ادھورے خوابوں کی کہانی – دینار بلوچ

29

ادھورے خوابوں کی کہانی

تحریر : دینار بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

شام ہونے کو تھی چرند پرند تمام جاندار اپنے گھونسلوں کو لوٹ رہے تھے جیسے وہ یہ سب شام کی وجہ سے نہیں بلکہ میرے دل کو مزید اداس کرنے کے لئے کر رہے ہو۔ میں بندوق قریب رکھ کر یہ سب منظر دیکھ رہا تھا اور مزید اداس ہوتا جارہا تھا جیسے تمام لوگ جا چکے ہو اور اس دنیا میں، میں بالکل اکیلا رہ چکا ہوں اور باقی زندگی مجھے اس دنیا میں اکیلے اور یوں اداس رہ کر گزارنا ہے۔۔
سامنے بلند پہاڑ پر سرخی چھائی ہوئی تھی جیسے دل کے انگاروں کو کسی نے پھونک مار کر آگ بھڑکائی ہو جس کی دھواں میرے اندر جسم کے کونے کونے کو کوئلہ میں تبدیل کرکے روشنی باہر پھنک دیا ہو۔ میں ایک سوچ میں ڈوبا دنیا سے بے نیاز اپنے زہن پر حملہ آور ہونے والے خیالوں سے لڑ رہا تھا۔

زگرین اور بالی مسلسل بول رہے تھے وہ کیا بول رہے ہیں؟ کس چیز کے بارے میں یوں روانگی سے باتیں کر رہے تھے میں چاہتے ہوئے بھی سمجھ نہیں پارہا تھا ۔۔۔۔۔۔

میرک کی آواز سن کے بس اتنا سمجھ پایا کہ وہ چائے تیار کرکے ہمیں بلا رہا ہے۔ زگرین کے قریب نشست سنبھال کر بظاہر میں بھی ان کے ہاں محفل میں شریک ہوا لیکن دل و دماغ جیسے سُن ہو کے رہ گئے تھے ۔۔۔۔۔
میرے دماغ میں مسلسل اس کی آخری پیغام گردش کر رہا تھا ۔

سنو دیدگ ۔۔۔۔
تم ایک وطن زاد ہو
تم ایک بہادر اور حوصلہ مند شخص ہو ، آپ ایک مقدس راہ کے مسافر ہو ، تم عظیم ہو ، تمھارے خیالات ، سوچ ، فکر اور نظریہ سب عظیم ہے ایک عظیم انسان کو سمجھنا ہر کسی کے لئے آسان نہیں اور نہ ہی ہر کوئی اس قابل ہوتا ہے ۔

سنو دیدگ ۔۔۔۔۔
یاد ہے تم نے تو خود ہی کہا تھا کہ ہم ایک ساتھ ہوں گے کہیں یہ خواب ، خواب ہی نہ رہ جائے ۔ مجھے نہیں پتا یہ آپ نے پہلے کیسے بتائے اور میں یہ بھی سمجھنے سے قاصر ہوں کہ آپ پہ الہام ہوتی ہے یا آپ کی پیشگوئی درست ثابت ہوتی ہے مگر یہ بھی سوچنے کی بات ہے کہ آپ نے یہ کیسے اور مجھ میں ایسا کیا دیکھ کر پیشگوئی کردی تھی ۔

جو بھی ہے ہم ایک روح ضرور تھے لیکن ایک راہ کے مسافر نہیں تھے شاید اس لئے کبھی نہ کبھی ہماری یہ مختلف راہیں ہمیں جدا کر دیتے ، یا شاید اب وہ وقت آن پہنچا ہے کہ آج سے ہمیں الگ الگ راہوں پہ سفر کرنا پڑے ۔ میری چنے ہوئے اس راہ میں میرے لیئے گلاب ہیں یا کانٹے میں نہیں جانتا ۔۔۔ لیکن میں اتنا ضرور جانتا ہوں کہ جس راہ پہ تم سفر کرنے نکلے ہوں وہ کانٹوں سے بھری پڑی ہے اسلیئے اس پہ دوران سفر اپنا ہر قدم تجھے بہت دھیان سے رکھنا ہوگا تب شاید تم ان کانٹوں سے بچ سکو ۔۔۔

سنو دیدگ ۔۔۔۔
میں تو کچھ بھی نہیں لیکن تم تاریخ کے ایک سنہری باب ہو تم ایک قلمکار کے مقدس خیالات ہو ، تم ایک تاریخ دان کے لیئے بہت اہم موضوع ہو ، تم ایک بے حوصلہ شخص کا حوصلہ ہو ، تم ایک قوم کا رہبر ، راہشون اور لیڈر ہو ۔

