چلتن کی ہوا میں بکھری یاد
تحریر: نودشان بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
کچھ ملاقاتیں وقت کے حساب میں ختم ہو جاتی ہیں، مگر کچھ ملاقاتیں انسان کی روح میں ہمیشہ کے لیے ٹھہر جاتی ہیں۔ وہ کبھی ماضی نہیں بنتیں، بلکہ ہر موسم میں ایک نئی صورت اختیار کر کے لوٹ آتی ہیں۔ میری یادوں میں بھی ایک ایسا ہی دن محفوظ ہے، جو وقت کے ساتھ مدھم نہیں ہوا بلکہ اور زیادہ گہرا ہو گیا ہے۔ جب بھی چلتن کا نام سنتی ہوں، میرے اندر ایک خاموش دروازہ کھل جاتا ہے، جیسے کسی پرانی دنیا کی دھڑکن دوبارہ زندہ ہو جائے۔ اس دروازے کے اُس پار وہی آسمان ہے، وہی پتھریلی راہیں ہیں، وہی تیز و بےرحم سی ہوا ہے، اور تم ہو۔ جیسے وقت نے تمہیں اسی لمحے میں ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا ہو۔ بعض جگہیں زمین پر نہیں ہوتیں، وہ دل کے اندر آباد ہوتی ہیں، اور چلتن میرے لیے اب صرف ایک پہاڑ نہیں بلکہ ایک مکمل احساس، ایک پوری یاد، ایک خاموش دنیا کا دوسرا نام ہے۔
اس دن ہوا غیر معمولی تھی، مگر اس کی غیر معمولیت صرف موسم تک محدود نہیں تھی۔ وہ درختوں کو ہی نہیں ہلا رہی تھی، بلکہ ہمارے درمیان موجود خاموشیوں کو بھی منتشر کر رہی تھی۔ ہم دونوں خاموشی سے اوپر کی طرف بڑھ رہے تھے، قدموں میں تھکن تھی مگر دل کسی انجانی کشش کے تابع تھا۔ کبھی قدم پھسل جاتا، کبھی سانس بھاری ہو جاتی، اور کبھی ہم لمحہ بھر کے لیے رک کر خود کو سنبھالتے، پھر دوبارہ سفر شروع کر دیتے۔ تمہارے چہرے پر ہمیشہ کی طرح ایک سادہ، مطمئن مگر گہری مسکراہٹ تھی، مگر اس کے پیچھے ایک ایسا سکوت چھپا ہوا تھا جسے میں اُس وقت سمجھ نہ سکی۔ جب ہم چوٹی کے قریب پہنچے تو تم نے دور کوہِ مہردار کی طرف دیکھا، دیر تک، بہت دیر تک۔ یوں لگ رہا تھا جیسے تم کسی پرانے شناسا پہاڑ سے نہیں بلکہ کسی ازلی حقیقت سے ہمکلام ہو۔ پھر تم نے آہستگی سے کہا، دیکھو… کوہِ مہردار ہمیں دیکھ رہا ہے، جیسے وہ اس لمحے کو محفوظ کر رہا ہو۔ میں نے بھی اسی سمت دیکھا، مگر اُس وقت مجھے صرف ایک پہاڑ دکھائی دیا۔ آج سمجھ آتا ہے کہ تم منظر نہیں دیکھ رہے تھے، تم وقت کی تہوں میں چھپی کوئی زبان پڑھ رہے تھے، جس تک میری سمجھ اُس دن نہیں پہنچ سکی۔
ہم دیر تک وہیں بیٹھے رہے۔ ہوا ہمارے گرد ایک غیر مرئی چادر کی مانند لپٹتی رہی، کبھی نرم، کبھی تیز، جیسے فطرت خود ہمارے ساتھ گفتگو کر رہی ہو۔ اچانک تم نے میری طرف دیکھا، اور نہایت دھیرے، مگر غیر معمولی سنجیدگی کے ساتھ کہا، تمہیں چلتن کے پہاڑوں کی قسم، تم ہمیشہ مضبوط رہنا… کبھی ٹوٹنا نہیں۔ میں بے اختیار مسکرا دی، اور ہنستے ہوئے جواب دیا، تم ہو نا، پھر میں کیوں کمزور رہوں گی؟ میری بات پر تم چند لمحے خاموش رہے۔ تم نے ایک گہری سانس لی، نظریں افق پر جمائے رکھیں، اور پھر بہت آہستگی سے بولے، اگر میں نہ رہا تو؟ یہ جملہ میرے دل کے اندر کسی برفیلے دریا کی طرح اتر گیا۔ میری آنکھوں میں آنسو بے اختیار آ گئے۔ تم نے مجھے دیکھا، ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ گویا ہوئے، یار… مت رو، میں نے تمہیں کہا نا، تم مضبوط رہنا۔ اُس وقت مجھے لگا یہ محض ایک جذباتی لمحہ ہے، مگر وقت نے ثابت کیا کہ بعض جملے لمحوں میں نہیں، برسوں میں اپنی حقیقت ظاہر کرتے ہیں۔
