دیتی۔ میرا شہر بھی شاید انہی شہروں میں سے ایک ہے، جہاں مکانوں کی چھتیں بلند، بازار آباد، سڑکیں روشن اور چہروں پر مسکراہٹیں تو موجود ہیں، مگر دلوں کے اندر محبت کا قحط پڑ چکا ہے۔
میرے شہر میں محبت کا قحط ہے۔ ایسا قحط جس کی شدت کا اندازہ نہ کسی موسم کے ماہر کو ہے، نہ کسی محکمۂ آب پاشی کو ہے اور نہ کسی حکمران کی نگاہ اس کی سنگینی کو محسوس کرتی ہے۔ یہ قحط زمین پر نہیں دلوں پر اترا ہے۔ یہاں درختوں کی شاخیں تو ہری بھری ہیں مگر رشتوں کی جڑیں سوکھ رہی ہیں۔ یہاں شاہراہوں کے کنارے آباد بستیاں ہیں مگر آنکھوں میں احساس کی نمی باقی نہیں رہی۔
یہاں موسمی بارشیں بھی ہوتی ہیں، بادل بھی گرجتے ہیں، بجلی بھی چمکتی ہے مگر کسی کے دل کی زمین پر محبت کا ایک قطرہ نہیں برستا۔
عجیب شہر ہے میرا، یہاں لوگ ایک دوسرے کے قریب رہتے ہیں مگر ایک دوسرے سے بہت دور ہیں۔ دیواریں اتنی اونچی بھی نہیں ہیں مگر فاصلے بلند و بالا عمارتوں سے بھی اونچے ہو گئے ہیں۔
ایک ہی گھر میں کئی لوگ رہتے ہیں لیکن ان کے دلوں کے درمیان اجنبیت کی ایسی دیوار کھڑی ہے جسے نہ کوئی دستک گرا سکتی ہے، نہ کوئی صدا عبور کر سکتی ہے۔ ایک چھت کے نیچے بیٹھے ہوئے لوگ اپنی اپنی دنیا میں گم ہیں۔ کسی کی انگلیوں میں موبائل کی روشنی ہے تو کسی کی آنکھوں میں دولت کے خواب، کسی کے ذہن میں مقابلے کی آگ ہے مگر کسی کے پاس اتنا وقت نہیں کہ وہ اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے انسان کی خاموشی پڑھ سکے۔
کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ کیا واقعی محبت ختم ہو گئی ہے، یا ہم نے اسے پہچاننا چھوڑ دیا ہے؟
کیا احساس مر گیا ہے یا ہم نے اپنے مفادات کے بوجھ تلے اسے دفن کر دیا ہے؟ کیا دل پتھر ہو گئے ہیں یا ہم نے اپنے اندر کے انسان کو اتنی تہوں میں چھپا لیا ہے کہ اب خود ہمیں بھی اس کی آواز سنائی نہیں دیتی؟
شاید محبت ابھی زندہ ہے مگر اسے زندہ رہنے کی جگہ نہیں مل رہی۔ میرے شہر میں اب تعلقات بھی موسموں کی طرح بدلتے ہیں۔یہاں دوستی کا پیمانہ خلوص نہیں بلکہ فائدہ ہے۔ رشتوں کی مضبوطی کا معیار کردار سے نہیں بلکہ حیثیت ہے۔ اگر کوئی سلام بھی دے تو اس کے سلام میں اپنائیت کم اور ضرورت زیادہ دکھائی دیتی ہے۔
لوگ اس وقت تک آپ کے قریب رہتے ہیں جب تک آپ کے وجود سے ان کے کسی مقصد کو تقویت ملتی رہے۔ جونہی آپ کے ہاتھ خالی ہوتے ہیں، ان کی محبت کے دامن سے بھی سارے پھول جھڑ جاتے ہیں۔ کل تک جو شخص آپ کی خوشی میں شریک ہونے کے لیے بے تاب تھا، آج آپ کے دکھ کی خبر سن کر بھی خاموش رہتا ہے اور آپ کے دکھوں کا تماشہ دیکھتا ہے۔
یہاں لوگ چہروں سے محبت کرتے ہیں، کردار سے نہیں؛ دولت کو عزت دیتے ہیں، انسان کو نہیں۔ کامیابی کے قصیدے پڑھتے ہیں مگر جدوجہد کے زخم نہیں دیکھتے۔
