وارڈ نمبر ۹ – سنگت ھانلی

1

وارڈ نمبر ۹

تحریر: سنگت ھانلی

دی بلوچستان پوسٹ

مجھے مچھ جیل میں تعینات ہوئے قریباً چار ماہ ہو چکے تھے، مگر اُس رات میں ایک ایسا کام کرنے جا رہا تھا جو اپنی پوری ملازمت میں کبھی نہیں کیا تھا۔ یہ نہیں معلوم کہ وہ ایک سرکاری افسر کی بددیانتی تھی، ایک بلوچ نوجوان کی آذادی سے محبت۔ خیر، اُس وقت میرے پاس ان سوالوں کے جواب سوچنے کا وقت نہیں تھا۔

سر پہ ٹوپی جمائے میں نے اپنی سرمئی جیکٹ کے بٹن بند کیے، ہاتھ میں معمول کے مطابق لکڑی کی چھڑی تھامی اور لمبے، نیم تاریک راہداری میں قدم رکھ دیا۔ رات کافی گزر چکی تھی۔ دیواروں سے پیوست چراغ ہوا کی وجہ سے لگ بجھ رہے تھے۔ زیادہ تر قیدی سو چکے تھے وارڈ نمبر 9 آہستہ آہستہ میرے قریب آ رہا تھا اور اس کے ساتھ ہی میرے دل کی دھڑکن بھی تیز ہوتی جا رہی تھی۔ ہوا کے جھونکوں کی درختوں اور پتھر کی دیواروں سے ٹکرانے کی آواز میرے سہمے ہوئے دل کو اور وہشت میں ڈال رئی تھی۔

وارڈ نمبر 9، اب میرے سامنے تھا۔ آخری کمرے کی چھوٹی سی کوٹھڑی میں وہ شخص حسبِ معمول فرش پر بیٹھا تھا۔ میری آہٹ پر بھی وہ نہ ہلا۔ میں نے جیکٹ کے اندر سے اخبار کا تہہ شدہ ورق نکالا اور اس کی چھوٹی سی کھڑکی سے اندر دکھیل دیا۔ پھر کوٹھڑی کے باہر کھڑا انتظار کرنے لگا۔ میری خواہش صرف اتنی تھی کہ وہ جلدی سے اسے پڑھ لے، میں اخبار واپس لے لوں اور اس راہداری سے نکل جاؤں۔ کیونکہ اُس رات اگر میں پکڑا جاتا، تو مجھے یقین تھا کہ قیدی اور مجھ میں فرق صرف لباس کا رہ جانا تھا۔

اب سنگت آپ سوچ رہے ہونگے یہ کہانی مُجھ تک کیسے پہنچی ؟
چند روز قبل میری ایک تحریر اُس شخص نے پڑھی تھی، اگلے دن اس نے مجھے پیغام بھجوایا کہ وہ مجھ سے ملنا چاہتا ہے۔ ملاقات کے دوران، اس نے میری تحریر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ “تم ایک اچھی لکھاری ہو ھانل، میری کہانی بھی قلم بند کردو”۔
میرے سامنے بیٹھا یہ اسی سالہ شخص اُس وقت محکمہ خوراک میں جونیئر سپلائی انسپکٹر تھا۔
انہوں نے بولنا شروع کیا جیسے مچھ جیل کی وہ رات ابھی کل ہی گزری ہو۔۔۔

“ان دنوں میری عمر بمشکل بائیس یا تئیس برس تھی۔ محکمہ خوراک میں جونیئر سپلائی انسپکٹر کے طور پر میری ذمہ داری جیل کے راشن، گودام اور باورچی خانے کے معاملات تک محدود تھی۔ میں قیدیوں کے نام نہیں جانتا تھا، صرف ان کے لیے مختص آٹے، چاول اور چائے کی مقدار جانتا تھا۔