سنو دیدگ ۔۔۔
جانتی ہوں تمھارا حوصلہ چلتن سے بھی بلند ہے ، تمہارا سینہ چاغی سے بھی زیادہ درد سہنے کی عادی ہے ۔۔۔ میری دعا ہے اور ہمیشہ تمھارے لیئے دعا کرتی رہوں گی کہ تمہارے راستے کے تمام کانٹے تمھارے لیئے گواڑخ ثابت ہوں ۔۔ ہر وہ گھاٹی جہاں تم قدم رکو تمہارے لئے ہموار بنے ۔ ہر کمب تمہیں اپنے ہی چنکو پہ پانی پلاکے تمہاری پیاس بجھائے ، جب بھی بھوک محسوس کرو ہر درخت اپنے جسم پہ میوہ سجائے تمہارے راستے پہ کھڑے تمہارا انتظار کرے اور تمھارے پہنچنے پر تجھے پہاڑی میوہ کھلا کر تمہاری بھوک مٹائے ، جب کبھی اندھیرے میں راستہ بھٹکو چاند تمہیں روشنی مہیا کرے اور ستارے تمہیں اشارے سے راستہ سمجھائے ، جب بھی تھک کے سوجاؤ تو ہر پتھر نرم ہو کے آپ لئے تکیہ بنے ، جب کبھی کھلی میدان میں سوجاؤ اور ٹھنڈ محسوس کرو تو آسمان آپ کے لئے کمبل بنے ، جب کبھی گرمی محسوس کرو تو ہوا تمام دنیا سے منہ موڑ کے تمہاری طرف ایک سمندر کی بہتی لہروں کی مانند تمہارے جسم کو چھو کر تمہاری پسینوں کو خشک کرتا رہے ۔
خدا ہمیشہ آپ کا ہمراہ ہو اور آپ خدا کے باہوٹ ۔۔۔۔۔
وسلام

کتنی آسانی سے وہ یہ سب کچھ کہہ کر اپنا دل بہلا چکا ہوگا ؟
آج تیز ہوا چلنے پہ بھی مجھے غصہ آتا ہے کہ کیوں وہ پرپک کے سرخ اور پیلے پھول اتارنے پہ تلا ہوا ہے ، کیوں انہیں وہ بوسیدہ کرنے پہ بضد ہے ۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایک نہ ایک دن ان کے یہ نرم ملاہم پھول ان سے چھن جائیں گے ، ایک دن وہ بھی میری طرح بوسیدہ لگیں گے۔۔۔۔ لیکن ان کا سایہ ان سے کبھی بھی۔۔۔۔۔۔۔ کوئی بھی چھین نہیں سکتا کیونکہ سورج ابدی ہے لوگوں کی طرح نہیں کہ اپنا وعدہ بھول جائیں اور نہ وہ کبھی کسی لالچ میں آتا ہے ۔

وہ رات یاد ہے تمہیں۔۔۔ جب تھکا ہوا میں کندھوں سے پانی کی بوتل نکال کے پیاس بجھانے کی غرض سے ایک پتھر پہ بیٹھ کے پانی پینے لگا تھا کہ آپ کا پیغام موصول ہوا ۔۔۔

دیدگ۔۔۔۔
اوپر دیکھو چاند نظر آرہا ہے آپ کو ۔۔۔۔؟
میں بھی ابھی چاند دیکھ رہی تھی اور آپ مجھے یاد آگئے ۔۔۔

یاد ہے آپ کو میں نے غصہ سے بولا تھا کہ چاند بے زبان کیوں ہے ، صرف ہمیں دیکھ رہا ہے بولتا کیوں نہیں ۔۔۔۔ ہماری باتیں ایک دوسرے تک کیوں نہیں پہنچاتا ، ہمارے حال سے ایک دوسرے کو واقف کیوں نہیں رکھتا صرف دیکھتا جارہا ہے ۔۔۔ اور آپ کہتی دیدگ ایسا نہیں بولو۔۔۔اللہ کے ہر کام میں حکمت چھپی ہوتی ہے ۔۔۔ اُس وقت تو میں سمجھ نہیں پایا لیکن آج سب سمجھ گیا ہوں اور خوش ہوں کہ چاند بے زبان ہے ورنہ آج مجھے اس سے کتنے طعنے سننے پڑتے اور میں خود کو چاند سے چھپا بھی نہیں سکتا روز مجھ پہ ہنستا ، میرا مذاق اڑاتا ، مجھے بدنام کرتا ۔۔۔

جب بھی دو جوڑی آپس میں ساتھ نبھانے کا وعدہ کرتے تو چاند تمہاری مثال ان کے سامنے رکھ کر انہیں منع کرتا اور جب کبھی میں اندھیرے رات میں سفر سے تھک کر ایک پتھر پہ سر رکھ کر دنیا سے بے نیاز تیرے سوچوں میں گم ہو کر سونے کی کوشش کرتا تو چاند بھی اشاروں سے مجھے چھیڑتا ، میرا کتنا مذاق اُڑاتا ۔۔۔
کدھر ہیں وہ ساتھ نبھانے والے ۔۔۔۔۔۔۔؟
کدھر ہیں وہ جو آپ کے ہونے کی مصنوعی وعدے کرتے ۔۔۔۔۔۔۔؟
آج تو تم اکیلے ہو اور بالکل اکیلے
بے سہارا ہو
آج کیوں ان کا پیغام نہیں آتا
آج آپ کو تسلی دینا والا کیوں نہیں ۔۔۔۔۔
تم اسے دیکھ نہیں پاتے
لیکن
وہ خوش ہے
ہنستی ہے
مسکراتی ہے
گھومتی ہے
شوخی باتیں کرتی ہے
لیکن موضوع تم نہیں
کوئی اور ہے
اور میں اسے دیکھ رہا ہوں ……!!!


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