بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سربراہ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے بھارتی خبر رساں ادارے دی سنڈے گارڈین کے نامہ نگار ابھینندن مشرا کو ایک خصوصی انٹرویو میں کہا ہے کہ بلوچ نوجوان تحریک میں نئی سیاسی و عسکری حکمتِ عملیاں متعارف کرا رہے ہیں، جبکہ بلوچستان کے معدنی وسائل میں سرمایہ کاری کرنے والی غیر ملکی کمپنیوں کو خطے میں سرمایہ کاری سے گریز کرنا چاہیے۔
نامعلوم مقام سے دیے گئے انٹرویو میں ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے کہا کہ بلوچ مسلح تحریک کئی دہائیوں پر محیط ہے اور موجودہ مرحلے میں نئی نسل کے بلوچ جنگجو جدید سیاسی و عسکری حکمتِ عملیوں کے ساتھ تحریک میں شامل ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچ تحریک کا بنیادی اور واحد مقصد آزادی ہے اور کسی قسم کی خودمختاری یا سیاسی رعایت اس کا متبادل نہیں ہو سکتی۔
ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کے مطابق بلوچستان میں آزادی کی تحریک میں شدت آئی ہے، تاہم یہ کوئی نئی صورتِ حال نہیں بلکہ گزشتہ تقریباً تین دہائیوں سے جاری جنگ کا تسلسل ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی فوج کے خلاف طویل جنگ کے دوران بلوچ آزادی پسندوں نے وسیع تجربہ حاصل کیا ہے، جبکہ بلوچستان کا جغرافیہ اور مقامی بلوچ آبادی کی حمایت تحریک کے لیے قدرتی معاونت فراہم کرتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہر جنگ سیاسی مقاصد کے لیے لڑی جاتی ہے اور بلوچ تحریک کا بنیادی مقصد بلوچستان کی آزادی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بی ایل اے کی آپریشن ہیروف 2 اور بی ایل ایف کی حالیہ کارروائیاں ان کے لیے غیر معمولی نہیں، بلکہ بلوچ جنگ کے طویل تسلسل اور نئی نسل، خصوصاً نئی نسل، کی بلوچ تحریک میں شمولیت کا اظہار ہیں۔
ڈاکٹر اللہ نذر کے مطابق نوجوان صرف اسلحے سے لیس ہو کر بلوچ تحریک کا حصہ نہیں بن رہے بلکہ بلوچ قوم پرستی کے نظریے کے ساتھ جدید سیاسی اور عسکری حکمتِ عملی بھی اپنا رہے ہیں۔
بی ایل اے اور بی ایل ایف کے درمیان تعاون سے متعلق سوال پر ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے کہا کہ دونوں تنظیمیں نظریاتی، تزویراتی اور حربی سطح پر ایک دوسرے کے ساتھ بہتر طور پر مربوط ہیں۔
اپنے خلاف پاکستانی حکام کی جانب سے متعدد مرتبہ ہلاکت یا گرفتاری کے دعووں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ پاکستانی ریاست انہیں اور دیگر تنظیمی کارکنوں کو ختم کرنا چاہتی ہے، تاہم ایسے دعوے ناکام ثابت ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تنظیمی ڈھانچہ اس انداز میں تشکیل دیا گیا ہے کہ جنگ ایک باقاعدہ کمانڈ چین کے تحت جاری رکھی جا سکے۔
ان کے مطابق تحریک کی سیاسی کامیابیوں کے لیے طویل المدتی حکمتِ عملی موجود ہے اور دشمن کی نقل و حرکت کے مطابق وقتاً فوقتاً جنگی حکمتِ عملی تبدیل کی جاتی ہے، تاہم منزل بلوچ آزادی ہی ہے۔
بلوچستان کے معدنی وسائل اور ریکوڈک و سیندک جیسے منصوبوں سے متعلق بلوچ رہنما ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے کہا کہ بلوچستان نایاب معدنیات، تیل، سونے اور قدرتی گیس سمیت وسیع قدرتی وسائل رکھتا ہے، جبکہ اس کی ساحلی پٹی بھی سینکڑوں کلومیٹر پر محیط ہے۔
انہوں نے کہا کہ بی ایل ایف ریکوڈک اور سیندک سمیت ان تمام منصوبوں کی مخالفت کرتی ہے جنہیں وہ بلوچستان کے وسائل کے استحصال کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ مل کر بلوچستان میں معدنی وسائل کی تلاش اور استخراج کرنے والی تمام کثیر القومی کمپنیوں اور عالمی طاقتوں کو سرمایہ کاری سے گریز کرنا چاہیے۔
ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ بلوچستان میں معدنیات کی تلاش و استخراج کے لیے کی جانے والی سرمایہ کاری کو وہ وسائل کے استحصال اور پاکستانی ریاست کو مضبوط کرنے کے عمل کے طور پر دیکھتے ہیں اور ایسی کمپنیوں کی سرمایہ کاری کو بی ایل ایف کے لیے ’’جائز ہدف‘‘ قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ آزاد بلوچستان کے قیام کے بعد وسائل کو بلوچ عوام کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال کیا جائے گا اور بلوچستان کو ایک فلاحی ریاست بنایا جائے گا۔
بھارت کی جانب سے بلوچ مسلح تحریک کی حمایت کے الزامات سے متعلق سوال پر ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے پاکستانی ریاست کے الزامات اور پروپیگنڈے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہیں امید ہے کہ بھارت بلوچ تحریک کے لیے سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت فراہم کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ بھارت اقوام متحدہ سمیت عالمی فورمز پر بھی بلوچ تحریک کی حمایت کرے، کیونکہ وہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اور خطے کی ایک بڑی طاقت ہے۔
