وسطی افریقی جمہوریہ (سی اے آر) کے مغربی علاقے زامبوئی میں، جو کیمرون کی سرحد کے قریب واقع ہے، سونے کی کان کے ایک علاقے میں لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں 100 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ ایک مقامی سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو یہ معلومات فراہم کیں۔
سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ویڈیوز میں بظاہر دیکھا جاسکتا ہے کہ کان کے مقام پر ایک ڈھلوان اچانک گر پڑی اور وہاں موجود لوگوں کے ہجوم کو اپنی زد میں لے لیا، جبکہ دیگر افراد جان بچانے کے لیے بھاگتے نظر آئے۔
کیمرون کے سرحدی قصبے گاروآ بولائی کے میئر آدمو عبدون نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ حادثہ منگل کی دوپہر پیش آیا۔
امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔
فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ کان میں لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ کیا بنی۔ عبدون کے مطابق اب تک ’ملبے سے 107 لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔‘
کان میں کام کرنے والے ایک مزدور، سیڈرک مبانگو، نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا: ’زمین مکمل طور پر دھنس گئی اور لوگوں کو اپنے نیچے دبا لیا۔‘
’اس وقت بھی کئی لوگ ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔‘
کیمرون کے مشرقی علاقے کے گورنر نے سرکاری میڈیا کو بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں کم از کم تین کیمرونی شہری بھی شامل ہیں۔
گریگوار موونگو نے کہا کہ ان کی لاشیں تدفین کے لیے ان کے آبائی علاقوں کو منتقل کی جا رہی ہیں، جبکہ زخمی ہونے والوں کی دیکھ بھال کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
اے ایف پی کے مطابق زندہ بچ جانے والے افراد کو بابوآ کے ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے، جو وسطی افریقی جمہوریہ کا ایک قصبہ ہے اور کان کے مقام سے تقریباً 50 کلومیٹر دور واقع ہے۔
وسطی افریقی جمہوریہ کے مقامی میڈیا کے مطابق حکام نے لینڈ سلائیڈنگ کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
اے ایف پی نے بابوآ کے سرکاری استغاثہ کے ایک بیان کے حوالے سے بتایا کہ غالب امکان ہے کہ ’زیرِ زمین متعدد سرنگوں کے منہدم ہونے‘ کے باعث یہ حادثہ پیش آیا، جہاں کان کن کام کر رہے تھے۔
دستی کان کنی، جس میں معدنیات نکالنے کے لیے زیادہ تر انسانی محنت استعمال کی جاتی ہے، اس علاقے کے بہت سے خاندانوں کی آمدنی کا بنیادی ذریعہ ہے۔
کان کنوں کے لیے کام کے حالات نامناسب ہیں اور وہ اکثر صحت اور ماحولیات سے متعلق کئی خطرات کا سامنا کرتے ہیں۔
کانوں کے دھنسنے اور لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات غیر معمولی نہیں ہیں، کیونکہ کان کنی کے گڑھوں کو عموماً مناسب طریقے سے بند نہیں کیا جاتا اور شدید بارشیں زمین کو کمزور کر دیتی ہیں۔













































