خضدار: شفیق مینگل کے ٹھکانے پہ حملہ، پولیس اہلکار سمیت پانچ افراد ہلاک

1

بلوچستان کے ضلع خضدار میں شفیق الرحمان مینگل کی رہائش گاہ کے قریب مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں پولیس اہلکار سمیت کم از کم پانچ افراد ہلاک جبکہ ایک شخص زخمی ہوگیا۔

پولیس کے مطابق واقعہ بدھ کی علی الصبح تھانہ آڑینجی کی حدود میں واقع علاقے اواک میں پیش آیا۔ یہ علاقہ خضدار سے تقریباً 150 کلومیٹر دور دشوار گزار پہاڑی خطے میں واقع ہے۔

حکام کے مطابق مسلح افراد نے شفیق مینگل کی رہائش گاہ کے قریب قائم ایک پرانی لیویز چوکی کو نشانہ بنایا، جہاں ان کے محافظوں اور ایک پولیس اہلکار کی تعیناتی تھی۔ فائرنگ کے دوران شفیق مینگل کے چار محافظ موقع پر ہی ہلاک ہوگئے، جن کی شناخت عبدالحئی، نعمت اللہ، یحییٰ اور نصیر احمد کے نام سے ہوئی ہے۔

پولیس کے مطابق نور محمد نامی پولیس اہلکار کو مسلح افراد اپنے ساتھ اغوا کرکے لے گئے اور کچھ فاصلے پر لے جانے کے بعد اسے بھی ہلاک کردیا۔ حملے میں عبید اللہ نامی شخص زخمی ہوا، جبکہ حملہ آور کارروائی کے بعد فرار ہوگئے۔

واضح رہے کہ شفیق الرحمان مینگل بلوچستان کی سیاست میں ایک متنازع شخصیت ہیں۔ بلوچ قوم پرست حلقے، لاپتہ افراد کے خاندان اور انسانی حقوق سے وابستہ بعض تنظیمیں ان پر مسلح “ڈیتھ اسکواڈ” کی سرپرستی، سیاسی کارکنوں کے اغوا، جبری گمشدگیوں اور ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کرتے ہیں۔

دسمبر 2011 میں بی ایل اے کے فدائی ونگ مجید بریگیڈ نے کوئٹہ میں شفیق مینگل کی رہائش گاہ کو خودکش حملے میں نشانہ بنایا تھا۔ اس حملے میں شفیق مینگل محفوظ رہے، جبکہ ان کے متعدد ساتھی ہلاک یا زخمی ہوئے۔ بی ایل اے نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
جون 2025 میں آڑینجی، وڈھ کے علاقے میں شفیق مینگل کے بھائی عطاء الرحمن مینگل فائرنگ کے ایک واقعے میں ہلاک جبکہ ان کا بیٹا مطیع الرحمن زخمی ہوا۔ جسکی ذمہ داری بھی بی ایل اے نے ذمہ داری قبول کی ہے۔

اس کے تقریباً ایک سال بعد، 8 جولائی 2026 کو شفیق مینگل کی خضدار میں واقع رہائش گاہ پر ایک بڑے خودکش اور مسلح حملے میں وہ دوبارہ بی ایل اے کا ہدف بنے۔ بی ایل اے نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ کارروائی اس کے فدائی ونگ مجید بریگیڈ نے کی۔

تاہم آج ہونے والے واقعہ کی ذمہ داری تاحال کسی نے قبول نہیں کی ہے۔