صباء – ڈاکٹر صبیحہ بلوچ

1

صباء

تحریر: ڈاکٹر صبیحہ بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

جب تک میں نے فکری دنیا میں قدم رکھا، تب تک صبا ہمارے درمیان موجود نہیں تھے۔ مگر عجیب بات یہ ہے کہ ان کی عدم موجودگی میں بھی ان کی موجودگی ہر جگہ محسوس ہوتی تھی۔ ہر موڑ پر، ہر سوال کے پیچھے، ہر پریشانی کے لمحے میں، اور ہر اس دروازے پر جہاں ہم نے دستک دی، صبا کا نام ہمارے ساتھ کھڑا نظر آیا۔

جب بھی ہم نے کسی رکاوٹ کے خلاف آواز اٹھائی، جب بھی ہم نے اپنے سے آگے کے لوگوں سے مدد چاہی، تو اکثر ایک ہی جملہ سننے کو ملا: “کاش صبا زندہ ہوتے، تو آج ایسا نہ ہوتا۔”

میں نے صبا کو کبھی دیکھا نہیں، مگر میں نے انہیں لوگوں کی حسرتوں میں دیکھا ہے۔ میں نے انہیں شکستہ لہجوں میں سنا ہے۔ میں نے انہیں ان تمام جگہوں پر محسوس کیا ہے جہاں ناانصافی کے مقابلے میں مزاحمت کمزور پڑ گئی تھی۔

جب ہمیں بلوچستان یونیورسٹی کے گیٹ سے اندر داخل ہونے نہیں دیا جاتا تھا، تو اساتذہ شرمندگی سے نظریں جھکا کر کہتے: “کاش صبا زندہ ہوتے، تو آج یہ نہ ہوتا۔”

خواتین کے عالمی دن کے موقع پر جب ہم نے یونیورسٹی میں ایک پروگرام منعقد کرنا چاہا، تو انتظامیہ نے اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ ہم ایک دفتر سے دوسرے دفتر، ایک استاد سے دوسرے استاد تک گئے۔ ہم نے کہا کہ آپ اپنا کردار ادا کریں، آپ انتظامیہ سے سوال کریں کہ خواتین کو ان کے اپنے دن پر اکٹھا ہونے سے کیوں روکا جا رہا ہے۔

وائس چانسلر کا مؤقف یہ تھا کہ اگر پروگرام خواتین کے نام پر ہے تو جا کر خواتین کی یونیورسٹی میں کریں۔

ہم کہتے رہے کہ خواتین کے ساتھ ہراسمنٹ کے واقعات اسی یونیورسٹی میں پیش آئے ہیں، اس لیے یہ جگہ ان کی بھی ہے، اور انہیں اپنے حقوق کے بارے میں بات کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔

اسی مسئلے پر جب ہم ایک پروفیسر کے دفتر میں یہی گفتگو کر رہے تھے کہ اساتذہ کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ ہم خواتین کے عالمی دن پر پروگرام منعقد کر سکے۔ انہوں نے ہماری پوری بات سنی، پھر نہایت سرد لہجے میں کہا:

“کاش صبا زندہ ہوتے، تو آج ایسا نہ ہوتا۔ صبا کی موجودگی میں یہ تعلیمی ادارہ آپ کو کسی پروگرام، کسی مباحثے یا کسی علمی حلقے کے انعقاد سے نہیں روک سکتا تھا۔ صبا فکر کے لیے آخری حد تک لڑ جاتے تھے۔”

صبا صرف ایک فرد نہیں تھے، وہ ایک نظریہ تھے۔ ان کا وہ ویڈیو آج بھی موجود ہے جہاں وہ اسٹیج پر گفتگو کر رہے ہیں۔ ایک صحافی انہیں ٹوکتی ہے کہ وہ اس طرح کی بات نہیں کر سکتے، تو صبا پوری قوت سے جواب دیتے ہیں:

“میں بولوں گا، اور بولنے سے مجھے کوئی روک نہیں سکتا۔”

یہ محض ایک جملہ نہیں تھا، یہ ایک پورا نظریہ تھا۔ صبا کے لیے سچ بولنا محض حق نہیں، ذمہ داری تھا۔ وہ فکر کا دامن تھامے رہے، دانش کی بلندیوں کو چھوتے رہے اور عمل کے میدان میں ہمیشہ سب سے آگے کھڑے رہے۔

انہوں نے بلوچی زبان کی ترویج و تدریس کے لیے ریسرچ لائبریری قائم کی، علم کے چراغ روشن کیے، اور اسی کے ساتھ بلوچ نسل کشی کے خلاف جدوجہد میں بھی ہر صفِ اول میں موجود رہے۔

صبا کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ جس بات پر یقین رکھتے تھے، سب سے پہلے خود اس پر عمل کرتے تھے۔ ایک علمی نشست میں ہمارے استاد نے کہا: “اگر تم عمل کی کوئی مثال دیکھنا چاہتے ہو تو صبا کو دیکھو۔”