مچھ جیل مچھ کے اُس حصے میں واقع ہے جہاں اردگرد کوئلے کی کانیں، پتھریلے پہاڑ اور ریلوے لائن ہے۔ گرمیوں میں دیواریں تندور بن جاتیں اور سردیوں میں یہی دیواریں یخ بستہ پتھر۔

جیل کا پورا احاطہ ایک نوآبادیاتی ڈھانچے پر قائم تھا جس میں مرکزی گیٹ، بیرونی چیک پوسٹس، گارڈ رومز، اسلحہ خانہ، رجسٹری آفس، راشن گودام، کچن، چھوٹے اسٹاف کوارٹرز اور اندرونی وارڈز شامل تھے۔ عملے میں وارڈر، ہیڈ کانسٹیبل، نائب داروغہ، کلرک، سپروائزری افسران اور سپرنٹنڈنٹ تک کے لوگ شامل ہوتے تھے، ہمارے نام عموماً عہدوں سے زیادہ نہیں بولے جاتے تھے۔

وارڈ نمبر 9 عرف “چلی وارڈ” جیل کے سب سے اندرونی اور محدود حصے میں تھا۔ روایات کے مطابق یہ وہ حصہ تھا جہاں زیادہ حساس یا سخت نگرانی والے قیدی رکھے جاتے تھے۔ وہاں تک پہنچنے کے لیے، تنگ کوریڈورز اور رجسٹرڈ چیک پوائنٹس سے گزرنا پڑتا تھا، اور ہر مرحلے پر وقت اور آمد و رفت کا اندراج کیا جاتا تھا۔ اندر چھوٹے سیلز تھے جن کے دروازوں میں جھروکے لگے تھے،اور اہلکار بھی وہاں بلا ضرورت جانے سے گریز کرتے تھے۔

کہتے ہیں کہ اس وارڈ میں جب کسی قیدی کو توڑنا مقصود ہوتا، تو قریب ہی سرخ مرچیں پیسی یا جلائی جاتیں اور ان کا دھواں آہستہ آہستہ کوٹھڑیوں میں سرکتا رہتا۔ مچھ جیل دراصل برطانوی نوآبادیاتی دور کی تعمیر تھی۔ اس کا اصل مقصد بلوچستان کے سرکش قبائلی سرداروں اور آزادی کے متوالوں کو کچلنا تھا۔ مچھ کا انتخاب کچھ یوں تھا کہ یہ علاقہ اپنی جغرافیائی تنہائی کی وجہ سے ایک قدرتی قید خانہ تھا، چاروں طرف ایسی آب و ہوا جو گرمیوں میں جلا دے اور سردیوں میں جما دے۔ برطانوی انتظامیہ نے یہی اصول بعد میں آنے والی حکومتوں کو وراثت میں دیا کہ بلوچ مزاحمت کو ختم کرنا ہو تو اس کی قیادت کو ان دیواروں کے پیچھے بند کرو۔

وارڈ نمبر ۹ میں قیدیوں کی بیرونی دنیا تک رسائی ناممکن ہوتی تھی۔ اخبارات، ریڈیو یا کسی بھی قسم کی معلومات تک رسائی سختی سے منع تھا، خوراک اور بنیادی ضروریات بھی چلی وارڈ کے قیدیوں کے لیے محدود تھے۔

انیس سو ساٹھ کی دہائی میں پاکستان ایک سخت سیاسی دور سے گزر رہا تھا۔ ملک کا انتظام فوجی حکومت کے تحت تھا، اور مرکزی اختیار فیلڈ مارشل ایوب خان کے پاس تھا۔ اُس وقت کا نظام زیادہ تر “قانونِ تحفظِ امن عامہ” جیسے قوانین کے تحت چلتا تھا، جن کے ذریعے سیاسی سرگرمیوں اور اختلافِ رائے کو کنٹرول کیا جاتا تھا۔

