ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے خلاف ویڈیو ٹرائل غیر شفاف اور غیر آئینی قرار، کھلی عدالت میں سماعت کا مطالبہ

86

ماہ رنگ بلوچ کی بہن اور قانونی ٹیم کی پریس کانفرنس؛ جج کی تبدیلی کی درخواست پر فوری سماعت اور آن لائن ٹرائل کے خاتمے کا مطالبہ

بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی بہن اور ان کی قانونی ٹیم نے ایک اہم پریس کانفرنس میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں کے خلاف جاری عدالتی کارروائی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے شفاف اور منصفانہ ٹرائل کے بنیادی اصولوں کے منافی قرار دیا ہے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے قانونی ٹیم نے کہا کہ چودہ ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں کو شفاف، منصفانہ اور کھلی عدالتی کارروائی تک مؤثر رسائی فراہم نہیں کی گئی۔ ان کے مطابق مقدمات کی نوعیت اور عدالتی طریقۂ کار میں بار بار تبدیلیاں کی گئیں، جن میں انتظامی حراست، مختلف مقدمات کا اندراج، مسلسل جسمانی ریمانڈ، جیل ٹرائل اور اب ویڈیو لنک کے ذریعے ٹرائل شامل ہیں۔

قانونی ٹیم کا کہنا تھا کہ انصاف کا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ عدالتی کارروائی نہ صرف منصفانہ ہو بلکہ منصفانہ نظر بھی آئے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ جیل ٹرائل کے بعد ویڈیو لنک کے ذریعے مقدمات چلانے سے شفافیت اور عوامی نگرانی مزید محدود ہو گئی ہے، جس سے منصفانہ ٹرائل کے حوالے سے سنگین سوالات جنم لے رہے ہیں۔

وکلاء نے کہا کہ زیرِ حراست رہنماؤں نے جیل ٹرائل کے دوران عدالتی ماحول اور رویے سے متعلق متعدد بار تحفظات کا اظہار کیا، جس کے بعد متعلقہ جج کی تبدیلی کے لیے عدالت میں باقاعدہ درخواست دائر کی گئی۔ تاہم چار ماہ گزرنے کے باوجود اس درخواست پر کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

پریس کانفرنس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ گزشتہ سماعت کے دوران پراسیکیوٹر جنرل نے عدالتی کارروائی کے دوران سخت رویہ اختیار کیا، جس سے عدالتی غیرجانبداری کے بارے میں خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔

قانونی ٹیم کے مطابق بلوچستان کے مختلف اضلاع میں دفعہ 144 کے تحت درج پندرہ سے زائد مقدمات کو بھی انسدادِ دہشت گردی عدالت میں منتقل کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، جس سے زیرِ حراست رہنماؤں کی قید اور قانونی کارروائی مزید طول پکڑ سکتی ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ آن لائن اور جیل ٹرائل فوری طور پر ختم کرکے مقدمات کی سماعت کھلی عدالت میں منتقل کی جائے، جج کی تبدیلی کی درخواست پر فوری سماعت کی جائے، اس درخواست کے فیصلے تک مقدمات کی مزید کارروائی روکی جائے، اور ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ و دیگر زیرِ حراست افراد کو قانونی حقوق، وکلاء تک رسائی اور اہلِ خانہ سے رابطے کی مکمل سہولت فراہم کی جائے۔

قانونی ٹیم نے پاکستان کی وکلاء برادری، انسانی حقوق کی تنظیموں، سول سوسائٹی، سیاسی جماعتوں، صحافتی اداروں اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لیں اور منصفانہ ٹرائل، عدالتی شفافیت اور بنیادی آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے آواز بلند کریں۔