وہ ایک یونیورسٹی کے پروفیسر تھے، مگر کبھی منصب کی دیواروں کے پیچھے نہیں چھپے۔ جب انہوں نے جب سید ہاشمی ریفرینس کتابجہ قائم کیا اور اس کے لیے ایک فیس مقرر کیا، تو وہ خود بلوچستان کے دور دراز علاقوں تک جاتے، لوگوں سے ملتے، اور باقاعدگی سے فیس خود جمع کرتے۔ایک مرتبہ اسی دوران ایک شخص سے فیس لینے کے لیے گھنٹوں انتظار کرنا پڑھا تو قریب ایک ساتھی نے کہا کہ انکا مقام یہ نہیں کہ وہ چند سو کے لیے اتنا خوار ہو، تو صبا نے کہا” یہ ادارہ قوم کے مستقبل کے لیے بنا ہے، ادارے کو منظم کرنے کے لیے ڈسپلن کی پاسداری کی جائے، اور قوم کے مستقبل کے لیے بننے والے ادارے کی ڈسپلن کے لیے کوئی کام چھوٹا بڑا نہیں”
وہ جانتے تھے کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔ وہ سمجھتے تھے کہ یہ سفر کتنا دشوار ہے۔ مگر آنے والی نسلوں کے لیے کام کرنے والے لوگ آسانیوں کے محتاج نہیں ہوتے۔

صبا عمل کا پیامبر تھا۔

صبا محبت کا دیوانہ تھا۔

صبا کے نزدیکی ایک ساتھی سے میں پوچھا
صبا کو ایک جملے میں بیان کرنا چاہو تو کیاے کرو گے؟
اس نے کہا

“اگر مجھے صبا کو ایک جملے میں بیان کرنا ہو تو میں کہوں گا کہ وہ قدرت کا عاشق تھا۔”

وہ قدرت کا عاشق تھا، وہ فن سے عشق کرتا تھا، وہ موسیقی سے عشق کرتا تھا، وہ رقص سے عشق کرتا تھا، وہ چاندنی راتوں سے عشق کرتا تھا، وہ کتابوں، درختوں، دریاؤں اور انسانوں سے عشق کرتا تھا، اور سب سے بڑھ کر وہ علم اور فکر سے عشق کرتا تھا۔

مگر عشق اگر عمل میں نہ ڈھلے تو محض خواب رہ جاتا ہے، صبا کا عشق خواب نہیں تھا، وہ عمل کی صورت اختیار کر چکا تھا۔

صبا الفاظ کا قیدی نہیں تھا، وہ الفاظ کا خالق تھا۔ اور الفاظ صرف وہی تخلیق کرتے ہیں جو انہیں اپنے خون، اپنے وقت اور اپنی زندگی سے معنی عطا کرتے ہیں۔
شاید یہی وجہ تھی کہ دشمن اس سے خوفزدہ تھا۔

علم سے خوف۔

فکر سے خوف۔

سوال سے خوف۔

اور اسی خوف نے اسے اتنا وحشی بنا دیا کہ وہ دن دہاڑے صبا کو قتل کرنے سے بھی نہیں ہچکچایا۔

کیونکہ ہمارے دشمن کو معلوم ہے کہ کتاب اٹھانے والا انسان جہالت کے سب سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔
وہ جانتا ہے کہ ایک استاد کی سوچ ہزاروں ذہنوں میں زندہ رہتی ہے۔
وہ جانتا ہے کہ ایک مفکر کا قتل ایک جسم کا قتل نہیں، ایک امکان کا قتل ہوتا ہے۔

اسی لیے ہمارے معاشرے میں چن چن کر دانشوروں، اساتذہ، ادیبوں اور مفکروں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔

کیونکہ دشمن نہیں چاہتا کہ یہ سماج آگے بڑھے۔

وہ نہیں چاہتا کہ ہم سوچیں۔

وہ نہیں چاہتا کہ ہم سوال کریں۔

وہ نہیں چاہتا کہ ہم اپنے مستقبل کا خواب دیکھیں۔

صبا دشتی، سر زاہد آسکانی، سر رزاق زہری ، پروفیسر غمخوار اور ایسے بے شمار لوگوں کا قتل صرف افراد کا قتل نہیں، بلکہ علم، محبت، فکر، شعور، مستقبل اور امید کے خلاف جاری ایک جنگ ہے۔

یہ جنگ کوئی اپنا نہیں لڑ سکتا۔

یہ صرف وہی دشمن لڑ سکتا ہے جو تمہارے حال کے ساتھ ساتھ تمہارے مستقبل کو بھی تاریکی کے حوالے کرنا چاہتا ہو۔

قتل ہوکر بھی صبا آج تک زندہ ہے۔

کتابوں میں۔

خیالوں میں۔

مزاحمت کی ہر آواز میں۔

اور ہر اس شخص کے دل میں جو ظلم کے سامنے خاموش رہنے سے انکار کرتا ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