کسی کے پاس بڑی گاڑی ہو تو اس کے لیے راستے کشادہ ہو جاتے ہیں اور اگر کسی کے پاس بڑا عہدہ ہو تو اس کی معمولی بات بھی دانش مندی قرار پاتی ہے اور کسی کے پاس کچھ نہ ہو تو اس کی سچی بات بھی بے وقعت ہو جاتی ہے۔
ایسے میں محبت کہاں جائے؟ وہ کس دروازے پر دستک دے؟ کس دل میں اپنے لیے جگہ تلاش کرے؟
محبت تو وہ فقیر ہے جس کی جھولی میں خلوص ہوتا ہے مگر دنیا اس کے ہاتھ میں دولت دیکھنا چاہتی ہے۔ محبت تو وہ چراغ ہے جو دوسروں کے لیے جلتا ہے مگر اس شہر کے لوگ اپنی اپنی روشنی محفوظ رکھنے میں مصروف ہیں۔ محبت تو وہ دریا ہے جو اپنا پانی بانٹنے سے کم نہیں ہوتا مگر یہاں ہر شخص اپنے حصے کی نمی بھی دوسروں سے چھپا کر رکھنا چاہتا ہے۔
میرے شہر میں ماں باپ بوڑھے ہو رہے ہیں اور اولاد مصروف ہوتی جا رہی ہے۔ بزرگوں کی آنکھیں دروازوں پر لگی رہتی ہیں مگر بچوں کے پاس ملاقات کے لیے وقت نہیں۔ ماں کی آواز فون کی اسکرین پر چند لمحوں کے لیے ابھرتی ہے اور پھر مصروفیت کے شور میں دب جاتی ہے۔ باپ کی خاموشی کوئی نہیں پڑھتا اور اس کے جھکے ہوئے کندھوں پر وقت کا بوجھ کوئی نہیں دیکھتا۔ جن ہاتھوں نے انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا تھا، آج وہی ہاتھ کسی سہارے کے منتظر ہیں۔
یہ کیسا ترقی یافتہ زمانہ ہے کہ انسان چاند تک پہنچنے کے خواب دیکھتا ہے مگر اپنے گھر کے ایک کمرے میں تنہا بیٹھے باپ تک نہیں پہنچ پاتا؟
یہ کیسی دنیا ہے کہ ہمارے پاس ہزاروں لوگوں سے رابطے کے ذرائع ہیں مگر ایک دکھی دل کو تسلی دینے کے لیے دو جملے نہیں؟ انسان نے فاصلے مٹانے کے لیے ٹیکنالوجی ایجاد کی لیکن اپنے درمیان ایسی خلیجیں پیدا کر لیں جنہیں عبور کرنے کے لیے کسی ٹیکنالوجی کی نہیں صرف محبت کی ضرورت ہے۔
میرے شہر میں بچے بھی محبت کے قحط کا شکار ہیں۔ ان کے ہاتھوں میں کھلونے ہیں، بستے ہیں، مہنگے لباس ہیں، مگر ان کی آنکھوں میں وہ اطمینان کم ہوتا جا رہا ہے جو والدین کی توجہ سے جنم لیتا ہے۔
ہم انہیں کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں، مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ کامیابی کی دوڑ میں کہیں ان کا بچپن پیچھے نہ رہ جائے۔ ہم ان کے نمبروں پر خوش ہوتے ہیں، ان کے انعامات پر فخر کرتے ہیں، لیکن کبھی ان کے دل کا حال نہیں پوچھتے۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ دنیا جیت لیں، مگر یہ نہیں سوچتے کہ اگر ان کے اندر محبت ہار گئی تو اس جیت کا حاصل کیا ہوگا؟ اور پھر یہی بچے بڑے ہو کر اسی شہر کا حصہ بن جاتے ہیں۔ وہی شہر جہاں کامیابی کی قیمت احساس سے، ترقی کی قیمت اپنائیت سے اور شہرت کی قیمت سکون سے وصول کی جاتی ہے۔
