کوئٹہ: جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاج جاری

19

جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیرِ اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ 6190ویں روز میں داخل ہوگیا۔

اس موقع پر انقلابی کمیونسٹ پارٹی کے رہنما کامریڈ کریم فرہاد، کامریڈ منظور بلوچ سمیت دیگر سیاسی و سماجی شخصیات نے احتجاجی کیمپ کا دورہ کیا۔ شرکاء نے وی بی ایم پی کی طویل اور پُرامن جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے جبری گمشدگیوں کے خلاف جاری تحریک کی حمایت اور تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

اس موقع پر وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ رواں سال فروری سے جبری گمشدگیوں کے مسئلے کے حل کے لیے اقدامات کیے جائیں گے اور حراست میں لیے جانے والے افراد کو 2025 میں منظور ہونے والے قانون کے تحت 24 گھنٹوں کے اندر مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرکے حراستی مراکز میں منتقل کیا جائے گا، تاہم زمینی حقائق حکومتی دعوؤں کے برعکس ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فروری سے اب تک 255 سے زائد افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے، لیکن ان میں سے صرف چند افراد کو ہی نئے قانون کے تحت حراستی مراکز میں رکھا گیا ہے، جبکہ اکثریت کو نہ مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا ہے اور نہ ہی ان کے اہلِ خانہ کو ان کی صورتحال سے متعلق معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پہلے سے جبری لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے بھی کوئی مؤثر پیش رفت سامنے نہیں آئی، جس سے متاثرہ خاندانوں کی تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔

نصراللہ بلوچ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ جبری گمشدگیوں کے مسئلے کے حل سے متعلق اپنے وعدوں پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے، تمام جبری لاپتہ افراد کو بازیاب کیا جائے، اور جن افراد پر کسی قسم کے الزامات ہیں انہیں منظرِ عام پر لا کر عدالتوں میں پیش کیا جائے تاکہ انہیں قانونی دفاع کا حق حاصل ہو۔ انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ جبری گمشدگیوں اور ماورائے قانون قتل کے واقعات کا فوری خاتمہ کیا جائے اور حراست میں لیے جانے والے ہر فرد کو آئین اور قانون کے مطابق 24 گھنٹوں کے اندر مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک تمام جبری لاپتہ افراد کی بازیابی اور ان کے اہلِ خانہ کو انصاف فراہم نہیں کیا جاتا، وی بی ایم پی کی پُرامن جدوجہد جاری رہے گی۔