اسی دور میں جب چند سیاسی رہنماؤں نے صوبائی خودمختاری، مرکزیت اور One Unit نظام کے خلاف آواز اٹھائی، تو ریاستی سطح پر گرفتاریاں عمل میں آئیں۔ یہ گرفتاریاں کسی ایک لمحے یا ایک واقعے کا نتیجہ نہیں تھیں بلکہ ایک وسیع سیاسی کشمکش کا حصہ تھیں، جہاں اختلاف کو ریاستی نظم کے لیے خطرہ سمجھا جاتا تھا۔

انہی حالات کے دوران مچھ جیل میں کچھ ایسے افراد کو منتقل کیا گیا جنہیں حساس سیاسی قیدی سمجھا جاتا تھا۔ ان میں سے ایک کو مخصوص طور پر وارڈ نمبر 9 میں رکھا گیا، جہاں نگرانی زیادہ سخت اور رسائی محدود تھی۔

ایک رات گشتی گارڈ سکندر کی طبیعت خراب تھی، اس لیے ڈیوٹی وارڈ انچارج سب انسپکٹر نے مجھے وارڈ نمبر 9 کا معائنہ کرنے کی ذمہ داری دے دی۔ اس نے صاف کہا کہ اگر اندر کوئی غیر معمولی بات محسوس ہو تو فوراً رپورٹ کروں۔ یہ میرا پہلا موقع تھا کہ میں اس حصے میں اکیلا داخل ہو رہا تھا، اور مجھے حقیقت میں اندازہ نہیں تھا کہ اندر کیا ہے۔

میں چراغ لے کر تنگ کوریڈور میں داخل ہوا۔ بے اختیار مرچوں کی بو سے مجھے کھانسی آئی، خیر تمام قیدیوں کو دیکھنے کو بعد آخرکار میں آخری چھوٹے سے سیل تک پہنچا۔ جھروکا کھولا تو وہ وہاں بیٹھا تھا۔ پہلی نظر میں ہی مجھے اندازہ ہو گیا کہ میں اسے جانتا ہوں اور وہ بھی مجھے جانتا ہے۔

وہ شیرو مری کا کامریڈ ، کوہلو کے تپتے پہاڑوں کا شہزادہ ، وطن پرست ، چلی وارڈ کی اذیتوں میں بھی اپنا سفید سرخ رنگ برقرار رکھنے والا قریباً چونتیس سالا جوان۔۔
خیربخش مری تھا۔
اُسے اس وارڈ میں دیکھ کر میں خود پہ شرمندہ سا ہوا ،
ایک طرف میں ریاستی نظام کا حصہ تھا، سرکاری نوکری کے فرائض انجام دے رہا تھا، اور دوسری طرف اپنے ہی وطن کے اُن لوگوں کو قید میں دیکھ رہا تھا جو اپنے مؤقف میں پختہ تھے۔
ان کا معائنہ کیا اور پھر میں اپنے کوارٹر کی طرف بڑھ گیا۔

سکندر سے میری اچھی دوستی ہوگئی تھی، ہم ایک ہی کوارٹر میں رہتے تھے۔ جب میں واپس آیا تو اس نے میرے چہرے پر بےچینی محسوس کر لی۔ پوچھنے پر میں نے سادہ سا جواب دیا کہ بس وارڈ نمبر 9 کا چکر لگا کر آیا ہوں۔ اس نے فوراً سخت لہجے میں مجھے خبردار کیا کہ ہم غریب لوگ ہیں یہاں صرف اپنی ڈیوٹی کے لیے ہیں، ہمیں کسی سیاسی معاملے میں نہیں پڑنا چاہیے۔

میں نے بات بدلتے ہوئے کہا کہ شاید مرچوں کی بو اور بند ماحول کی وجہ سے بے چینی ہوئی ہے مجھے، اور پھر اس نے اپنے گلے کی خرابی کی وجہ بتائی اور کہا کہ وہ پہلے ہی تھائیرائیڈ کا مریض ہے۔ اسی دوران میں نے راشن اور رجسٹری کے کام کا ذکر کرتے ہوئے ایک تجویز دی کہ اگر اجازت ہو تو ہم اپنی ڈیوٹی تقسیم کر لیں، وہ دن میں وارڈ سنبھال لے میں رات میں وارڈ میں چکر لگا لیا کروں۔ اور رات میں وہ میری رجسٹری کا کام کر لیا کرے۔ کچھ دیر کی بحث کے بعد وہ راضی ہو گیا، اور ہم اگلی صبح پھر معمول کے کاموں کی طرف لوٹ گئے۔

