مجاہد اور فرید کی گرفتاری کا دعویٰ جبری گمشدگی کے جرم پر پردہ ڈالنے کی ایک ناکام کوشش ہے۔بی وائی سی

27

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کہا ہے کہ فرید ولد اعجاز، 17 سالہ طالب علم، سکنہ سنگ آباد کرکی، ضلع کیچ، کو 19 دسمبر 2025 کو دوپہر تقریباً 2 بجے تجابان ایف سی کیمپ میں بلانے کے بعد حراست میں لیکر جبری طور پر لاپتہ کر دیا گیا تھا۔ اسی طرح مجاہد دلوش ولد دلوش، 18 سالہ طالب علم، سکنہ کرکی تجابان، ضلع کیچ، کو 23 دسمبر 2025 کی رات تقریباً ایک بجے سی ٹی ڈی اور ایم آئی اہلکاروں نے حراست میں لینے کے بعد جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا۔ دونوں نوجوان کئی ماہ تک ریاستی تحویل میں لاپتہ رہے جبکہ ان کے اہلِ خانہ مسلسل بے بسی، ذہنی اذیت اور غیر یقینی کی کیفیت میں انصاف کے لیے دروازے کھٹکھٹاتے رہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اب 7 جولائی کو سی ٹی ڈی نے انہی دونوں نوجوانوں کو کراچی سے ایک انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کے دوران گرفتار ظاہر کرتے ہوئے انہیں بی ایل اے سے وابستہ قرار دینے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ دعویٰ نہ صرف ناقابلِ یقین ہے بلکہ خود ریاستی اداروں کے بیانیے کو جھٹلاتا ہے، کیونکہ دسمبر 2025 میں ہی بلوچ یکجہتی کمیٹی ان دونوں نوجوانوں کی جبری گمشدگی کی تفصیلات اور شواہد عوام کے سامنے لا چکی تھی۔ اگر یہ نوجوان کئی ماہ سے ریاستی اداروں کی تحویل میں تھے تو انہیں آج ایک نئی کارروائی میں گرفتار ظاہر کرنا درحقیقت جبری گمشدگی کے جرم پر پردہ ڈالنے کی ایک ناکام کوشش ہے۔

مزید کہا ہے کہ یہ محض دو نوجوانوں کا معاملہ نہیں بلکہ بلوچستان میں ریاست پاکستان کی جانب سے جاری بلوچ نسل کشی پالیسی کا حصہ ہے۔ پہلے نوجوانوں کو غیرقانونی طور پر اغوا کیا جاتا ہے، مہینوں تک خفیہ حراست میں رکھا جاتا ہے، انہیں آئین، قانون اور عدالتوں کے تحفظ سے محروم رکھا جاتا ہے، ان کے اہلِ خانہ کو ذہنی اذیت میں مبتلا رکھا جاتا ہے، اور پھر کئی ماہ بعد انہی افراد کو کسی انٹیلیجنس آپریشن، مقابلے یا دہشت گردی کے مقدمے میں گرفتار ظاہر کرکے پوری جبری گمشدگی کو قانونی کارروائی کا روپ دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ طرزِ عمل اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بلوچستان میں قانون انصاف کی فراہمی کے لیے نہیں بلکہ ریاستی جبر کو قانونی جواز دینے کے لیے بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔ بلوچستان میں گزشتہ دو دہائیوں سے جاری جبری گمشدگیاں باقاعدہ ریاستی پالیسی کا حصہ ہے۔ ریاست ایک طرف اس جرم کے وجود سے انکار کرتی ہے، جبکہ دوسری طرف لاپتہ افراد کے لیے کمیشن قائم کرتی ہے، اور اب اسی پالیسی کے اگلے مرحلے میں پہلے سے جبری لاپتہ افراد کو دہشت گرد قرار دے کر اپنی غیرقانونی کارروائیوں کو جائز ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

آخر میں کہاکہ بی وائی سی اقوام متحدہ سے اپیل کرتی ہے کہ جبری گمشدگیوں اور بلوچ نسل کشی کے سنگین مسئلے پر ریاست پاکستان کو جوابدہ کیا جائے۔