دالبندین: پاکستانی فورسز نے نور احمد نوتیزئی کے گھر کو مسمار کردیا

67

دالبندین میں پاکستانی فورسز کی جانب سے بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے رکن نور احمد نوتیزئی عرف شادین کے گھر مسمار کردیا۔

موصول ہونے والی تصاویر میں ایک مکان کو بلڈوزر کے ذریعے منہدم کیا جارہا ہے، دکھا جاسکتا ہے۔

بی ایل اے کے ایک بیان کے مطابق، نور احمد نوتیزئی ولد عبدالرب نوتیزئی، جن کا تعلق دالبندین سے تھا، رواں برس چاغی کے علاقے نوکچاہ میں 31 اگست کو ہونے والی جھڑپ میں جانبحق ہوئے ہیں۔

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں فوجی کارروائیوں کے دوران گھروں اور املاک کو نقصان پہنچنے یا مسمار کیے جانے کی متعدد اطلاعات رپورٹ ہوئی ہیں۔

یورپی یونین ایجنسی فار ایزنم (EUAA) کی 2026 کی بلوچستان سے متعلق رپورٹ کے مطابق، فروری 2026 میں آپریشنز کے دوران سیاسی شخصیات اور عام شہریوں کی ملکیت گھروں اور املاک کو مسمار کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ رپورٹ میں ستمبر 2025 میں زہری کے علاقے میں بھی فوجی کارروائی کے دوران گھروں، کھیتوں اور دیگر املاک کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات کا حوالہ دیا گیا ہے۔

رواں سال نوشکی میں بھی آپریشن کے دوران گھروں کی مسماری کی اطلاعات سامنے آئیں۔ اسی طرح جون 2026 میں کیچ کے علاقے تمپ میں فوجی کارروائی کے دوران گھروں کو نقصان پہنچنے اور مسمار کیے جانے کے الزامات مقامی رہائشیوں اور بلوچ سیاسی تنظیموں کی جانب سے سامنے آئے۔

جولائی 2026 میں جیوانی کے علاقے پانوان میں آپریشن کے دوران متعدد گھروں کی مسمار کیا گیا۔ جیونی میں علی اصغر نامی ایک شخص کے گھر کو بھی مسمار کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق علی اصغر کو اپریل میں حراست میں لیے جانے کے بعد سے لاپتہ بتایا جا رہا تھا۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے بعد ازاں دعویٰ کیا کہ جیوانی میں علی اصغر سمیت کم از کم سات مقامی رہائشیوں کے گھروں کو مسمار کیا گیا۔ تنظیم نے ان کارروائیوں کو “اجتماعی سزا” قرار دیتے ہوئے کہا کہ لاپتہ افراد کے اہل خانہ کو دباؤ اور ہراسانی کا سامنا رہا۔