یہ قحط صرف گھروں تک محدود نہیں۔ بازاروں میں بھی اس کی گرد اڑتی ہے، دفتروں میں بھی اس کا سایہ ہے، تعلیمی اداروں میں بھی اس کی خاموش موجودگی محسوس ہوتی ہے۔ کسی غریب کی مجبوری پر ہنس دینا، کسی کمزور کی بے بسی سے فائدہ اٹھانا، کسی کی ناکامی کو تماشا بنا دینا، کسی کے دکھ کو اس کی اپنی غلطی قرار دے دینا، یہ سب اسی خشک سالی کی علامتیں ہیں جو ہمارے اجتماعی ضمیر پر اتر چکی ہے۔
ہم کسی کے گرنے پر ہاتھ بڑھانے سے پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ کہیں وہ ہمارا مقابل تو نہیں۔ کسی کے آگے بڑھنے پر خوش ہونے کے بجائے اپنے پیچھے رہ جانے کا غم مناتے ہیں۔ دوسروں کی خوشیوں میں شریک ہونے کے بجائے ان کی خوشیوں کے اسباب تلاش کرتے ہیں تاکہ کہیں ان کے نصیب پر شک کیا جا سکے۔ ہم نے ایک دوسرے کی کامیابیوں کو اپنی محرومیوں کا آئینہ بنا لیا ہے۔
حالانکہ محبت کا تقاضا تو یہ تھا کہ کسی کے گھر میں چراغ جلتا تو ہم اپنے آنگن سے بھی روشنی بھیجتے، کسی کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آتی تو ہمارے دل بھی کھل اٹھتے، کسی کی آنکھ نم ہوتی تو ہم اس کے آنسوؤں کو اپنی ہتھیلیوں میں سمیٹ لیتے۔
مگر افسوس! میرے شہر میں اب دوسروں کے دکھ سے زیادہ اپنی خوشیوں کی نمائش اہم ہو گئی ہے۔ لوگ اپنے زخم چھپاتے ہیں اور مسکراہٹیں دکھاتے ہیں۔ ہر شخص خوش دکھائی دینا چاہتا ہے، چاہے اس کے اندر کتنی ہی ویرانی کیوں نہ ہو۔ ہم نے سوشل میڈیا پر اپنی زندگیوں کو خوبصورت تصویروں میں قید کر دیا ہے مگر حقیقی زندگی کے بے رنگ لمحوں سے نظریں چرا لیتے ہیں۔
تصویروں میں ہم سب ایک دوسرے کے قریب ہیں مگر حقیقت میں ایک دوسرے کے لیے اجنبی ہیں۔
کتنی عجیب بات ہے کہ اب محبت کا اظہار بھی اکثر دکھاوے کا محتاج ہو گیا ہے۔ کسی کی مدد کرنے سے پہلے تصویر کی فکر، کسی غریب کو کھانا کھلانے سے پہلے تشہیر کی خواہش، کسی نیکی کے بعد تعریف کی امید! گویا نیکی بھی اب اپنے خلوص کا ثبوت دوسروں کے سامنے پیش کیے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔
حالانکہ سچی محبت وہ ہے جسے گواہوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ وہ کسی کی مدد کر کے نام نہیں پوچھتی، کسی کے آنسو پونچھ کر تصویر نہیں بناتی، کسی کے لیے راستہ آسان کر کے احسان نہیں جتاتی۔ محبت تو خاموشی سے کسی کے بکھرے ہوئے وجود کو سمیٹتی ہے اور پھر یوں گزر جاتی ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
میرے شہر میں محبت کا قحط اس لیے بھی بڑھ رہا ہے کہ ہم نے اختلاف کو دشمنی اور تنقید کو توہین سمجھ لیا ہے۔ معمولی باتوں پر تعلقات توڑ دیے جاتے ہیں، برسوں کی قربت چند لمحوں کے غصے کی نذر ہو جاتی ہے۔