کچھ روز تک ہمارا یہ روٹین معمول کے مطابق چلتا رہا۔ میں آدھی رات میں وارڈ نمبر 9 میں جاتا، کبھی اخبار، کبھی ضرورت کی کچھ چیز ساتھ لے جاتا اور خاموشی سے اپنا کام کر کے واپس آ جاتا۔ مگر دل کے کسی کونے میں یہ احساس موجود تھا کہ یہ سب زیادہ دیر تک اسی طرح نہیں چل سکتا، کیونکہ جیل میں ہر چیز کا ایک حد سے آگے جانا مشکل ہوتا ہے۔ شروع میں سب کچھ ٹھیک ہی چل رہا تھا، کوئی رکاوٹ نہیں تھی۔

پھر ایک شام میں نے فیصلہ کیا کہ آج ریڈیو ساتھ لے کر جاؤں گا۔ عید کے قریب کا وقت تھا، کچھ گارڈز عید کی چھٹی پہ گھر کیلیے نکل چکے تھے۔ آفیسرز اور انچارج اب مجھ پہ یقین کرنے لگے تھے تو رجسٹریشن کے علاوہ کچھ چیکنگ نہیں ہوتی تھی۔ میں نے ریڈیو کو پوری احتیاط سے کپڑے میں لپیٹا اور اپنی جیکٹ کے اندر ڈالا۔ جیکٹ کو بند کر کے میں نے خود کو معمول کے مطابق رکھنے کی کوشش کی، اور اسی حالت میں کوریڈور کی طرف بڑھ گیا۔

انچارج آفیسر صحن کے ایک کونے سے گزرتا ہوا قریب آ رہا تھا۔ گارڈ نے میری طرف دیکھتے ہی سختی سے کہا، “جیکٹ کھولو۔”
میں بے یقینی سے اسکے چہرے کو تکنے لگا۔ جیکٹ کیسے کھولوں؟ ۔ آج اچانک ؟ میری نوکری چلی جائیگی ، شاید سکندر کی بھی۔ میرے گھر میں چھوٹے چھوٹے بچے تھے اور میں جان چکا تھا اب میں بھی چلی وارڈ کا حصہ بننے والا ہوں۔
میرے اندر ایک لمحے کے لیے سب رک گیا۔ جیکٹ کے اندر ریڈیو میرے دل سے چھپکا محسوس ہورہا تھا۔ میں نے نظر ادھر ادھر دوڑائی ، انچارج ابھی پوری طرح قریب نہیں آیا تھا، مگر اگلا لمحہ فیصلہ کن تھا۔

جب وہ چند قدم کے فاصلے پر سے گزرا تو میں نے جیکٹ کھولی۔ اس ایک سیکنڈ میں ریڈیو نیچے گرا اور دھات کی آواز کوریڈور میں گونج سی گئی۔
خاموشی ایک دم ٹوٹ گئی۔
گارڈ نے فوراً جھک کر اسے اٹھایا، اور پھر سیدھا مجھے دیکھا۔ اس نے سخت آواز میں کہا،
“تم جانتے تھے تم کیا کر رہے تھے؟”

میں جواب نہیں دے سکا۔ میرے ہاتھ ٹھنڈے ہو گئے، اور دل کی دھڑکن اتنی تیز کہ خود کو سنائی دینے لگی۔

