جب ایک ڈاکٹر نے وطن کی نبض محسوس کی | شہید لال خان کے نام
تحریر: نودشان بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
کبھی کسی شہید کی داستان پڑھتے ہوئے الفاظ رک جاتے ہیں اور انسان کے اندر ایک سوال جنم لیتا ہے آخر وہ کون سی محبت ہے جو ایک نوجوان سے اس کی پوری جوانی مانگ لیتی ہے؟ شہید لال خان کی زندگی میرے سامنے بھی ایسا ہی ایک سوال بن کر آئی۔ وہ ایم بی بی ایس کے پہلے سال کا طالب علم تھا۔ زندگی کے اس موڑ پر، جہاں خواب حقیقت کا روپ دھارنا شروع کرتے ہیں، سفید کوٹ مستقبل کی علامت بنتا ہے اور کتابیں انسان کو ایک بہتر زندگی کی طرف لے جاتی ہیں۔ مگر لال خان نے اپنے لیے بنائے گئے اس راستے کو چھوڑ کر پہاڑوں کا راستہ اختیار کیا۔ اس نے اپنی تعلیم، آسائش، مستقبل اور ذاتی خواہشات کو ایک بڑے مقصد کے سامنے رکھ دیا۔ یہ فیصلہ محض ایک نوجوان کا راستہ بدلنا نہیں تھا، بلکہ اپنی ذات سے بلند ہو کر ایک پوری قوم کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھنے کا فیصلہ تھا۔
ڈاکٹر کا کام صرف جسم کا علاج کرنا نہیں، بلکہ بیماری کی جڑ تک پہنچنا بھی ہے۔ ایک ڈاکٹر جسم کے اندر چھپی بیماری کو تلاش کرتا ہے، اس کی وجہ سمجھتا ہے اور پھر علاج کی کوشش کرتا ہے۔ مگر جب پوری قوم بیمار ہو تو اس کی بیماری کہاں تلاش کی جائے؟ غلامی صرف زنجیروں کا نام نہیں یہ اختیار کے چھن جانے، فیصلے کی آزادی ختم ہونے اور اپنے مستقبل پر حق کھو دینے کا نام ہے۔ غلامی ایک ایسی بیماری ہے جو پہلے جسم کو نہیں، انسان کے شعور اور روح کو مفلوج کرتی ہے۔ ایک غلام قوم کا فرد بظاہر زندہ رہ سکتا ہے، مگر اس کا اجتماعی وجود ایک مسلسل اذیت میں مبتلا رہتا ہے۔ لال خان نے طب کے پہلے سال ہی میں ایک ایسی حقیقت کو سمجھ لیا جسے سمجھنے میں پوری زندگیاں گزر جاتی ہیں۔ جب مریض پوری قوم ہو تو علاج بھی فرد کی حد سے باہر نکل جاتا ہے۔
اس کے استاد نے اسے انسانی جسم کی ساخت پڑھائی ہوگی، دل کی دھڑکن، خون کی گردش، اعصاب کی حرکت اور زندگی کو قائم رکھنے والے بے شمار نظام مگر زندگی نے اسے ایک اور جسم دکھایا، قوم کا جسم جس طرح انسانی جسم کا ایک عضو بیمار ہو تو پورا وجود متاثر ہوتا ہے، اسی طرح قوم کے کسی حصے کا درد بھی پورے معاشرے کی تکلیف بن جاتا ہے۔ لال خان کے لیے وطن محض زمین نہیں تھا، وہ ایک زندہ وجود تھا، جس کی نبض میں اپنے لوگوں کے دکھ، محرومیاں، خواب اور آزادی کی خواہش گردش کرتی تھی۔ اسی لیے اس نے اپنے ہاتھ میں موجود کتاب کو چھوڑ کر پہاڑوں کا راستہ اختیار کیا۔ یہ علم سے بغاوت نہیں تھی، بلکہ علم کو ایک وسیع تر معنی دینے کی کوشش تھی۔ اس نے ایک جسم کا ڈاکٹر بننے سے پہلے ایک قوم کے زخم کو محسوس کیا۔
