بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سپریم کمانڈر ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی صفِ اول کی قیادت ڈاکٹر مہرنگ بلوچ، شاہ جی صبغت اللہ بلوچ اور بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (BSO) کے فکری رہنمائوں کو مسلمہ قانونی معیارات و اصولوں کے برعکس ایک فیس لیس (faceless ) ٹرائل کا ڈھونگ رچاکر سنگین الزامات کے تحت قید و بند اور عمر قید کی سزائیں سنانا، دراصل پاکستانی مقتدرہ کے سیاسی دیوالیہ پن، فاشسٹ چہرے اور نوآبادیاتی ذہنیت کا کھلا اعتراف ہے۔ یہ انتقامی اور ظالمانہ فیصلہ ہمارے اس دیرینہ اور اصولی سیاسی موقف پر مہرِ تصدیق ثبت کرتا ہے کہ اس غیر فطری ریاست کے تمام ستون خواہ وہ عدلیہ ہو، مقننہ ہو یا انتظامیہ، سب پسِ پردہ عسکری اشرافیہ کے فیس لیس قوتوں کے اشاروں پر چلتی ہیں۔
انہوں نے کہاکہ جو عناصر اب بھی اس استعماری ڈھانچے کے اندر رہ کر جعلی جمہوریت، مقید عدلیہ اور بے وقعت آئین کی تقدس کا راگ الاپتے ہیں، پرامن عوامی و طالبعلم قیادت کو دی جانے والی یہ حالیہ سزائیں ان کی فکری دیوالیہ پن، سیاسی خوش فہمی اور سیاسی اندھے پن کو دور کرنے کے لیے کافی ہونی چاہئیں۔ پاکستان کوئی آئینی ریاست نہیں، اور اس کا مقتدرہ چند عسکری غاصبوں کا ایک مافیا ہے، جو محکوم اور مظلوم قوموں کی آوازِ حق کو دبانے کے لیے زرخرید سیاسی مہروں، پارلیمانی دکانداروں اور ضمیر فروش کرائے کے منصفوں کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔
ڈاکٹر اللہ نذر نے کہا ہے کہ ایک طرف قابض پاکستانی فوج روزانہ کی بنیاد پر بلوچ نوجوانوں، دانشوروں اور سیاسی کارکنوں کو جبری طور پر لاپتہ کر کے ان کی مسخ شدہ لاشیں گرا رہی ہے، اور دوسری طرف جو سیاسی اور انسانی حقوق کی قیادت کو قید و بند کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس منظم بلوچ نسل کشی اور حقوق کی پامالی پر پارلیمان میں بیٹھے نام نہاد سیاسی گماشتوں کی مجرمانہ خاموشی اور مصلحت پسندی یہ ثابت کرتی ہے کہ وہ اس تاریخی جبر میں قابض ریاست کے سہولت کار اور برابر کے حصے دار ہیں۔
اپنے بیان میں مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی نے ہمیشہ پرامن، عوامی اور سیاسی دائروں میں رہ کر، تمام تر ریاستی رکاوٹوں اور پروپیگنڈے کے باوجود، اس استبدادی نظام کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کیا ہے۔ لیکن ایک آمرانہ اور فاشسٹ ریاست کے لیے مظلوموں کی یہ پرامن فکری اور سیاسی جدوجہد بھی ناقابلِ برداشت ہو چکی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اب بھی کوئی ذی شعور اور باضمیر بلوچ اس مغالطے میں رہ سکتا ہے کہ ریاستِ پاکستان ایک خونخوار جلاد کے سوا کچھ اور ہے؟ کیا یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں نہیں کہ یہ فیس لیس مخلوق کٹھ پتلی حکمرانوں کو محض چند ٹکڑوں کے عوض روز نچاتی ہے؟
انہوں نے کہاکہ عسکری ایما پر کیے گئے عدلیہ کے اس حالیہ فیصلے کی تائید اور ستائش صرف ان عناصر کی طرف سے سامنے آئی ہے جن کا اپنا دامن بلوچ عوام کے خون سے داغدار ہے۔ ان میں ایک طرف بلوچستان کا کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ شامل ہے جو سوئی، ڈیرہ بگٹی اور مچھ میں ریاستی پشت پناہی میں چلنے والے بدنامِ زمانہ ڈیتھ اسکواڈز کا سرغنہ ہے، تو دوسری طرف وہ سابقہ نگران کارندے ہیں جن کی سیاسی و اخلاقی گراوٹ کا یہ عالم ہے کہ وہ اپنے عسکری آقاؤں کی خوشنودی کے لیے پریس کانفرنسوں میں اپنی ماؤں کی توہین پر بھی مزاحمت کے حق سے دستبردار ہونے کو ریاست سے اپنی وفاداری کا معیار سمجھتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ان جیسے بے ضمیر، زرخرید اور ابن الوقت مہروں کے لیے غاصب فوج کی چاکری، بوٹ چاٹنا اور تابعداری کرنا ہی ان کا واحد ذریعۂ معاش اور سیاسی بقا ہے۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ شعور سے لیس بلوچ قوم نے برطانوی استعمار سے لے کر موجودہ عسکری قبضے کے پہلے دن سے اس نوآبادیاتی تسلط اور جبری الحاق کو یکسر مسترد کیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ریاست یاد رکھے کہ کوڑے، جیل، فیس لیس ٹرائل اور پھانسیاں کبھی قوموں کے نظریاتی اور سیاسی سفر کو نہیں روک سکتیں۔ بلوچ قوم آج اپنے حقوق، اپنی زمین اور اپنے وجود کی بقا کے لیے ہر محاذ پر سینہ سپر ہے۔ ماؤں، بہنوں اور نوجوانوں کی یہ لازوال قربانیاں، طویل فکری و سیاسی مزاحمت اور یہ صبر آزما تاریخی جدوجہد اس بات کا واضح اعلان ہے کہ اب کوئی مصلحت، کوئی کٹھ پتلی حکومت اور کوئی جابرانہ فیصلہ ہمیں پیچھے نہیں دھکیل سکتا۔
آخر میں کہاکہ ہماری منزل نہ یہ ربڑ اسٹمپ پارلیمان ہے، نہ یہ نوآبادیاتی آئین اور نہ ہی اس مقید عدلیہ سے انصاف، ہماری منزل صرف اور صرف ایک آزاد، خودمختار اور غصب شدہ حقوق سے پاک بلوچستان ہے، اور ہم اسے حاصل کر کے رہیں گے۔














