گارڈ نے ریڈیو کو ہاتھ میں الٹ پلٹ کر دیکھا، پھر میری طرف دیکھا۔ میں نے خود کو سیدھا کھڑا رکھنے کی کوشش کی مگر ٹانگوں میں ہلکی سی لرزش آ گئی۔
میں نہیں جانتا تھا کہ میں کیا کر رہا ہوں۔ مگر میں نے جلدی میں اپنی جیب خالی کی اور جتنے پیسے تھے اس کے سامنے رکھ دیے۔ شاید میری آدھی تنخوا۔۔ ایک لمحے کے لیے اس نے پیسوں کو دیکھا، پھر مجھے۔ اس کی آنکھوں میں تذبذب تھا۔

پھر اس نے خاموشی سے ریڈیو واپس میری طرف سرکا دیا۔ پیسے اپنی جیب میں رکھ لیے اور دھیرے سے کہا، “یہ آخری بار ہے۔”
اور پھر چابیوں کا گھچا میری طرف پھینکا۔
میں نے ریڈیو اور چابیوں کو سنبھالا اور بغیر ایک لفظ کہے اندر کی طرف دوڑا۔

وہاں جا کر باقی وارڈ کے قیدیوں کو معمول کے مطابق چیک کیا، انہیں سوتا دیکھ کر آخری سیل کی طرف بڑھا۔
آج پہلی بار میں نواب سے درمیانی دروازے کے بغیر ملنے والا تھا۔
چابیوں سے سیل کھولا اور اندر داخل ہوا۔
سیل اتنا چھوٹا تھا کہ ہم دونوں کے علاوہ وہاں کسی تیسرے شخص کی گنجائش نہیں تھی۔
میرے ہاتھ ٹھنڈے ہو چکے تھے، دل کی دھڑکن اتنی تیز تھی کہ سینہ پھٹتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔
میں نے لرزتے ہاتھوں سے ریڈیو ان کے سامنے رکھا۔
اور آج جو ہوا سب کچھ انہیں بتا دیا۔
وہ حیرت سے مجھے دیکھ رہے تھے، جیسے اس لمحے کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہو۔ پھر انہوں نے آہستہ سے کہا کہ اتنا بڑا خطرہ کیوں مول لیا؟
میں نے بس لاچاری سے کندھے سکیڑدیے۔

سب کچھ خیر خیریت سے ہونے کے بعد میں اپنے کوارٹر کی طرف بڑھا اور جاتے ہی سوگیا۔ اسے امید کے ساتھ کہ اگلا دن معمول کے مطابق گزر جائے گا، مگر رات تقریباً تین سے چار بجے کے درمیان اچانک کوارٹر کے دروازے پر دھڑام سے سخت دستک ہوئی۔میں نیند اور تھکن کے عالم میں باہر نکلا تو سامنے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل (DSJ)، اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ، وارڈ انچارج سب انسپکٹر اور دو مسلح گارڈ کھڑے تھے۔

انچارج نے حکم دیا کہ سب باہر آئیں۔ ہم سب نیم خوابیدہ حالت میں صحن میں جمع ہوئے تو DSJ کے سامنے مہز پہ ایک رجسٹر کھلا ہوا رکھا تھا۔ اس نے بغیر کسی نرمی کے ایک ایک نام پڑھنا شروع کیا۔۔ سکندر، میں، دوزُو ، سبزل ، بجار اور چند دوسرے وارڈ اسٹاف کے نام۔

اس کے بعد اس نے کہا کہ کل کے روز وارڈ نمبر 9 کے اندر غیر معمولی آمد و رفت درج ہے، اور رجسٹر کے مطابق وہاں “غیر مجاز شے” لے جانے کا امکان ہے۔ پھر اس نے میز پر ایک چھوٹا سا ریڈیو کا پرزہ رکھ دیا اور سخت لہجے میں کہا کہ جس کے پاس یہ چیز ہے وہ سامنے آ جائے، ورنہ باقاعدہ تفتیش شروع کی جائے گی۔