معافی مانگنا کمزوری اور معاف کر دینا شکست تصور کیا جاتا ہے۔ ہر شخص اپنی انا کے تخت پر بیٹھا ہے اور چاہتا ہے کہ دوسرا جھک کر اس کی عظمت کا اعتراف کرے۔ کسی کو یہ خیال نہیں آتا کہ بعض اوقات ایک رشتہ بچانے کے لیے درست ہونے سے زیادہ مہربان ہونا ضروری ہوتا ہے۔ ہر بحث جیتنا ضروری نہیں، ہر بات کا جواب دینا لازم نہیں، ہر اختلاف کو آخری فیصلہ بنا دینا دانش مندی نہیں۔
بعض خاموشیاں رشتوں کو بچا لیتی ہیں، بعض معافیاں دلوں کو جوڑ دیتی ہیں اور بعض چھوٹے چھوٹے جھکاؤ انسان کو بڑا بنا دیتے ہیں۔ مگر ہم نے اپنی انا کو اتنا بڑا کر لیا ہے کہ اس کے سائے میں محبت کے لیے جگہ ہی نہیں بچی۔
میرے شہر کی گلیوں میں چلتے ہوئے کبھی کبھی مجھے محسوس ہوتا ہے کہ ہر شخص اپنے اندر ایک الگ صحرا اٹھائے پھر رہا ہے۔
کسی کے اندر خواہشوں کی ریت ہے، کسی کے اندر محرومیوں کی دھول، کسی کے اندر نفرت کی تپش، کسی کے اندر تنہائی کی خشک ہوائیں۔ ان سب کو پانی چاہیے مگر کوئی اپنی پیاس کا اعتراف نہیں کرتا۔ سب کو محبت چاہیے مگر کوئی پہلے محبت دینے کے لیے تیار نہیں۔
ہم چاہتے ہیں کہ کوئی ہمیں سمجھے مگر ہم کسی کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ کوئی ہماری خاموشی پڑھے مگر ہم دوسروں کے سکوت کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ کوئی ہماری غلطیوں کو معاف کرے مگر ہم دوسروں کی معمولی لغزشوں کو عمر بھر یاد رکھتے ہیں۔
ہم چاہتے ہیں کہ دنیا ہمارے لیے نرم ہو مگر اپنے لہجے کی سختی پر کبھی غور نہیں کرتے۔ شاید محبت کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ ہر شخص اس کا طلب گار ہے مگر وہ اسے بانٹنے والا بننے سے گھبراتا ہے اور پھر ایک دن ایسا آتا ہے کہ انسان لوگوں کے درمیان رہتے ہوئے بھی تنہا ہو جاتا ہے۔
اس کے فون میں سینکڑوں رابطے ہوتے ہیں مگر اس کے دکھ کی کوئی منزل نہیں ہوتی۔ اس کے پاس بات کرنے کے لیے بہت سے لوگ ہوتے ہیں مگر دل کھولنے کے لیے کوئی ایک شخص نہیں ہوتا۔ وہ ہنستا ہے تو لوگ اس کی ہنسی دیکھتے ہیں اور اگر وہ روتا ہے تو اپنے آنسو چھپا لیتا ہے۔ اس کے اندر ایک پوری داستان بکھری ہوتی ہے مگر سننے والا کوئی نہیں ہوتا۔
یہی تو محبت کے قحط کی سب سے ہولناک صورت ہے کہ انسان کی زندگی میں لوگ تو موجود ہوں مگر کوئی اپنا موجود نہ ہو۔
مجھے کبھی کبھی اپنے شہر کے ان بے نام لوگوں کا خیال آتا ہے جو خاموشی سے دوسروں کے لیے جیتے ہیں۔ وہ مزدور جو خود بھوکا رہ کر اپنے بچوں کے لیے روٹی خریدتا ہے، وہ ماں جو اپنی خواہشیں قربان کر کے گھر کو آباد رکھتی ہے، وہ باپ جو اپنے دکھ چھپا کر بچوں کے لیے امید کا چراغ جلائے رکھتا ہے، وہ استاد جو معمولی معاوضے کے باوجود نسلوں کے ذہن روشن کرتا ہے، وہ پڑوسی جو آدھی رات کو کسی کی تکلیف سن کر دروازہ کھول دیتا ہے، وہ اجنبی جو سڑک پر گرے ہوئے شخص کو اٹھانے کے لیے اپنا سفر روک لیتا ہے۔
