روایتوں کو بدلنے والا وطن زاد ۔ جعفر قمبرانی

1

روایتوں کو بدلنے والا وطن زاد۔

تحریر جعفر قمبرانی

دی بلوچستان پوسٹ 

مجھے یہ بھی یاد نہیں کہ ہماری ملاقات آخری بار کب ہوئی تھی۔ مگر یہ ضرور یاد ہے کہ ایک بار اس کی ایک ولاگ ویڈیو دیکھتے ہوئے بےساختہ میرے منہ سے اس کے لیے یہ الفاظ نکلے تھے:

“وہ اپنے خاندان میں ایک روایتی بچے سے زیادہ انقلابی شعور رکھنے والا ذی شعور ہے۔ وہ تبدیلی کا خواہاں ہے۔”

اور دیکھے اس نے شہادت کا مرتبہ پا کر میرے خیالات کو صحیح ثابت کر دیا۔ وہ گوہر نایاب نکلے۔

شہید قدوس قمبرانی ایک ایسے خاندان سے تعلق رکھنے والا شخص تھا، جس کا خاندان اپنے کام سے کام رکھنے والا، شریف، متوسط اور خوش باش گھرانے کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اس نے نہ صرف اپنے گھر کی پرانی مزاحمت کی بجائے مصلحت اور انقلاب کے بجائے ظلم کے سائے میں جینے جیسی روایتوں کو توڑا ہے، بلکہ قوم کو بھی اس جمود سے نکالنے کی کوشش کی ہے، جس میں وہ ستر سالوں سے پڑی سو رہی تھی۔

سنگت قدوس نے نہ صرف اپنے خاندان کو یہ راہ دکھانے میں پہل کی ہے کہ اصل زندگی موت کو گلے لگانے کا نام ہے، بلکہ پوری بلوچ قوم کو بھی یہ یاد دہانی کرائی ہے کہ یہ جنگ صرف غریب طبقات کی نہیں، بلکہ وہ لوگ بھی اس جدوجہد کا ضروری حصہ ہیں، جنہوں نے بچپن سے لڑکپن اور جوانی تک بڑے شہروں کے ہاسٹلز میں گزاری ہو۔ اس نے عملی طور پر قوم پر یہ راز افشا کیے ہیں کہ فوٹو گرافی کا شوق، بہنوں سے پیار کرنے کا جنون، والدین کو خوش کرنے کے وعدے اور پڑھ لکھ کر سرکاری کرسی پر بیٹھتے ہوئے قوم کو لوٹنے کا خواب وطن کے لیے قربان کیے جا سکتے ہیں۔

شہید قدوس جان 21 نومبر 2001 کو پیدا ہو کر پانچویں کلاس تک ماں باپ کے سائے میں اپنے آبائی شہر قلات میں مقیم ہوتے ہیں۔ معلوم ہے کچھ اولاد ماں باپ نے صرف وطن کی خاطر پیدا کیے ہوتے ہیں، اور شہید قدوس بھی انہیں وطن زادوں میں سے ایک تھے، جن کی تربیت بلوچستان کے شہداء کی خون آلود ہواؤں نے کی ہے۔

اسی لیے پانچویں کلاس کے بعد ماں باپ کو چھوڑ کر شال کی پرآشوب فضا میں میٹرک اور انٹر کالج کوئٹہ سے انٹر کرتے ہی اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے لاہور کا رخ کرتے ہیں۔ شال کی پرآشوب فضاؤں میں پالا پوسا بلوچ زادہ لاہور میں بھلا کیسے ٹکتا، کہ جہاں بلوچستان کے نوجوانوں کے خون، سیندک، ریکوڈک اور گوادر کی آمدنیوں سے بنی موٹروے اور ترقی یافتہ پنجابی لٹیروں کی نہ ختم ہونے والی تعمیرات اپنی قومی غلامی کا احساس دلاتی رہتی ہیں۔ یاد رہے کہ لاہور کا غیر فطری اور یورپ زدہ پنجابی ماحول ایک غیرت مند بلوچ کے لیے انتہائی ناگوار ہوتا ہے، اور اسی لیے اس وطن زادے شہید قدوس نے چھ ماہ بعد لاہور کو خیر باد کہہ کر لسبیلہ یونیورسٹی کا رخ کیا۔

