کوئٹہ: 14 سالہ طالب علم جبری گمشدگی کا شکار، وی بی ایم پی کا احتجاجی کیمپ 6191ویں روز بھی جاری

24

کوئٹہ سے ایک کم عمر طالب علم کی جبری گمشدگی کا واقعہ رپورٹ ہوا ہے جبکہ دوسری جانب بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کا احتجاجی کیمپ 6191ویں روز بھی جاری رہا۔

اطلاعات کے مطابق 14 سالہ احمد عاقف بلوچ ولد فضل الرحمان، جو کلی قمبرانی، قمبرانی روڈ، کوئٹہ کے رہائشی اور نویں جماعت کے طالب علم ہیں، کو 11 جون 2026 کو دوپہر تقریباً 3 بجے ان کے گھر سے سی ٹی ڈی اور ایف سی اہلکاروں نے حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔

دریں اثنا، جبری گمشدگیوں کے خلاف وی بی ایم پی کے زیر اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ تنظیم کی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن نیاز محمد کی سربراہی میں 6191ویں روز بھی جاری رہا۔

آج جبری لاپتہ محمد ہاشم نیچاری اور یاسر احمد نیچاری کے لواحقین نے وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ سے ملاقات کرکے اپنے پیاروں کی جبری گمشدگی کے حوالے سے تفصیلات فراہم کیں۔ لواحقین کے مطابق محمد ہاشم نیچاری ولد عبدالقادر اور یاسر احمد نیچاری ولد منیر احمد کو 6 جون کی رات کلی فیض آباد سریاب، کوئٹہ میں واقع ان کے گھر سے سی ٹی ڈی اور دیگر ملکی اداروں کے اہلکاروں نے حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔

لواحقین نے بتایا کہ دونوں افراد کی گرفتاری کی وجوہات تاحال ظاہر نہیں کی گئی ہیں اور نہ ہی انہیں کسی عدالت میں پیش کیا گیا ہے، جس کے باعث اہلخانہ شدید ذہنی اذیت اور بے چینی کا شکار ہیں۔

ملاقات کے دوران وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے متاثرہ خاندانوں کو یقین دہانی کرائی کہ محمد ہاشم نیچاری، یاسر احمد نیچاری اور دیگر جبری لاپتہ افراد کے مقدمات کو متعلقہ حکام اور انصاف کی فراہمی کے لیے قائم اداروں کے سامنے اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جبری گمشدگیوں کا سلسلہ تشویشناک ہے اور لاپتہ افراد کی باحفاظت بازیابی کے لیے ہر دستیاب فورم پر آواز بلند کی جاتی رہے گی۔

انہوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ احمد عاقف بلوچ، محمد ہاشم نیچاری اور یاسر احمد نیچاری سمیت تمام جبری لاپتہ افراد کی باحفاظت بازیابی کو یقینی بنایا جائے اور ان کے اہلخانہ کی تشویش کا فوری ازالہ کیا جائے