کتاب: مڈی
مصنف: کماش بشیر زیب
تجزیہ : ہربل بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
گوریلا جنگ کے اہم ستونوں میں سے ایک ادارے کے مالی وسائل ہیں جنہیں “مڈی” کہا جاتا ہے۔ یہ مڈی دو اقسام میں تقسیم کی جا سکتی ہے۔ ایک مادی وسائل اور دوسرے غیر مادی وسائل۔ انہی وسائل کی منظم اداراتی ترتیب اور نظم و ضبط کی بنیاد پر ایک کمزور اور منتشر تحریک بھی اپنے سے کئی گنا طاقتور فوج کو شکست دے سکتی ہے۔ دشمن کی شکست میں مڈی کے اسی کردار کو سامنے رکھتے ہوئے راجی کماش بشیر زیب کی کتاب “مڈی” بلوچ قومی جدوجہد میں مالی وسائل کی اہمیت ان کے درست استعمال اور ضابطہ اخلاق کو واضح کرنے کی ایک اہم کاوش ہے۔
راجی کماش کی یہ کتابچہ نما تصنیف تین حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلا حصہ “مڈی کی معیشت” دوسرا حصہ “مڈی کے ضابطہ اخلاق” اور آخری حصہ “مڈی کی نفسیات” پر مشتمل ہے۔
کتابچے کے آغاز میں مڈی کی اہمیت بیان کی گئی ہے۔ یہ واضح کیا گیا ہے کہ کس طرح ایک منتشر اور کمزور مسلح تحریک مڈی کی بنیاد پر اپنے سے کئی گنا طاقتور فوج کو شکست دے سکتی ہے۔ تاہم اس کامیابی کا بنیادی فلسفہ مڈی کو ادارہ جاتی سوچ کا پابند بنانا نظم و ضبط کے تابع رکھنا اس کے استعمال کے اصول واضح کرنا اور اسراف کی صورت میں خود احتسابی کو فروغ دینا ہے۔ کماش مڈی کی معیشت میں وسائل کے حصول ان کی تنظیمی حفاظت اور طویل مدت تک مؤثر استعمال کے اصولوں کو دنیا کی کامیاب تحریکوں کی مثالوں سے ثابت کرتی ہیں۔ مختلف تحریکوں کے تجربات کے ذریعے مڈی کے ضابطہ حیات کو بھی واضح کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں چین کے ماوزے تنگ، ارنیسٹو چی گویرا اور الجزائر کی آزادی کی تحریک کی مثالیں دی گئی ہیں۔ یہ مثالیں ثابت کرتی ہیں کہ کس طرح نظم و ضبط کے تحت دشمن سے حاصل ہونے والے فوجی وسائل کو دوبارہ اسی کے خلاف استعمال کر کے کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔ اس حصے کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ جدوجہد میں شامل کارکن مڈی کو محض مادی وسائل نہ سمجھیں بلکہ اسے ایک قومی ذمہ داری کے طور پر اختیار کریں۔
کتابچے کے دوسرے حصے میں مڈی کے ضابطہ اخلاق پر بحث کی گئی ہے۔ اس میں تنظیمی نظم و ضبط، رپورٹنگ، احتساب ،ملکیت خریداری ،تحفظ اور ذخیرہ اندوزی جیسے موضوعات شامل ہیں۔ کماش کے مطابق یہی وہ اصول ہیں جن کی بنیاد پر مڈی محض اسلحہ یا مادی وسائل نہیں رہتی بلکہ ایک قومی ذمہ داری کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔
آخری حصے میں مڈی کو ایک نفسیاتی ہتھیار کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ غیر متوازن جنگ میں مڈی کس طرح نفسیاتی برتری کا ذریعہ بنتی ہے۔ جب شکست خوردہ دشمن کے ہتھیار اسی کے خلاف استعمال کیے جاتے ہیں تو یہ صرف ایک عسکری حملہ نہیں ہوتا بلکہ دشمن کی اخلاقی شکست بھی ثابت ہوتی ہے اور اس کے حوصلے کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔
آخر میں یہ کتابچہ محض مڈی کی تربیت فراہم نہیں کرتا بلکہ طویل المدتی جنگ میں مڈی کو جذبہ، نفسیاتی ہتھیار اور خود احتسابی کے ایک مستقل عمل کے طور پر پیش کرتا ہے۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































