بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کہا ہے کہ تنظیم بلوچستان ہائی کورٹ میں دائر کی گئی اس آئینی درخواست پر عدالت کی کارروائی کا خیرمقدم کرتا ہے جس میں فیس لیس ٹرائلز (بغیر شناخت کے/پردہ دار عدالتی کارروائی) اور کھلی و عوامی عدالتوں میں سماعت پر عائد پابندیوں کو چیلنج کیا گیا ہے۔
بی وائی سی کے مطابق 11 اگست 2026 کو بلوچستان ہائی کورٹ نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، بیبو بلوچ، گل زادی بلوچ، صبغت اللہ شاہ جی اور بیبرگ بلوچ کی جانب سے دائر درخواست پر فریقین کو نوٹس جاری کیے۔ یہ افراد اس وقت ڈسٹرکٹ جیل کوئٹہ میں زیرِ حراست ہیں اور ان کے خلاف مقدمات کی سماعت جاری ہے۔ درخواست میں حکومت کی جانب سے 24 نومبر 2025، 10 اکتوبر 2025 اور 12 جون 2026 کو جاری کیے گئے متعلقہ نوٹیفکیشنز کے ساتھ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 21 کے اطلاق کو بھی چیلنج کیا گیا ہے۔
درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ مذکورہ نوٹیفکیشنز کو غیر قانونی، غیر آئینی اور آئینِ پاکستان کے آرٹیکلز 4، 9، 10-A، 14، 25 اور 175(3) سے متصادم قرار دیا جائے۔ اس کے علاوہ عدالت سے یہ بھی استدعا کی گئی ہے کہ انتظامیہ کی دھمکیوں کے زیرِ سایہ اور جیل کے ماحول میں خفیہ طور پر چلائے جانے والے کسی بھی ٹرائل، نیز درخواست گزاروں اور ان کے وکلا کی غیر موجودگی میں ہونے والی کارروائی کو کالعدم قرار دیا جائے۔ مزید برآں، درخواست گزاروں کے خلاف زیرِ التوا تمام مقدمات اور عدالتی کارروائیوں کو کسی دوسری مجاز عدالت میں منتقل کرنے کی استدعا بھی کی گئی ہے۔
درخواست میں عدالت سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ متعلقہ حکام کو زیرِ سماعت مقدمات یا ان کی سماعت کرنے والے ججز پر کسی قسم کی انتظامی یا حکومتی مداخلت، اثراندازی یا دباؤ ڈالنے سے روکا جائے۔ ریاست کو متبادل یا سرکاری طور پر مقرر کردہ وکلا مقرر کرنے سے روکنے کی بھی استدعا کی گئی ہے تاکہ سماعتوں کی تاریخوں میں تضاد کو بنیاد بنا کر درخواست گزاروں کے اپنی پسند کے وکیل کے حق کو ختم نہ کیا جا سکے۔
مزید برآں، درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ حکام درخواست گزاروں کو اپنے دفاع کی مؤثر تیاری کے لیے اپنے وکلا سے آزادانہ، خفیہ اور بغیر نگرانی کے مشاورت کی سہولت فراہم کریں۔ عدالت سے یہ بھی استدعا کی گئی ہے کہ 12 جون کے نوٹیفکیشن سے قبل جس طرح کھلی عدالت میں عوامی رسائی کے ساتھ کارروائیاں ہوتی تھیں، اسی طرح تمام عدالتی کارروائیاں دوبارہ کھلی اور عوام کے لیے قابلِ رسائی عدالت میں بحال کی جائیں، تاکہ انصاف، مساوات اور منصفانہ قانونی عمل کے تقاضے پورے ہو سکیں۔
بی وائی سی نے کہاکہ ہائی کورٹ کی جانب سے نوٹسز کا اجرا ایک اہم پیش رفت ہے، کیونکہ اس کے ذریعے ان اقدامات کی قانونی حیثیت اور آئینی حیثیت کو عدالتی جانچ کے لیے عدالت کے سامنے لایا گیا ہے۔ اب فریقین کو درخواست کا جواب دینا ہوگا اور ان اقدامات کی قانونی بنیاد کی وضاحت کرنا ہوگی جنہیں درخواست میں چیلنج کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ تنظیم کا مسلسل مؤقف رہا ہے کہ منصفانہ اور شفاف ٹرائل کے حق کو ایسے طریقہ کار کے ذریعے متاثر نہیں کیا جا سکتا جو عوام کو عدالتی کارروائی تک رسائی سے محروم کر دے۔ سیاسی اور دیگر زیرِ حراست افراد کے مقدمات میں شفافیت، قانونی تقاضوں کی تکمیل اور بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے۔
مزید کہاہے کہ بند دروازوں کے پیچھے یا فیس لیس انداز میں ہونے والی عدالتی کارروائیاں شفافیت، جوابدہی اور ملزم کے مؤثر دفاع کے حق کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا کرتی ہیں۔ انصاف صرف قانون کے مطابق ہونا ہی کافی نہیں بلکہ انصاف کا عمل بھی ایسا ہونا چاہیے جو عوامی نگرانی اور جانچ کے لیے کھلا رہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مطابق یہ درخواست محض اس کی زیرِ حراست قیادت کا قانونی معاملہ نہیں بلکہ عدلیہ کی آزادی، عدالتی کارروائیوں میں شفافیت، قانونی تقاضوں، بنیادی حقوق اور قانون کی حکمرانی سے متعلق ایک اہم سوال ہے۔
آخر میں کہا ہے کہ وہ اپنے زیرِ حراست رہنماؤں اور کارکنوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے تمام قانونی اور پُرامن راستے اختیار کرتی رہے گی اور شفاف، کھلی اور منصفانہ عدالتی کارروائیوں کا مطالبہ جاری رکھے گی۔














































