بلوچستان کی آزادی کے لیے ڈاکٹر دین محمد سمیت ہزاروں فرزند پسِ زندان ہیں۔ بی این ایم احتجاج

1

بلوچ نیشنل موومنٹ کے مطابق تحریکِ آزادیِ بلوچستان کے اسیر رہنما ڈاکٹر دین محمد کا پاکستانی فوج کے ہاتھوں اغوا اور گزشتہ 17 سالوں سے جاری جبری گمشدگی کے خلاف پارٹی نے جنوبی کوریا میں احتجاج کیا۔

مظاہرین نے اس بات پر زور دیا کہ بلوچ نیشنل موومنٹ بلوچستان کی آزادی کی خواہاں ایک سیاسی جماعت ہے، جس کے مرکزی رہنما ڈاکٹر دین محمد گزشتہ 17 سالوں سے پاکستانی فوج کے عقوبت خانوں میں جبری طور پر لاپتہ ہیں۔

مظاہرین نے پاکستانی حکام کے احتساب کا مطالبہ کیا اور عالمی برادری سے بلوچستان کی آزادی کے لیے مدد اور تعاون کی اپیل کی۔ شرکاء نے مقبوضہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے معاملے کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری کو متاثرہ خاندانوں کے دکھ اور کرب پر توجہ دینی چاہیے۔

اس موقع پر مقررین نے بی وائی سی کی رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، صبغت اللہ بلوچ اور بی ایس او کے چیئرمین بالاچ قادر کو ‘فیس لیس ٹرائل’ ( خفیہ عدالتی کارروائی) کے ذریعے سنائی گئی سزا کے خلاف بھی آواز بلند کی۔ انھوں نے کہا کہ مقبوضہ بلوچستان میں قابض پاکستان نے بلوچوں کے تمام حقوق سلب کر رکھے ہیں۔ انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھانے کی پاداش میں بی وائی سی کے رہنماؤں اور بالاچ قادر جیسے طلبہ رہنماؤں کو نام نہاد فیس لیس ٹرائل کے ذریعے جھوٹے مقدمات میں سزائیں سنائی گئی ہیں۔

مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان کی آزادی کی جدوجہد جبر و تشدد کے ذریعے ختم نہیں کی جا سکتی۔ بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالی کا پس منظر پاکستان کا قبضہ اور بلوچوں کے حقِ حاکمیت سے انکار ہے۔ بلوچ قوم اپنے حقِ خودارادیت سے ایک انچ بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ اپنا قبضہ ختم کر کے بلوچستان سے فوری انخلاء کرے۔