اس لمحے سکندر نے میری طرف دیکھا، میں نے سبزل کی طرف، سبزل نے DSJ کی طرف۔ وارڈ انچارج سب انسپکٹر کی پیشانی پر پسینہ آ گیا تھا، اور مسلح گارڈ مسلسل ہمارے چہروں کو دیکھ رہے تھے۔

مجھے اسی وقت اندازہ ہو گیا کہ یہ معاملہ اب صرف ایک غلطی نہیں رہا تھا۔۔۔ یہ ایک مکمل ریکارڈ بن چکا تھا، اور ہم سب اس کے اندر آ چکے تھے۔

جب کوئی واضح بات سامنے نہیں آ رہی تھی تو انسپکٹر نے مسلح گارڈز کے ساتھ چیکنگ کے لیے ہمارے کوارٹرز کا رخ کیا۔ وہ گارڈ جس کو میں نے کل پیسے دیے تھے، (سبزل) وہ میرے ساتھ ہی کھڑا تھا وہ میرے قریب آیا اور دھیمی آواز میں کہا، “یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ تمہارے جانے کے بعد میں نے خود کاریڈور کی صفائی کی تھی” میں نے فوراً انکار کیا کہ مجھے کچھ معلوم نہیں، ریڈیو گر تو گیا تھا مگر اس کا کوئی ٹکڑا باقی رہنا عجیب بات ہے۔

اسی دوران سکندر بھی شدید بے چینی میں میری طرف دیکھ رہا تھا۔اس نے قریب آکر پوچھا، “کیا تم نے کچھ کیا ہے؟” میں نے صاف انکار کیا۔ اس نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا، “ٹینشن مت لو، کچھ نہیں ہوگا۔”
اب اگر میں پکڑاجاتا میرے ساتھ گارڈ سبزل اور سکندر بھی پکڑے جاتے ، ہم تینوں کی نوکری ، عزت ، مستقبل سب چلے جاتے۔

مگر اصل بات یہ تھی کہ میرے پاس وہ ریڈیو کبھی تھا ہی نہیں جو اس پورے معاملے میں موضوع بنا ہوا تھا۔ میں نے اسے وارڈ کے اندر لے جانے کے لیے باہر سے کرائے پر لیا تھا، اور وہ بھی صرف ایک رات کے لیے۔ اسی رات جب گارڈ کو پیسے دینے پڑے تو میرے پاس کرایہ پورا کرنے کے لیے رقم نہیں بچی، اس لیے میں نے ریڈیو اسی رات واپس کر دیا تھا اور خود واپس آ گیا تھا۔

مگر حیرت اس بات پر تھی کہ یہ سارا شور اس بنیاد پر کھڑا کیا جا رہا تھا جیسے کسی نے باقاعدہ منصوبہ بنا کر کوئی چیز اندر پہنچائی ہو۔ حالانکہ اتنے بڑے انچارج کے پاس نہ اتنا وقت تھا، نہ اتنی ضرورت کہ وہ خود جا کر وارڈ نمبر 9 کے کچرے یا چھوٹے ٹکڑوں کو کھنگالتا اور پھر اس سے کوئی مکمل کہانی بنا لیتا۔

تقریباً ایک گھنٹے تک پورے کوارٹرز کی تلاشی کے بعد انسپکٹر واپس آیا۔ اس بار اس کے ہاتھ خالی تھے اور لہجہ پہلے سے زیادہ سخت تھا۔ وہ سیدھا کھڑا ہوا اور سکندر کے سامنے کھڑے ہوکر کہا کہ نہ وہاں کوئی ٹوٹا ہوا ریڈیو ملا ہے، نہ کوئی واضح ثبوت۔

پھر اس نے ہاتھ سے میری طرف اشارہ کیا اور بولا کہ اس کے کمرے میں بھی کچھ نہیں ملا، اور باقی کوارٹرز میں بھی کوئی ایسا ریڈیو موجود نہیں جسکا ٹکڑا ٹوٹا ہوا ہو۔