جنگ اپنی ذات میں خوبصورت نہیں ہوتی۔ جنگ گھروں کو اجاڑتی ہے، ماؤں سے بیٹے چھینتی ہے، بچوں سے ان کا بچپن اور زمین سے اس کا سکون چھین لیتی ہے۔ جنگ اپنے ساتھ خون، جدائی اور تباہی لاتی ہے۔ لیکن انسان کے اندر ایک عجیب اخلاقی قوت بھی ہے۔ وہ کسی بدصورت حقیقت کو اپنے مقصد کی پاکیزگی سے معنی دے سکتا ہے۔ جب ایک نوجوان اپنی جوانی، اپنی تعلیم، اپنے خواب اور اپنی زندگی کسی ذاتی مفاد کے لیے نہیں، بلکہ اپنے وطن کے لیے قربان کرتا ہے تو جنگ کی بدصورتی کے اندر قربانی کا ایک ایسا حسن پیدا ہوتا ہے جو انسان کو خاموش کر دیتا ہے۔ جنگ خوبصورت نہیں ہوتی۔ قربانی اسے معنی دیتی ہے۔ لال خان کی داستان اسی تضاد کا نام ہے۔ ایک طرف جنگ کی وحشت، دوسری طرف ایک نوجوان کی بے مثال وابستگی۔
جوانی انسان کی زندگی کا وہ موسم ہے جس میں خواب سب سے زیادہ روشن ہوتے ہیں۔ اسی عمر میں لوگ اپنے مستقبل کے نقشے بناتے ہیں، اپنے پیشے کا انتخاب کرتے ہیں، اپنے گھر اور اپنے کل کے بارے میں سوچتے ہیں۔ لال خان نے بھی ایک راستہ چنا تھا، مگر پھر اس نے اپنی ذات کے مستقبل کے بجائے اپنی قوم کے مستقبل کو ترجیح دی۔ اس نے ثابت کیا کہ وطن سے محبت صرف الفاظ، یا جذباتی دعووں کا نام نہیں۔ محبت وہ مقام ہے جہاں انسان اپنے حصے کی خوشیاں بھی ایک بڑے مقصد کے نام کر دیتا ہے۔ اس نے اپنی جوانی کو محفوظ رکھنے کے بجائے اسے ایک مقصد کے لیے وقف کیا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایک عام زندگی تاریخ کا حصہ بن جاتی ہے۔
وطن آخر ہے کیا چند پہاڑ، دریاؤں، وادیوں اور سرحدوں کا مجموعہ نہیں۔ وطن انسان کی یادوں کا گھر ہے، اس کی شناخت کا حوالہ ہے، اس کی زبان کی آواز ہے، اس کے لوگوں کا دکھ ہے اور آنے والی نسلوں کے لیے اس کا خواب ہے۔ اسی لیے وطن سے محبت کبھی کبھی انسان کو اپنی ذات کی حدود سے باہر لے جاتی ہے۔ انسان کے پاس بہت سی محبتیں ہو سکتی ہیں، مگر وطن وہ محبت ہے جس میں انسان اپنی ذات سے آگے آنے والی نسلوں کو دیکھتا ہے۔ لال خان نے اسی محبت کو اپنی زندگی کا معیار بنایا۔ اس کے پاس ایک محفوظ مستقبل کا انتخاب موجود تھا، مگر اس نے ایک مشکل راستہ چنا۔ اس نے اپنی زندگی کو صرف اپنی ملکیت نہیں سمجھا اسے ایک امانت سمجھا اور اس امانت کو اپنے وطن کے نام کر دیا۔
آج جب شہید لال خان کا نام سامنے آتا ہے تو ایک میڈیکل طالب علم، ایک نوجوان، ایک خواب دیکھنے والا انسان اور ایک وطن سے بے پناہ محبت کرنے والا کردار ایک ہی تصویر میں دکھائی دیتا ہے۔ اس کی زندگی ہمیں یہ سوال دیتی ہے کہ ڈاکٹر کی ذمہ داری کہاں ختم ہوتی ہے؟ مریض کے جسم پر مرہم رکھنے کے بعد، یا اس معاشرے کے زخم کو محسوس کرنے پر جہاں وہ مریض پیدا ہوا۔ لال خان نے اپنی مختصر زندگی سے اس سوال کا جواب دیا۔ اس نے ایک فرد کے جسم کا ڈاکٹر بننے سے پہلے اپنی قوم کی بیماری کو پہچانا۔ اس کی کتابیں ادھوری رہ گئیں، سفید کوٹ کا خواب ادھورا رہ گیا، مگر اس کی قربانی نے ایک اور کتاب لکھ دی ایسی کتاب جس کے صفحات پر خون نہیں، ایک نوجوان کی بے پناہ محبت لکھی ہے۔ شہید کی زندگی کا سب سے بڑا المیہ بھی یہی ہے کہ وہ خود ختم ہو جاتا ہے، مگر اس کا سوال باقی رہتا ہے؟ انسان اپنی زندگی کے لیے جیتا ہے، یا کسی ایسے خواب کے لیے جس کی تکمیل اس کی اپنی زندگی کے بعد ہوتی ہے۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