شاید محبت مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ شاید وہ انہی لوگوں کے ہاتھوں میں ابھی تک سانس لے رہی ہے۔ شاید اس کی آخری شمع انہی چھوٹے چھوٹے جذبوں سے روشن ہے جنہیں دنیا معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیتی ہے۔
کیونکہ محبت ہمیشہ بڑے دعووں میں نہیں ملتی۔ کبھی یہ ایک گلاس پانی بن کر کسی پیاسے کے سامنے آ جاتی ہے اور کبھی کسی پریشان چہرے کے لیے تسلی کے دو لفظ بن جاتی ہے، کبھی کسی بوڑھے کے لیے چند لمحوں کی رفاقت بن جاتی ہے، کبھی کسی بچے کے سر پر شفقت بھرا ہاتھ بن جاتی ہے اور کبھی کسی شکست خوردہ انسان کے کان میں آہستہ سے کہتی ہے: ’’تم اکیلے نہیں ہو، میں تمہارے ساتھ ہوں۔‘‘
شاید میرے شہر کو کسی بڑے انقلاب سے پہلے ایسے ہی چھوٹے چھوٹے معجزوں کی ضرورت ہے۔ ہمیں کسی نئے قانون سے پہلے اپنے رویوں میں تبدیلی لانی ہوگی۔ ہمیں نئی عمارتیں تعمیر کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے اندر بھی وسعت پیدا کرنی ہوگی۔ ہمیں سڑکوں کو کشادہ کرنے سے پہلے اپنے دلوں کے راستے کھولنے ہوں گے۔ ہمیں ترقی کے نئے منصوبے بنانے کے ساتھ ساتھ یہ بھی سوچنا ہوگا کہ اس ترقی میں انسان کہاں کھڑا ہے۔
اگر ہماری عمارتیں آسمان سے باتیں کریں مگر ہمارے دل زمین پر گرے ہوئے انسان کو اٹھانے کے لیے تیار نہ ہوں تو ایسی ترقی کس کام کی؟ ہمیں اپنے گھروں میں محبت کے چھوٹے چھوٹے چراغ جلانے ہوں گے۔ والدین کے پاس بیٹھنا ہوگا، بچوں کی بات سننی ہوگی، دوستوں کی خاموشی سمجھنی ہوگی، رشتوں کی قدر کرنی ہوگی، اختلاف کے باوجود احترام کرنا ہوگا اور کسی کی ضرورت کو اپنی مصروفیت سے کمتر نہیں سمجھنا ہوگا۔
ہمیں یہ سیکھنا ہوگا کہ محبت صرف کسی کو چاہنے کا نام نہیں بلکہ اس کے لیے وقت نکالنے، اس کی عزت محفوظ رکھنے، اس کی تکلیف محسوس کرنے اور اس کی موجودگی کو اہمیت دینے کا نام بھی ہے۔
اور سب سے بڑھ کر ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ محبت مانگنے سے پہلے محبت دینا سیکھنا پڑتا ہے۔ اگر ہر شخص یہی انتظار کرتا رہے کہ پہلے کوئی دوسرا کرے تو دلوں کے درمیان فاصلے کبھی کم نہیں ہوں گے۔ کسی کو پہلا قدم اٹھانا ہوگا، کسی کو اپنی انا کا دروازہ کھولنا ہوگا۔
کسی کو نفرت کے موسم میں خلوص کا بیج بونا ہوگا۔ ممکن ہے ہماری ایک مسکراہٹ کسی اجنبی کی اداسی کم کر دے۔ ممکن ہے ہمارا ایک جملہ کسی ٹوٹے ہوئے دل کو سہارا دے دے۔ ممکن ہے ہماری ایک معافی برسوں کی ناراضی ختم کر دے اور ممکن ہے ہماری ایک چھوٹی سی نیکی کسی کے اندر محبت پر مر چکے یقین کو دوبارہ زندہ کر دے۔ آخر محبت کا قحط بھی تو انسانوں ہی نے پیدا کیا ہے اور اس قحط کا خاتمہ بھی انسان ہی کر سکتے ہیں۔