یہ سن کر سب کی نظریں آہستہ آہستہ سکندر کی طرف اٹھ گئیں۔ کیونکہ جن لوگوں کی نشاندہی کی گئی تھی وہ سب بلوچ تھے، اور سکندر خود بھی ایک بلوچ ہی تھا۔
مگر میرے لیے اصل دھچکا یہ تھا کہ سکندر نے میری شکایت کیسے کی۔ وہ میرا قریبی دوست تھا، اور میں نے اسے اس معاملے میں شامل بھی نہیں کیا تھا۔ اس کے باوجود اس کا میری شکایت لگانا ایک ٹوٹ پھوٹ سی تھی۔

خیر اس کے بعد اگلے تین مہینوں کے اندر حالات بدل گئے۔ نواب صاحب بھی اس دوران رہائی پا گئے، اور اس کے بعد وہ ماحول بھی پہلے جیسا نہیں رہا۔ سکندر سے میری بات آہستہ آہستہ ختم ہو گئی، اس نے اپنا کوارٹر بھی بدل لیا اور ہمارے درمیان وہ پرانی قربت باقی نہ رہی۔ اور پھر میری پوسٹنگ بھی میرے آبائی علاقے میں ہوئی۔

اور اسی دن سبزل گارڈ نے بھی میرے پیسے واپس کردیے، اور پھر میں نے کوئی اخبار یا ریڈیو دوبارہ اندر لے جانے کی کوشش نہیں کی۔ اب میں باہر کی خبروں کو صرف یاد رکھتا اور رات کے وقت ان کے پاس جا کر ان تک پہنچا دیتا۔ یہ ایک معمول بن گیا تھا، جس میں نہ کوئی چیز چھپانے کی ضرورت تھی نہ لے جانے کی۔

سکندر نے اسی دوران اپنی ڈیوٹی واپس لینے کی کوشش کی، مگر انچارج کو اس پر پہلے سے شک تھا، اس لیے ڈیوٹی میرے ہی پاس رہ گئی۔ اب رات کی آخری گشت بھی میری ذمہ داری تھی اور دن کے وقت بھی وارڈز کی نگرانی میرے ہی حصے میں آ گئی۔

دن میں ماحول نسبتاً کھلا ہوتا تھا، قیدی جاگ رہے ہوتے اور شور بھی زیادہ ہوتا، اس لیے وہاں کچھ غیر معمولی کرنا ممکن نہیں تھا۔ مگر رات کے وقت، جب پورا جیل ساکت ہو جاتا، تب مجھے موقعہ ملتا کہ نواب صاحب سے کچھ سیکھوں ان کی فکر ان کا شعور خود میں منتقل کروں۔

نواب صاحب کے ساتھ دورانِ ملاقات جو بنیادی فکری گفتگو ہوئی، اس میں انہوں نے مجھے سیاسی تاریخ، ریاستی ڈھانچے، اور طاقت کے توازن سے متعلق مختلف نظریات سے متعارف کروایا۔ ان گفتگوؤں میں مارکسزم کے بنیادی تصورات، ریاست اور طبقاتی نظام کے تعلق، اور سیاسی مزاحمت کی مختلف شکلوں، بشمول منظم سیاسی جدوجہد اور گوریلا حکمتِ عملی پر گفتگو شامل تھی۔ اس کے علاوہ انہوں نے آزادی، اجتماعی قربانی اور سیاسی شعور کی تشکیل جیسے موضوعات کو ایک تجزیاتی انداز میں بیان کیا، جس سے یہ سمجھنے میں مدد ملی کہ کسی بھی سیاسی تحریک کے پیچھے صرف جذبات نہیں بلکہ ایک مکمل فکری اور تنظیمی ڈھانچہ بھی ہوتا ہے۔

آنکھوں میں بےحساب احساسات لیے کہانی ختم کرتے ہوئے انہوں نے آخر میں کہا: “بلاشبہ وہ میری زندگی کا ایک خوبصورت باب تھا”


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