مستونگ اور ڈیرہ بگٹی: بلوچ یکجہتی کمیٹی کا دو بلوچ شہریوں کی ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار، تحقیقات کا مطالبہ

47

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے مستونگ اور ڈیرہ بگٹی میں دو بلوچ شہریوں کی ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آزاد، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

بیان کے مطابق ڈیرہ بگٹی کے علاقے پیرکوہ سے تعلق رکھنے والے 27 سالہ بڑا بگٹی ولد حیدر دین بگٹی کو 16 جولائی 2026 کو مستونگ کے علاقے کھڈکوچہ میں پاکستانی فوج کے ہاتھوں ہلاک کیا گیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ بڑا بگٹی ایک محنت کش تھا جو مزدوری کرکے اپنے خاندان کا کفالت کرتا تھا اور اس پر کسی جرم کا الزام یا قانونی کارروائی کے بغیر اس کی جان لی گئی۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کہا کہ ڈیرہ بگٹی کے ایک شہری کا سینکڑوں کلومیٹر دور مستونگ میں ہلاک ہونا بلوچستان بھر میں جاری فوجی کارروائیوں اور شہریوں کو درپیش خطرات کی عکاسی کرتا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ احمد علی بلوچ ولد علی خان بگٹی، 19 جولائی 2026 کی صبح ایک بارودی سرنگ کے دھماکے میں جان بحق ہوئے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی نے دعویٰ کیا کہ یہ بارودی سرنگ ریاستی حمایت یافتہ مسلح گروہوں کی جانب سے نصب کی گئی تھی، جس کے باعث ایک نوجوان کی جان چلی گئی۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مطابق ڈیرہ بگٹی اور دیگر تنازع زدہ علاقوں میں بارودی سرنگیں عام شہریوں، بچوں اور چرواہوں سمیت مقامی آبادی کے لیے مسلسل خطرہ بنی ہوئی ہیں، جبکہ بلوچستان کے لوگ طویل عرصے سے بدامنی اور عدم تحفظ کا سامنا کر رہے ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیاں، ماورائے عدالت ہلاکتیں، سیاسی کارکنوں، طلبہ اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو درپیش مشکلات ایک سنگین صورتحال کی نشاندہی کرتی ہیں۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے احمد علی بلوچ اور دیگر ہلاکتوں کی آزادانہ تحقیقات، شہری علاقوں سے بارودی سرنگوں کے خاتمے اور ذمہ دار عناصر کے احتساب کا مطالبہ کیا ہے۔

تنظیم نے اقوام متحدہ، عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ بلوچستان کی صورتحال کا نوٹس لیں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خاتمے کے لیے کردار ادا کریں۔