میں چاہتا ہوں کہ میرے شہر کی صبحیں صرف گاڑیوں کے شور اور بازاروں کی آوازوں سے نہ جاگیں، بلکہ دلوں میں احساس کی نئی روشنی بھی طلوع ہو۔ لوگ ایک دوسرے کو دیکھیں تو صرف چہرے نہ دیکھیں، ان کے پیچھے چھپی تھکن بھی محسوس کریں۔
کسی کی خاموشی سنیں تو اس کے اندر دبے ہوئے سوال بھی سمجھیں۔ کسی کی کامیابی دیکھیں تو حسد کے بجائے دعا دیں اور کسی کی ناکامی دیکھیں تو فیصلہ سنانے کے بجائے ہاتھ بڑھائیں۔ میں چاہتا ہوں کہ میرے شہر میں کوئی بوڑھا تنہائی کے خوف سے دروازے کی طرف نہ دیکھتا رہے، کوئی بچہ توجہ کے لیے ترستا نہ رہے،
کوئی غریب اپنی مجبوری پر شرمندہ نہ ہو، کوئی دکھی انسان اپنے آنسو چھپانے پر مجبور نہ ہو، اور کوئی شخص یہ سوچ کر رات نہ گزارے کہ اس دنیا میں اسے چاہنے والا کوئی نہیں۔
میں چاہتا ہوں کہ اس شہر کی گلیوں میں محبت پھر سے چلنے لگے۔ دروازوں پر دستک دے، بند کھڑکیوں سے اندر اترے، روٹھے ہوئے دلوں کو منائے، بکھرے ہوئے رشتوں کو سمیٹے اور ان چہروں پر مسکراہٹ واپس لے آئے جنہیں زندگی نے مدتوں سے ہنسنا بھلا دیا ہے۔
میں جانتا ہوں کہ یہ خواب آسان نہیں۔ نفرت کے درخت ایک دن میں نہیں اگتے اور محبت کے باغ بھی ایک دن میں آباد نہیں ہوتے۔ اس کے لیے صبر چاہیے، خلوص چاہیے، قربانی چاہیے اور سب سے بڑھ کر اپنے اندر جھانکنے کی ہمت چاہیے۔
ہمیں دوسروں سے پہلے خود سے سوال کرنا ہوگا کہ کیا ہم کسی کے لیے آسانی پیدا کرتے ہیں؟ کیا ہماری موجودگی کسی کے لیے سکون کا باعث بنتی ہے؟ کیا ہمارے الفاظ کسی کا دل جوڑتے ہیں یا توڑتے ہیں؟ کیا ہمارے رویوں میں اتنی نرمی ہے کہ کوئی دکھی انسان ہمارے پاس بیٹھ کر اپنے آنسو بہا سکے؟
اگر ان سوالوں کے جواب ہمارے پاس نہیں تو ہمیں اپنے شہر کو بدلنے سے پہلے خود کو بدلنا ہوگا۔ کیونکہ شہر صرف اینٹوں، پتھروں، سڑکوں اور عمارتوں سے نہیں بنتے۔ شہر ان دلوں سے بنتے ہیں جو ایک دوسرے کے لیے دھڑکتے ہیں، ان ہاتھوں سے بنتے ہیں جو ضرورت کے وقت آگے بڑھتے ہیں، ان زبانوں سے بنتے ہیں جو نفرت کے بجائے محبت بولتی ہیں اور ان کرداروں سے بنتے ہیں جو انسان کو اس کی حیثیت نہیں اس کی انسانیت کی بنیاد پر عزت دیتے ہیں۔
مجھے یقین ہے کہ اگر ہم اپنے دلوں میں محبت کے چند بیج بو دیں تو یہ شہر پھر سے سرسبز ہو سکتا ہے۔ اگر ہم کسی ایک شخص کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھ لیں تو شاید کسی دوسرے دل کی تنہائی کم ہو جائے۔ اگر ہم کسی ایک رشتے کو انا کی بھینٹ چڑھنے سے بچا لیں تو شاید کسی گھر کا سکون واپس آ جائے۔
اگر ہم کسی ایک اجنبی کے لیے آسانی پیدا کر دیں تو شاید انسانیت کے نام پر روشن ایک چراغ مزید جل اٹھے اور جب چراغ بڑھنے لگیں تو اندھیروں کو بھی اپنے قدم پیچھے ہٹانے پڑتے ہیں۔
