جرمنی: ڈاکٹر دین محمد بلوچ کی جبری گمشدگی اور بلوچ رہنماؤں کو عمر قید کی سزاؤں کے خلاف بی این ایم کا احتجاج

36

بلوچ نیشنل موومنٹ جرمنی چیپٹر نے ہینوور اور برلن میں الگ الگ احتجاجی مظاہرے منعقد کیے۔

بی این ایم کے مطابق ان مظاہروں کا مقصد بلوچستان میں پُرامن سیاسی آوازوں کو دبانے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف آواز بلند کرنا تھا۔

ہینوور کے مظاہرے میں پی ٹی ایم جرمنی کے نمائندوں، بی این ایم کے اراکین، دیگر بلوچ سیاسی کارکنوں، خاندانوں اور حامیوں نے شرکت کی۔ شرکاء نے بین الاقوامی برادری، اقوام متحدہ، یورپی یونین اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی آزادانہ تحقیقات کریں اور پُرامن سیاسی کارکنوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔

شرکاء نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، شاہ جی سبغت اللہ اور دیگر بلوچ سیاسی کارکنوں کو عمر قید کی سزائیں سنائے جانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلے پُرامن سیاسی اختلافِ رائے کو دبانے کی کوشش ہیں۔ مظاہرین نے بینرز اٹھا رکھے تھے اور انصاف، منصفانہ عدالتی کارروائی اور بنیادی انسانی حقوق کے احترام کے حق میں نعرے لگائے۔

مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے بی این ایم جرمنی کی رہنما سارہ عمیر نے کہا کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور دیگر کارکنوں کی قید نے بلوچ قوم کے عزم کو مزید مضبوط کیا ہے، اور اس سے پُرامن سیاسی تحریکوں کو خاموش نہیں کیا جا سکتا۔

بی این ایم جرمنی کی سابق نائب صدر صفیہ بلوچ نے بلوچستان میں جبری گمشدگیوں، من مانی گرفتاریوں، اظہارِ رائے کی آزادی پر پابندیوں اور بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کے اراکین کے خلاف مقدمات پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے منصفانہ عدالتی کارروائی اور بلوچستان کی صورتحال پر عالمی برادری کی زیادہ توجہ کا مطالبہ کیا۔

پی ٹی ایم جرمنی کی نمائندگی کرتے ہوئے فیصل خان نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور دیگر زیرِ حراست کارکنوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا اور کہا کہ اظہارِ رائے کی آزادی اور پُرامن اختلافِ رائے جمہوری معاشروں کے بنیادی حقوق ہیں۔

بی این ایم جرمنی کے سابق صدر شیر حسن نے بلوچ تارکینِ وطن کے کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ بلوچستان کی صورتحال کے بارے میں عالمی سطح پر آگاہی پیدا کریں اور بلوچ نیشنل موومنٹ کے سفیر کے طور پر اپنا کردار ادا کریں۔

اختتامی خطاب میں بی این ایم جرمنی کے صدر اصغر بلوچ نے کہا کہ مظلوموں کی آواز بلند کرنا بلوچ قوم کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اجتماع بلوچ قوم کے تمام طبقات، بشمول نوجوانوں، خواتین اور مردوں کے اتحاد اور بلوچ قومی مقصد کی حمایت کا واضح پیغام دیتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی کارکنوں کی قید بلوچ عوام کو سیاسی عمل سے منظم انداز میں باہر رکھنے کی عکاسی کرتی ہے، اور ان کے مطابق 1948 میں بلوچستان کے پاکستان میں شامل کیے جانے کے بعد سے یہ جبر مسلسل جاری ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تحریک اپنی جدوجہد پُرامن انداز اور ثابت قدمی کے ساتھ جاری رکھے گی۔ انہوں نے پی ٹی ایم جرمنی کے نمائندوں اور تمام شرکاء کا اظہارِ یکجہتی پر شکریہ بھی ادا کیا۔

مظاہرے کے اختتام پر بی این ایم جرمنی نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر گہری نظر رکھے، مبینہ خلاف ورزیوں کی آزادانہ تحقیقات کی حمایت کرے، اور پُرامن سیاسی کارکنوں اور انسانی حقوق کے محافظوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔

29 جون 2026 کو برلن میں بلوچ نیشنل موومنٹ کے اراکین نے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اس مظاہرے میں انہوں نے ڈاکٹر دین محمد بلوچ کے کیس میں انصاف اور مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

مظاہرین کے مطابق ڈاکٹر دین محمد بلوچ کو 28 جون 2009 کو پاکستانی فوج نے اغوا کیا تھا۔ وہ گزشتہ 17 سال سے لاپتہ ہیں۔ ان کا کیس بلوچستان میں لاپتہ افراد کے مسئلے کی ایک علامت ہے، جہاں متعدد خاندان آج بھی اپنے پیاروں کی عدم موجودگی کے باعث شدید ذہنی اذیت اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔

احتجاج کے دوران شرکاء نے جبری گمشدگیوں کے مسئلے اور سیاسی کارکنوں کی قید و بند پر بھی توجہ دلائی۔ بلوچ نیشنل موومنٹ (BNM) کے اراکین نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی کہ وہ لاپتہ افراد کے کیسز پر زیادہ توجہ دے اور متاثرہ خاندانوں کے لیے جواب دہی اور انصاف کو یقینی بنائے۔