وطن، خواب اور قربانی – شہید قدوس جان کی یاد میں – ڈاکٹر بالاچ حمید

1

وطن، خواب اور قربانی – شہید قدوس جان کی یاد میں

تحریر: ڈاکٹر بالاچ حمید

دی بلوچستان پوسٹ

وطن سے وابستگی محض زمین کے ایک ٹکڑے سے محبت کا نام نہیں۔ وطن انسان کی شناخت، اس کے وقار، اس کی آزادی اور اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کے حق سے جڑا ہوا ایک گہرا احساس ہے۔ اسی لیے تاریخ میں ایسے بے شمار لوگ گزرے ہیں جنہوں نے اپنے ذاتی آرام، خواہشات اور مستقبل کو ایک بڑے مقصد کے لیے قربان کیا۔ ان کی زندگی ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ انسان آخر کس مقام پر اپنی ذات سے بلند ہو کر کسی اجتماعی خواب کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیتا ہے۔

شہید قدوس جان بھی ایک ایسے نوجوان کی یاد دلاتے ہیں جس کی زندگی کو صرف ایک واقعے یا ایک نام تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ وہ ایک نوجوان تھے، اور نوجوانی اپنے اندر خوابوں، امیدوں اور امکانات کی ایک پوری دنیا رکھتی ہے۔ ہر نوجوان کی طرح ان کے بھی اپنے خواب ہوں گے، اپنی خواہشات ہوں گی اور مستقبل کے بارے میں اپنے تصورات ہوں گے۔ مگر کبھی کبھی زندگی انسان کے سامنے ایسے سوال رکھ دیتی ہے جہاں اسے اپنی ذاتی خواہشات اور کسی بڑے مقصد کے درمیان انتخاب کرنا پڑتا ہے۔ یہی انتخاب قربانی کو محض ایک لفظ نہیں رہنے دیتا، بلکہ اسے انسانی زندگی کی ایک گہری حقیقت بنا دیتا ہے۔

جب میں نے طب کے تعلیمی ادارے میں قدم رکھا تو آہستہ آہستہ مجھے احساس ہوا کہ اپنے مقصد تک پہنچنے کا سفر کتنا مشکل ہوتا ہے۔ راتوں کی نیند قربان کرنا، آنکھوں کے گرد تھکن کے سائے، مسلسل پڑھائی، امتحانات کا دباؤ اور اپنے خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے دن رات محنت کرنا—یہ سب ایک طالب علم کی زندگی کا حصہ بن جاتا ہے۔ انسان ان تمام مشکلات کو اس امید کے ساتھ برداشت کرتا ہے کہ ایک دن اس کی محنت اسے اس منزل تک پہنچا دے گی جس کا اس نے خواب دیکھا ہے۔

شاید یہی وجہ ہے کہ جب بھی میں شہید قدوس جان کے بارے میں سوچتا ہوں تو مجھے اپنی زندگی کے وہ دن یاد آتے ہیں؛ وہ جاگتی راتیں، مسلسل محنت، جسمانی تھکن اور دل میں بسی ہوئی یہ امید کہ ایک دن یہ سب کسی منزل تک لے جائے گا۔ پھر میں سوچتا ہوں کہ ایک نوجوان نے اپنے خوابوں، اپنی محنت اور اپنے پورے مستقبل کو کس مقصد کے لیے وقف کیا ہوگا۔ میری جدوجہد میری اپنی منزل کے حصول کے لیے تھی، جبکہ انہوں نے اپنی ذات سے کہیں بڑے مقصد کو اپنی منزل سمجھا۔ یہی احساس ان کی داستان کو میرے لیے محض ایک واقعہ نہیں رہنے دیتا۔

کسی نوجوان کی قربانی کو سمجھنے کے لیے صرف یہ دیکھنا کافی نہیں کہ اس نے کیا قربان کیا۔ یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ اس کے پاس قربان کرنے کے لیے کیا کچھ تھا۔ اس عمر میں انسان کے سامنے تعلیم، پیشہ، خاندان، محبت، مستقبل اور ایک طویل زندگی کے امکانات ہوتے ہیں۔ ان سب کے باوجود کسی بڑے مقصد کو اپنی ذات پر ترجیح دینا ایک ایسا فیصلہ ہے جس کی انسانی قیمت کو سمجھنا آسان نہیں۔

