جنگ اور خواتین – شاری بلوچ

218

جنگ اور خواتین

تحریر: شاری بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

خواتین نے تاریخ کے مختلف ادوار میں جنگوں کے دوران اہم کردار ادا کیا ہے اگرچہ جنگ عموماً مردوں سے منسوب کیا جاتا ہے لیکن خواتین نے بھی اپنی بہادری، ہمت اور قربانیوں سے نمایاں خدمات انجام دی ہے۔ خواتین کا کردار صرف جنگ کے دوران ہی نہیں بلکہ جنگ کے بعد امن کی بحالی میں بھی اہم ہوتا ہے وہ خاندانوں کو دوبارہ منظم کرنے، بچوں کی تعلیم اور معاشرے کی تعمیرِ نو میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

گزشتہ دنوں بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے اپنی ایک خاتون کمانڈر کی ویڈیو جاری کی، جس میں کمانڈر شہناز بلوچ کو اپنی باقی خاتون اور مرد ساتھیوں کے ساتھ دکھائی جاتی ہے۔ کمانڈر شہناز بلوچ سات سالوں سے تنظیم سے وابستہ ہے، ان کی قومی فریضہ، بہادری اور قابلیت کی وجہ سے وہ کمانڈر رینک پر ہے، کمانڈر شہناز بلوچ کی بھی کچھ خواہشات ہوں گی، کچھ خواب ہوں گے، اپنا گھر ہوگا اور رشتے ہوں گے لیکن انہوں نے بلوچ وطن کے لیے سب کچھ قربان کر دیا۔

یاد رہے کہ بلوچ قومی تاریخ میں خواتین کی بہادری اور قربانیوں کی مثالیں روشن ہے اور اسلامی تاریخ میں بھی خواتین نے جنگ اور مشکل حالات میں جنگوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ حضرت نسیبہ بن کعب نے غزوۂ اُحد میں رسول اللہ کے دفاع میں جنگ میں حصہ لیا، حضرت رفیدہ اسلمیہ زخمیوں کی دیکھ بھال کرتی اور طبی امداد فراہم کرتی، ان مثالوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلامی تاریخ میں خواتین کی خدمت اور قربانیوں کی قدر کیا گیا ہے اور آج بھی کیا جاتا ہے۔ غزوۂ اُحد میں جب مسلمانوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہوا تو حضرت نسیبہ نے رسول اللہ کے دفاع میں کئی زخم برداشت کیے اور حضرت خدیجہ نے خود کسی جنگ میں حصہ نہیں لیا لیکن اسلام کے ابتدائی دور میں اپنی مالی اور اخلاقی حمایت کے ذریعے مسلمانوں کی مدد و خدمت کی۔

گل بی بی، بلوچ قومی تاریخ کے ایک بہادر خاتون کے نام پر یاد کی جاتی ہے، روایات کے مطابق انہوں نے پہلی جنگِ عظیم کے دوران بلوچ قبائل کی قیادت کرتی ہوئے برطانوی افواج کے خلاف مزاحمت کا کردار ادا کیا، ان کی قومی جرأت، جنگی قیادت اور قربانیوں نے انہیں بلوچ خواتین کی بہادری کی علامت بنا دیا، آج بھی بلوچ تاریخ میں ان کا نام احترام سے لیا جاتا ہے۔ میر چاکر خان رند کی بہن بانڑی شیہک 1539 میں بادشاہ ہمایوں کی مدد کے لیے بلوچ قومی لشکر کے ساتھ شامل تھی، جب مرد جنگجو پیچھے ہٹنے لگے تو انہوں نے تلوار اٹھائی، اپنے ہاتھوں کی چوڑیاں علامتی طور پر توڑی اور دشمن شیر شاہ سوری کی فوج پر حملہ کیا، ان کی بہادری نے بلوچ قومی فوج کا مورال بڑھایا، بلوچ موسیقی اور شاعری میں آج بھی ان کی داستانیں بیان ہوتی ہے۔ بلوچ تاریخ میں بیبو بلوچ کو آئرن لیڈی (Iron Lady) کے طور پر یاد کیا جاتا ہے وہ خانِ قلات میر احمد یار خان بلوچ کی بہن تھی وہ باروزئی قبائل کے خلاف جنگ میں اپنے بھائیوں کے ساتھ شامل تھی، انہوں نے قبائلی فوج کے ایک بٹالین کی قیادت کی اور جامِ شہادت نوش کی۔

اسی طرح کرد خواتین بھی جنگی تاریخ، مزاحمت اور قیادت میں اہم کردار ادا کیا ہے، وہ روایتی قبائلی معاشروں میں منفی رکاوٹوں کو توڑتے ہوئے براہِ راست لڑائی میں حصہ لے چکے ہیں۔ خاص طور پر آئی ایس آئی ایس اور داعش کے خلاف جدوجہد میں ایک خاتون لیودمیلا پاولیچینکو مشہور سوویت خاتون سنائپر تھیں جنہیں لیڈی ڈیتھ کہا جاتا تھا۔ وہ تاریخ کی سب سے کامیاب خاتون سنائپر سمجھی جاتی ہے جن کے نام 309 تصدیق شدہ دشمن ہلاکتوں کا ریکارڈ ہے، جن میں 36 دشمن سنائپر بھی شامل ہے۔

خواتین کے جنگی کردار کی مثالوں میں لیودمیلا پاولیچینکو کا نام اکثر اس لیے لیا جاتا ہے کہ انہوں نے ثابت کیا کہ خواتین بھی جنگی میدان میں غیر معمولی صلاحیت اور بہادری کا مظاہرہ کر سکتی ہیں، جو لوگ سمجھتے ہیں کہ خواتین جنگ میں حصہ نہیں لے سکتیں، وہ تاریخ اور حقائق سے ناواقف ہیں۔ اسلام کی تاریخ سے لے کر جدید دور تک بے شمار خواتین نے ثابت کیا ہے کہ ضرورت پڑنے پر وہ اپنے خاندان، قوم اور وطن کے دفاع میں مردوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہو سکتی ہیں۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