وقت اپنی بے رحم روانی کے ساتھ آگے بڑھتا رہا، مگر وہ گفتگو میرے اندر کہیں منجمد ہو گئی۔ میں نے بارہا خود سے پوچھا کہ تم نے وہ بات اس انداز میں کیوں کہی تھی۔ شاید کچھ دل آنے والے وقت کی دھڑکن پہلے ہی سن لیتے ہیں۔ شاید کچھ لوگ رخصت ہونے سے پہلے اپنے پیچھے الفاظ کی صورت میں ایک چراغ چھوڑ جاتے ہیں، تاکہ اندھیرا مکمل نہ ہو جائے۔ تم نے کوئی طویل نصیحت نہیں چھوڑی تھی، نہ کوئی مکمل وضاحت دی تھی، صرف چند جملے چھوڑے تھے، اور انہی چند جملوں نے میری پوری زندگی کے مفہوم کو بدل دیا۔
پھر ایک دن خبر آئی، اور اس خبر نے وقت کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ ایک وہ زمانہ تھا جس میں تمہاری موجودگی ہر منظر میں شامل تھی، ہر ہنسی میں تمہاری آواز گونجتی تھی۔ اور دوسرا وہ زمانہ ہے، جس میں ہر خاموشی تمہاری غیر موجودگی کا نوحہ بن گئی ہے۔ لوگ کہتے ہیں انسان چلا جاتا ہے، مگر میں نے سیکھا ہے کہ بعض ہستیاں کہیں نہیں جاتیں، وہ صرف اپنی صورت بدل لیتی ہیں۔ وہ ہوا میں شامل ہو جاتی ہیں، پہاڑوں کی خاموشی میں تحلیل ہو جاتی ہیں، یا پھر کسی جملے کے اندر ہمیشہ کے لیے زندہ رہ جاتی ہیں جو کبھی بے اختیار ادا ہوا ہو۔
اس کے بعد میں نے چلتن کو پہلے جیسا کبھی نہیں دیکھا۔ ہر منظر وہی ہے، مگر اس کا معنی بدل چکا ہے۔ اب جب میں وہاں کی تصویریں دیکھتی ہوں یا کسی سے اس پہاڑ کا ذکر سنتی ہوں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے چٹانیں اب بھی تمہاری آواز کو اپنے اندر محفوظ رکھے ہوئے ہیں۔ کوہِ مہردار اب بھی اسی طرح خاموش کھڑا ہوگا، ہوا اب بھی اسی بے ترتیب آزادی سے چلتی ہوگی، سورج اب بھی انہی چوٹیوں کے پیچھے ڈوبتا ہوگا، مگر میرے لیے یہ سب اب صرف مناظر نہیں رہے، یہ ایک گمشدہ رفاقت کے زندہ استعارے بن چکے ہیں۔
تم نے مجھے مضبوط رہنے کو کہا تھا۔ پہلے میں سمجھتی تھی کہ مضبوطی آنسو نہ بہانے کا نام ہے، مگر وقت نے یہ سکھایا کہ اصل مضبوطی یادوں کے ساتھ جینا ہے، بغیر ٹوٹے نہیں بلکہ ٹوٹ کر بھی سنبھل جانے کا فن ہے۔ مضبوطی یہ ہے کہ بچھڑ جانے والوں کی اچھائی کو اپنے کردار میں محفوظ رکھا جائے، ان کے لہجے کی نرمی کو اپنی گفتگو میں، ان کے اصولوں کو اپنے فیصلوں میں، اور ان کی دعاؤں کو اپنے حوصلے میں جگہ دی جائے۔ شاید یہی وہ اصل پیغام تھا جو تم اُس دن پہاڑ کی چوٹی پر چھوڑ گئے تھے، لفظوں میں نہیں، احساس میں۔
آج بھی جب دل بوجھل ہو جاتا ہے تو میں آنکھیں بند کر کے خود کو اسی چوٹی پر لے جاتی ہوں۔ ہوا ویسی ہی تیز چل رہی ہوتی ہے، تم وہیں کہیں موجود ہوتے ہو، کوہِ مہردار اپنی خاموشی کے ساتھ سامنے کھڑا ہوتا ہے، اور وقت ایک لمحے کے لیے پھر ٹھہر سا جاتا ہے۔ پھر میرے کانوں میں وہی آواز گونجتی ہے، “تمہیں چلتن کے پہاڑوں کی قسم، تم ہمیشہ مضبوط رہنا… کبھی ٹوٹنا نہیں۔” اور میں ہر بار اسی جواب کو دہراتی ہوں، تم ہو نا، پھر میں کیوں کمزور رہوں گی؟ اور ہر بار خاموشی کے اُس پار سے وہی نرم، مدھم مگر اٹل جملہ لوٹ آتا ہے، یار… مت رو، میں نے تمہیں کہا نا، تم مضبوط رہنا۔
شاید کچھ رفاقتیں ختم نہیں ہوتیں، وہ صرف اپنی صورت بدل لیتی ہیں۔ کچھ لوگ یاد نہیں بنتے، وہ انسان کے اندر ایک اخلاق، ایک حوصلہ، اور ایک خاموش روشنی بن کر ہمیشہ کے لیے رہ جاتے ہیں۔ اسی لیے جب بھی چلتن کی ہوا میرے چہرے کو چھوتی ہے تو مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وقت نے وہ گفتگو ابھی تک مکمل نہیں ہونے دی۔ چلتن اب بھی خاموش ہے، کوہِ مہردار اب بھی دیکھ رہا ہے، اور میں اب بھی اُن چند لفظوں کی امانت سنبھالے ہوئے ہوں۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