بلوچستان اور پنجاب میں تعلیمی تفریق، بلوچستان کی جامعات کا گرا ہوا تعلیمی معیار اور بلوچ قوم کے ساتھ ایسا ناروا سلوک صرف وہی محسوس کرتے ہیں، جن کی آنکھ، کان اور دماغ کھلے ہوئے ہوں۔ دوسری جانب ایک باشعور بلوچ یہ بھی جانتا ہے کہ یونیورسٹی کی ڈگری سے اسے چھوٹی سی نوکری یا نوکری کے لیے مدتوں کا بے سود انتظار تو مل سکتا ہے، مگر سکون کبھی نہیں ملتا۔ اور پھر اوتھل تو شہید شاہ فہد کا چار سالہ قیام گاہ اور شہید کامریڈ حمیدہ کی سیاسی درسگاہ رہی ہے۔ اوتھل میں لمہ چاگلی کی مزاحمتی داستان ابھی تک زندہ ہے کہ شہید قدوس وہاں پہنچ کر فیصلے کی انتہائی آخری گھڑیوں کو پا لیتا ہے۔

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ انسان کی زندگی کا سب سے اہم موڑ وہی ہوتا ہے، جب وہ اپنی زندگی کا سب سے کٹھن اور مشکل فیصلہ لے رہا ہوتا ہے، اور جب فیصلہ وطن کی حفاظت، بلوچ ماں بہنوں کی آبرو ریزی کا بدلہ اور اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے کا ہو، تو وہاں تمام رشتے سیکنڈری بن جاتے ہیں اور اولین ترجیحات میں ظلم کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا ہوتا ہے، اور شہید قدوس جان نے ایسا ہی کیا۔

یقیناً اس وقت اسے اپنی سگی لمّہ جان سے زیادہ وطن کی وہ تمام مائیں یاد آ رہی ہوں گی، جو پنجابی استعمار کے ہاتھوں سڑکوں پر ذلیل و خوار ہوتی ہیں۔ اسے والد صاحب کی یاد سے زیادہ ان تمام بلوچ شہداء کی یاد غمگین کرتی ہوگی، جنہوں نے مسکراتے ہوئے وطن پر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔

کتنا سخت، پُرکٹھن مگر خوبصورت لمحہ ہوگا، جس نے اسے فیصلے لینے میں ہمت دی اور اوتھل سے ہربوئی کے سنگلاخ پہاڑوں تک پہنچایا۔ کیا اسے اپنی بلاگ بناتی زندگی، جو کبھی ہاسٹل، کبھی خیل روڈ اور کبھی میری کے اوپر لطف اٹھاتے ہوئے گزری، یاد نہیں آتی ہوگی؟ کیا شہید قدوس بھی ایک روایتی اور برائے نام فرمانبردار بیٹا نہیں ہو سکتا تھا، جو پیدائش، تعلیم، نوکری، شادی اور پھر دوسروں کی طرح اپنی آخری آرام گاہ تک پہنچتا؟ مگر اسے معلوم تھا کہ آج اس نے اپنے خاندان اور علاقے میں روایتیں نہیں توڑیں تو نہ جانے یہ قوم مزید کتنی غلامی اور بے سروسامانی میں زندگی گزارتی۔

اس نے روایتوں کی زنجیروں کو توڑ کر یہ پیغام دیا ہے کہ غلامی سے بڑھ کر کوئی شے اذیت ناک نہیں اور آزادی کی راہ میں مر مٹنے سے زیادہ کوئی موت خوش گوار نہیں ہو سکتی۔

آج وہ ایک لمحے کے لیے بھی لوٹ آتے تو اپنی بہن کے گال کو تھپتھپا کر یہ ضرور کہتے کہ پیاری بہنا، میرے جانے سے زیادہ اس قوم کی حالتِ زار پر رونا چاہیے، جو پنجابی استعمار کے ہاتھوں برسوں سے ظلم کے سائے میں جی رہی ہے، وہ لوٹ آتے تو اپنی لمہ جان کو گلے لگاکر پوٹ پوٹ کر رونے دیتے اور اپنے باوہ جان سے یہ کہہ کر الجھتے کہ دشمن کی خوف سے وطن زادوں سے منہ نہیں موڑتے بلکہ انہیں اپنا کر دعاؤں اور ایصال ثواب کے ساتھ جشن مناتے ہیں۔ کاش وہ ایک لمحے کیلے لوٹ آتے تو سب کو سمجھاتے کہ وطن زاد تو کبھی نہیں مرتے بلکہ وہ ابدی زندی پا چکے ہوتے ہیں۔

یاد رہے شہید قدوس جان، شہید شہزاد کا ہم عصر بھی ہے اور ہم فکر بھی، کہ دونوں نے مل کر قہقہان کی ہواؤں کو مزاحمتی خون سے معطر کر دیا۔ امید ہے کہ ان کی پُرآشوب موت قوم کو جگائے رکھے گی اور غلامی کا احساس ہر گھر تک پہنچا کر رہے گی تاکہ قوم جاگتا رہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