جیونی کا فوجی محاصرہ فوری ختم کیا جائے۔ مولانا ہدایت الرحمان

51

بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر سے منتحب رکنِ بلوچستان اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان نے جیونی میں عوام کی نقل و حرکت پر عائد پابندیوں اور غیر اعلانیہ کرفیو نما صورتحال پر شدید تشویش اور احتجاج کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ علاقے کا محاصرہ فوری طور پر ختم کیا جائے اور شہریوں کو معمول کی زندگی گزارنے کا حق دیا جائے۔

اپنے بیان میں مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے کہا کہ جیونی پانوان میں خودکش حملے کے بعد سے پورے علاقے میں عوام کی آزادانہ نقل و حرکت محدود کر دی گئی ہے، جبکہ ملک کے مختلف علاقوں سے روزگار کے سلسلے میں آنے والے سینکڑوں مزدوروں کو بھی علاقے سے واپس بھیج دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کئی دن گزرنے کے باوجود سڑکیں اور راستے بند ہیں، جس کے باعث عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے کہا کہ جیونی کے عوام بھی پاکستان کے شہری ہیں اور انہیں آئین کے تحت حاصل بنیادی حقوق، خصوصاً آزادانہ نقل و حرکت کے حق سے محروم رکھنا کسی صورت درست نہیں۔ انہوں نے کہا کہ امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانا متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے، تاہم اس کی آڑ میں عام شہریوں کو مشکلات میں مبتلا کرنا مناسب طرزِ عمل نہیں۔

انہوں نے کہا کہ راستوں کی بندش کی وجہ سے جیونی کے درجنوں مریض بروقت علاج سے محروم ہیں۔ متعدد مریض گوادر کے جی ڈی اے انڈس اسپتال اور کراچی کے مختلف اسپتالوں میں علاج کے منتظر ہیں، مگر آمدورفت کی پابندیوں کے باعث وہ بروقت طبی سہولیات حاصل نہیں کر پا رہے، جس سے انسانی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

رکنِ اسمبلی نے کور کمانڈر بلوچستان، وزیر اعلیٰ بلوچستان اور چیف آف آرمی اسٹاف (فیلڈ مارشل) سے مطالبہ کیا کہ جیونی کا غیر اعلانیہ محاصرہ اور غیر ضروری پابندیاں فوری طور پر ختم کی جائیں، مین شاہراہ اور جیونی جانے والے تمام راستے بلا تاخیر کھولے جائیں تاکہ شہری معمول کے مطابق اپنی زندگی، کاروبار، تعلیم اور علاج معالجے کے امور انجام دے سکیں۔

مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے کہا کہ عوامی مشکلات کا فوری ازالہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر جیونی کا محاصرہ اور راستوں کی بندش ختم نہ کی گئی تو وہ عوام کے ساتھ مل کر پرامن اور جمہوری انداز میں احتجاج کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شہریوں کو مشکلات میں ڈال کر مسائل کا حل نہیں نکالا جا سکتا، اس لیے متعلقہ حکام فوری نوٹس لے کر عوام کو ریلیف فراہم کریں۔