ہاں، میرے شہر میں محبت کا قحط ہے مگر میں اب بھی امید کا دامن نہیں چھوڑتا۔
مجھے یقین ہے کہ ہر خشک زمین کے اندر کہیں نہ کہیں نمی باقی ہوتی ہے، ہر ویران باغ میں کوئی بیج زندہ رہتا ہے اور ہر بے حس دکھائی دینے والے سینے میں احساس کی کوئی نہ کوئی چنگاری ضرور چھپی ہوتی ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ کوئی اسے نفرت کی ہوا سے بچا کر محبت کی آغوش دے دے۔
میں چاہتا ہوں کہ کل جب کوئی اس شہر کے بارے میں لکھے تو اسے یہ نہ کہنا پڑے کہ یہاں لوگ بہت تھے مگر محبت نہیں تھی، بلکہ وہ یہ لکھے کہ یہاں لوگ ایک دوسرے کے لیے جیتے تھے، یہاں غم بانٹے جاتے تھے، یہاں خوشیاں تقسیم ہوتی تھیں، یہاں رشتوں کو مفاد سے نہیں خلوص سے تولا جاتا تھا اور یہاں کسی اجنبی کی آنکھ میں آنسو دیکھ کر لوگ اپنے راستے نہیں بدلتے تھے۔
میں چاہتا ہوں کہ میرے شہر کی پہچان اس کی بلند عمارتیں، وسیع سڑکیں اور روشن بازار نہ ہوں، بلکہ اس کے لوگوں کے نرم دل، مہربان رویے اور محبت سے بھرے ہوئے ہاتھ ہوں۔
کیونکہ شہر کی اصل خوبصورتی اس کی روشنیوں میں نہیں بلکہ اس کے لوگوں کے کردار میں ہوتی ہے۔ اور کسی بھی شہر کی سب سے بڑی خوش حالی یہ نہیں کہ وہاں دولت کتنی ہے بلکہ یہ ہے کہ وہاں انسان ایک دوسرے کے لیے کتنے قیمتی ہیں۔
میرے شہر میں محبت کا قحط ہے مگر شاید اب بھی دیر نہیں ہوئی۔
آؤ، ہم اپنے اپنے حصے کی محبت لے کر نکلیں۔ کسی کے لیے دعا بنیں، کسی کے لیے سہارا بنیں، کسی کے لیے امید اور کسی کے لیے وہ آخری چراغ جس کی روشنی میں اسے اپنی زندگی کا راستہ دکھائی دے سکے۔
کیا خبر ہمارے ہاتھوں سے جلنے والے چند چراغ ہی اس شہر کی تقدیر بدل دیں۔ کیا خبر ہماری ایک چھوٹی سی محبت ہی کسی بڑے قحط کا خاتمہ بن جائے اور کیا خبر کل یہی شہر دنیا کو یہ سبق دے کہ محبت کبھی ختم نہیں ہوتی؛
بس اسے زندہ رکھنے والے دل کم پڑ جاتے ہیں۔
خدا کرے کہ میرے شہر میں محبت پھر سے عام ہو جائے۔
اتنی عام کہ کسی کو محبت مانگنی نہ پڑے، کسی کو اپنائیت کے لیے ترسنا نہ پڑے، کسی کو اپنے دکھ کا گواہ تلاش نہ کرنا پڑے، اور کسی دل کو یہ خوف نہ رہے کہ اس کی تنہائی کا کوئی ساتھی نہیں۔
خدا کرے کہ اس شہر کی فضاؤں میں نفرت کی گرد کے بجائے خلوص کی خوشبو پھیلے، اس کی گلیوں میں بے حسی کے بجائے ہمدردی چلے اور اس کے لوگوں کے دلوں میں مفاد کے بجائے محبت کی حکمرانی ہو۔
تاکہ ایک دن میں فخر سے کہہ سکوں کہ یہ میرا شہر ہے، یہاں محبت کا قحط نہیں، یہاں دل ایک دوسرے کے لیے دھڑکتے ہیں، یہاں انسان اب بھی انسان سے محبت کرتا ہے اور یہاں زندگی صرف گزاری نہیں جاتی، ایک دوسرے کے لیے جیتی بھی جاتی ہے۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