دنیا کی تاریخ میں ایسے کرداروں کی مثالیں بھی ملتی ہیں جنہوں نے اپنی معمول کی زندگی چھوڑ کر کسی بڑے سیاسی یا انقلابی مقصد کا راستہ اختیار کیا۔ چی گویرا ان میں سے ایک نمایاں اور متنازع شخصیت ہیں۔ ایک تربیت یافتہ ڈاکٹر ہونے کے باوجود انہوں نے روایتی زندگی کو ترک کیا اور انقلابی جدوجہد کا راستہ اختیار کیا۔ ان کے نظریات اور طریقۂ کار آج بھی بحث کا موضوع ہیں، لیکن ان کی زندگی یہ دکھاتی ہے کہ بعض انسان اپنے پیشے اور ذاتی آرام کے بجائے اس مقصد کو ترجیح دیتے ہیں جس پر وہ یقین رکھتے ہیں۔

لیکن قربانی صرف موت یا کسی بڑے نقصان کا نام نہیں۔ اس کی کئی صورتیں ہیں۔ کسی طالب علم کا اپنی نیند قربان کرنا، کسی خاندان کا برسوں انتظار کرنا، کسی ماں کا اپنے بچے کے مستقبل کے لیے اپنی خواہشات کو پیچھے رکھ دینا، یا کسی نوجوان کا اپنے ذاتی خوابوں سے بڑھ کر کسی اجتماعی مقصد کو اہم سمجھنا، یہ سب قربانی کی مختلف شکلیں ہیں۔ ان سب میں ایک چیز مشترک ہے: انسان اپنی ذات سے باہر نکل کر کسی بڑی حقیقت کو اہمیت دیتا ہے۔

قدوس جان کی یاد ہمیں نوجوانی، خواب، یقین اور قربانی کے باہمی تعلق پر غور کرنے کا موقع دیتی ہے۔ ان کی داستان ہمیں یہ سوال بھی دیتی ہے کہ آزادی، وقار، شناخت اور انصاف جیسے تصورات انسان کی زندگی میں کتنی گہری معنویت رکھتے ہیں۔ ہر نوجوان کے پیچھے ایک خاندان، خواب، امیدیں اور ایک ممکنہ مستقبل ہوتا ہے۔ اسی انسانی پہلو کو سمجھنے سے قربانی کی اصل گہرائی محسوس ہوتی ہے۔

وقت گزر جاتا ہے، چہرے بدل جاتے ہیں اور نسلیں آگے بڑھ جاتی ہیں، مگر کچھ نام اپنی معنویت کے ساتھ باقی رہتے ہیں۔ آنے والی نسلیں شاید ان ناموں کو مختلف زاویوں سے دیکھیں، ان کے فیصلوں پر بحث کریں اور ان کی جدوجہد کی مختلف تشریحات پیش کریں۔ لیکن کچھ سوال ہمیشہ زندہ رہتے ہیں: انسان اپنے وجود کو کس مقصد کے لیے وقف کرتا ہے؟ آزادی اور وقار اس کے لیے کیا معنی رکھتے ہیں؟ اور وہ اپنے بعد آنے والوں کے لیے کیسی یاد چھوڑنا چاہتا ہے؟

شہید قدوس جان کی یاد میں شاید سب سے اہم بات یہی ہے کہ ان کی داستان کو صرف ایک اختتام کے طور پر نہ دیکھا جائے، بلکہ ان خوابوں اور سوالوں کے طور پر بھی سمجھا جائے جو ایک نوجوان اپنے ساتھ لے کر چلتا ہے۔ ان کی یاد ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ زندگی صرف اپنے لیے جینے کا نام نہیں؛ بعض انسان اپنی زندگی کو ایسے مقصد سے جوڑ دیتے ہیں جسے وہ اپنی ذات سے بڑا سمجھتے ہیں۔

شاید اسی لیے کچھ نوجوان وقت گزرنے کے بعد بھی یاد رہتے ہیں۔ ان کی یاد صرف ان کے انجام سے نہیں، بلکہ ان خوابوں سے بھی وابستہ ہوتی ہے جو ان کے دل میں زندہ تھے۔ شہید قدوس جان کی یاد بھی اسی عزم، خواب اور قربانی کی یاد ہے ایک ایسی یاد جو ہمیں حوصلے، انصاف، وقار اور آزادی کی معنویت پر غور کرنے کی دعوت دیتی رہے گی۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