لسبیلہ یونیورسٹی وڈھ کیمپس میں میرٹ کی پامالی ناقابلِ قبول ہے۔سٹوڈنٹس لوامز وڈھ کیمپس

36

لسبیلہ یونیورسٹی وڈھ کیمپس کے سٹوڈنٹس نے کیمپس میں جاری میرٹ کی پامالی، من پسند افراد کو ترجیح دینے اور اہل امیدواروں کو ان کے جائز حق سے محروم رکھنے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے یونیورسٹی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ حالیہ لیکچرار تعیناتی کے عمل کا شفاف بنیادوں پر جائزہ لے کر اہل امیدواروں کو ان کا حق دیا جائے۔

وڈھ کیمپس کے سٹوڈنٹس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ کیمپس گزشتہ کئی عرصے سے میرٹ کی پامالی اور انتظامی بے ضابطگیوں کا شکار ہے۔ وائس چانسلر اور ڈائریکٹر وڈھ کیمپس کی جانب سے اپنی من پسند شخصیات کو ترجیح دینا نہ صرف میرٹ کے اصولوں کے خلاف ہے بلکہ اہل اور مستحق امیدواروں کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ وڈھ کیمپس گزشتہ کئی سالوں سے ایک نجی سکول کی عمارت میں اپنی تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ مختلف ڈیپارٹمنٹس میں تدریسی عملے کی کمی ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔ تقریباً تمام لیکچرار کنٹریکٹ کی بنیاد پر کئی سالوں سے تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ایجوکیشن جیسے اہم ڈیپارٹمنٹ، جس سے بڑی تعداد میں طلبہ وابستہ ہیں، گزشتہ ایک سال سے صرف دو ٹیچرز کے ذریعے چلایا جا رہا ہے، جو طلبہ کے تعلیمی مستقبل کے لیے انتہائی تشویشناک صورتحال ہے۔

سٹوڈنٹس نے کہا کہ رواں سال یونیورسٹی کی جانب سے کنٹریکٹ کی بنیاد پر لیکچرارز کی تعیناتی کے لیے ابتدائی مہینوں میں ٹیسٹ لیا گیا، جو غیر نتیجہ خیز رہا۔ بعد ازاں دوبارہ ٹیسٹ منعقد کیا گیا، جس میں وڈھ کیمپس کے لیے اپلائی کرنے والے کئی امیدواروں نے نمایاں نمبروں سے کامیابی حاصل کی۔ ٹیسٹ کے بعد انٹرویو کا مرحلہ بھی مکمل ہوا اور امیدواروں نے انٹرویو میں بھی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا، تاہم اس کے باوجود اہل امیدواروں کو نظرانداز کیے جانے پر سٹوڈنٹس میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ کامیاب امیدواروں میں وڈھ کیمپس کے سابقہ ٹیچرز بھی شامل تھے، جنہوں نے کئی سال تک کنٹریکٹ اور وزٹنگ کی بنیاد پر کیمپس میں تدریسی خدمات انجام دیں۔ ان کے پاس نہ صرف متعلقہ تعلیمی قابلیت بلکہ کیمپس اور طلبہ کے ساتھ کام کرنے کا وسیع تجربہ بھی موجود ہے۔ اس کے باوجود ایسے افراد کو تعینات کیے جانے کی اطلاعات ہیں جنہوں نے مبینہ طور پر وڈھ کیمپس کے لیے اپلائی تک نہیں کیا تھا۔ سٹوڈنٹس نے اس عمل پر سوال اٹھاتے ہوئے یونیورسٹی انتظامیہ سے شفاف وضاحت کا مطالبہ کیا ہے۔

سٹوڈنٹس کا کہنا ہے کہ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں بلکہ اس سے قبل بھی ایسے معاملات سامنے آتے رہے ہیں، جہاں پہلے سے موجود اور تجربہ کار لیکچرارز کو برطرف کرکے مبینہ طور پر من پسند افراد کو تعینات کیا گیا۔ سٹوڈنٹس کے مطابق اس طرح کے اقدامات سے نہ صرف میرٹ متاثر ہوتا ہے بلکہ کیمپس کا تعلیمی ماحول بھی براہِ راست متاثر ہوتا ہے۔

بیان میں گزشتہ سال وڈھ سے تعلق رکھنے والے لوئر اسٹاف کو مبینہ طور پر ملازمت سے نکالے جانے کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ ملازمین کے احتجاج کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ کو اپنا فیصلہ واپس لینا پڑا تھا۔ سٹوڈنٹس کے مطابق ایسے واقعات یونیورسٹی انتظامیہ کے فیصلوں میں شفافیت اور میرٹ کے حوالے سے سنجیدہ سوالات پیدا کرتے ہیں۔

وڈھ کیمپس کے سٹوڈنٹس نے وائس چانسلر اور ڈائریکٹر وڈھ کیمپس سے مطالبہ کیا ہے کہ حالیہ لیکچرار تعیناتی کے عمل کا فوری اور شفاف جائزہ لیا جائے، ٹیسٹ و انٹرویو کے نتائج اور انتخاب کے معیار کو واضح کیا جائے، اہل امیدواروں کو ان کا جائز حق دیا جائے اور میرٹ کے برخلاف ہونے والی کسی بھی تعیناتی پر نظرثانی کی جائے۔

سٹوڈنٹس نے واضح کیا کہ وہ اپنے تعلیمی حقوق، میرٹ اور شفافیت پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ اگر مذکورہ مسئلے پر سنجیدگی سے ایکشن نہ لیا گیا اور اہل امیدواروں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا ازالہ نہ کیا گیا تو وڈھ کیمپس کے سٹوڈنٹس اپنے جمہوری اور قانونی حق کے تحت احتجاج کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوں گے، جس کی تمام تر ذمہ داری یونیورسٹی انتظامیہ پر عائد ہوگی۔