نوشکی: کلی ساسولی ٹاؤن کے اسکول کی تباہ حال صورتحال؛ اہلِ علاقہ کا فوری اقدامات کا مطالبہ

26

نوشکی کلی ساسولی ٹاؤن کے اہلِ علاقہ نے اسکول کی ابتر صورتحال، بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی اور زیرِ تعمیر عمارت کے نامکمل کام پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے محکمہ تعلیم بلوچستان اور متعلقہ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

اہلِ علاقہ کے مطابق اسکول میں تقریباً 70 سے 80 بچے زیرِ تعلیم ہیں، لیکن افسوس ناک امر یہ ہے کہ ان معصوم بچوں کو پینے کے صاف پانی اور واش روم جیسی بنیادی سہولیات بھی میسر نہیں ہیں۔ اسکول کی عمارت کا تعمیراتی کام بھی تاحال نامکمل ہے۔ عمارت میں دروازے نصب نہیں کیے گئے، جبکہ چار دیواری اور مین گیٹ کی عدم موجودگی کے باعث بچوں کی حفاظت کے حوالے سے بھی سنگین خدشات پائے جاتے ہیں۔

اہلِ علاقہ کا کہنا ہے کہ متعلقہ ٹھیکیدار کی جانب سے تعمیراتی کام مکمل نہ کیے جانے کے باعث بچوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ اسکول جیسا بنیادی تعلیمی ادارہ سہولیات سے محروم ہونا نہ صرف بچوں کے تعلیمی مستقبل کے لیے تشویش ناک ہے بلکہ متعلقہ محکموں کی کارکردگی پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے۔

اہلِ علاقہ نے بلوچستان کے تعلیمی نظام میں مبینہ بدعنوانی، فنڈز کی غیر مؤثر تقسیم اور بجٹ کی عدم دستیابی کے حوالے سے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صوبے کے متعدد تعلیمی اداروں کی عمارتیں خستہ حالی کا شکار ہیں، جبکہ کئی اسکولوں میں بنیادی سہولیات اور ضروری تعمیر و مرمت کے کاموں کی عدم موجودگی بچوں کے تعلیمی حق کو متاثر کر رہی ہے۔ اگر تعلیمی بجٹ اور ترقیاتی فنڈز کے استعمال میں شفافیت یقینی نہ بنائی گئی تو اس کے منفی اثرات آنے والی نسلوں کے مستقبل پر مرتب ہوتے رہیں گے۔

اہلِ علاقہ نے متعلقہ حکام سے پُرزور مطالبہ کیا ہے کہ کلی ساسولی ٹاؤن، نوشکی کے اسکول کی نامکمل عمارت کا تعمیراتی کام فوری طور پر مکمل کیا جائے۔اسکول میں پینے کے صاف پانی اور واش روم کی سہولیات ہنگامی بنیادوں پر فراہم کی جائیں۔عمارت میں دروازے، چار دیواری اور مین گیٹ کی تعمیر و تنصیب یقینی بنا کر بچوں کی حفاظت کے لیے مناسب انتظامات کیے جائیں۔

متعلقہ ٹھیکیدار کی کارکردگی اور تعمیراتی کام میں تاخیر کی وجوہات کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور غفلت ثابت ہونے پر قواعد کے مطابق کارروائی کی جائے۔بلوچستان کے تعلیمی اداروں کے لیے مختص بجٹ اور ترقیاتی فنڈز کے استعمال کا شفاف آڈٹ کیا جائے تاکہ مبینہ بدعنوانی اور وسائل کے ضیاع کی روک تھام ہو سکے۔

اہلِ علاقہ نے وزیراعلیٰ بلوچستان، وزیرِ تعلیم بلوچستان، سیکرٹری تعلیم اور ضلعی انتظامیہ نوشکی سے اپیل کی ہے کہ وہ اس مسئلے کو فوری طور پر حل کرنے کے لیے عملی اقدامات کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے اور اس حق کی فراہمی میں غفلت کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔

اہلِ علاقہ نے واضح کیا ہے کہ اگر ان کے جائز مطالبات پر فوری توجہ نہ دی گئی اور اسکول کی تعمیر و بنیادی سہولیات کی فراہمی میں مزید تاخیر ہوئی تو وہ اپنے بچوں کے مستقبل کے تحفظ کے لیے پُرامن احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