ان کے مطابق بلوچ تحریک محض ایک مسلح بغاوت نہیں بلکہ ایک مقامی قومی آزادی کی جدوجہد ہے۔
24 مئی کو پاکستانی فورسز اہلکاروں اور ان کے اہلِ خانہ کو لے جانے والی ٹرین پر حملے سے متعلق سوال پر ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے کہا کہ حملہ بی ایل اے کے جنگجوؤں نے کیا تھا اور اس کا ہدف فوجی اہلکار تھے۔
انہوں نے کہا کہ اس کارروائی کے دوران شہریوں کو ٹرین سے اترنے اور محفوظ مقام پر جانے کا موقع دیا گیا تھا۔
انہوں نے بلوچستان میں پاکستانی فوج کی فضائی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ گِدار، سوراب سمیت مختلف علاقوں میں عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے کہا کہ میری اور مشکے سمیت مختلف علاقوں میں فضائی بمباری کے واقعات میں شہری خاندانوں کے افراد مارے گئے، جبکہ آواران کے علاقے واہلی میں 2015ء کی ایک کارروائی کا بھی حوالہ دیا۔
انہوں نے کہا کہ بی ایل ایف جنگ کے بین الاقوامی قوانین کا احترام کرتی ہے اور عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے بلوچستان میں مبینہ جنگی جرائم کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔
بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کو امریکا کی جانب سے غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دیے جانے کے بارے میں ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے کہا کہ عالمی طاقتیں اپنے مفادات کے تحت فیصلے کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انہیں توقع ہے کہ امریکا مستقبل میں اپنے فیصلے پر نظرِثانی کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ جب چین اور پاکستان نے سلامتی کونسل میں بی ایل اے پر پابندی عائد کرنے کی قرارداد پیش کی تو امریکا، برطانیہ اور فرانس نے اس کی مخالفت کی۔
ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کے مطابق بی ایل ایف کو دنیا کے ان قانونی اور سیاسی فورمز تک رسائی حاصل ہے جو آزادی، انسانی حقوق اور محکوم اقوام کے حقِ خودارادیت پر یقین رکھتے ہیں۔
پاکستانی فوج کی جانب سے بلوچستان میں مسلح گروہوں کے کمانڈ اینڈ کنٹرول کو کمزور کرنے کے دعووں پر ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے اسے بے بنیاد قرار دیا۔
انہوں نے صحافی کو بتایا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی ایک حالیہ بریفنگ میں بلوچستان میں ایک سال کے دوران 31 ہزار سے زائد فوجی کارروائیوں کا ذکر کیا گیا، جو ان کے بقول پاکستانی فوج کی مشکلات کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی فوج قومی آزادی کی تحریک اور محض امن و امان کی صورتِ حال کے درمیان فرق سمجھنے میں ناکام رہی ہے، بلوچ تحریک کو بلوچ عوام کی حمایت حاصل ہے، جبکہ بلوچستان کے پہاڑ، جنگلات اور جغرافیہ پاکستانی فوج کے لیے اجنبی ہیں۔
اپنے انٹرویو میں جبری گمشدگیوں، حراست اور ماورائے عدالت ہلاکتوں کے حوالے سے ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے کہا کہ بلوچ نوجوانوں اور خصوصاً تعلیم یافتہ طبقے کو نشانہ بنائے جانے کی وجہ سے نئی نسل بلوچ آزادی کی تحریک میں شامل ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچ عوام کے خلاف مبینہ کارروائیوں پر دنیا بھر میں انسانی حقوق کی تنظیمیں سوال اٹھا رہی ہیں، تاہم پاکستان عالمی قوانین کی پاسداری نہیں کرتا۔ انہوں نے اقوام متحدہ سے بلوچستان میں مداخلت کرتے ہوئے خطے کو بین الاقوامی جنگی زون قرار دینے کا مطالبہ کیا۔
ان کے مطابق ہر قوم کے فرد کو قبضے اور نوآبادیاتی نظام کے خلاف مزاحمت کا حق حاصل ہے اور بلوچ آزادی کی تحریک کو بلوچ قوم، دانشوروں اور دنیا بھر میں حقِ خودارادیت پر یقین رکھنے والے حلقوں کی اخلاقی حمایت حاصل ہے۔
اسلام آباد کی جانب سے سیاسی خودمختاری، وسائل میں زیادہ حصہ، جبری گمشدگیوں کے خاتمے اور بین الاقوامی نگرانی میں عمل درآمد کی ضمانت کی صورت میں مذاکرات کے امکان پر ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے کہا کہ مذاکرات صرف ایک شرط پر ہو سکتے ہیں: بین الاقوامی طاقتوں کی موجودگی میں پاکستانی فوج کو بلوچستان سے محفوظ انخلا کا راستہ فراہم کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے پاکستانی آئین پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ فوج، عدلیہ، پارلیمان اور انتظامیہ سے خود کو محفوظ رکھنے میں ناکام رہا ہے۔ بلوچ قوم کسی رعایت کو قبول نہیں کرتی اور اس کا مقصد ایک خودمختار و آزاد بلوچستان کا قیام ہے۔
ان کے بقول بلوچستان کی آزادی ہی اب واحد قابلِ قبول حل ہے۔














































