بی وائی سی اور ریاست: تصادم کی وجوہات ۔ ٹی بی پی رپورٹ

63

بی وائی سی اور ریاست: تصادم کی وجوہات ۔ ٹی بی پی رپورٹ

تحریر: آصف بلوچ

بلوچستان کی سیاست اور موجودہ حالات پر جب بھی گفتگو ہوتی ہے تو ایک نام بار بار سامنے آتا ہے: بلوچ یکجہتی کمیٹی۔ صوبائی اسمبلی کے اراکین سے لے کر وزراء اور حتیٰ کہ وزیرِاعلیٰ بلوچستان تک، مختلف سیاسی اور حکومتی شخصیات اپنی تقاریر، بیانات اور پریس کانفرنسوں میں اس تنظیم کا ذکر کرتی نظر آتی ہیں۔ دوسری جانب بلوچ سیاسی کارکنوں اور انسانی حقوق کے حلقوں کا مؤقف ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے بڑھتے ہوئے عوامی اثر و رسوخ نے ریاستی اداروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، جس کے باعث اس کے خلاف مختلف سطحوں پر بیانیاتی اور سیاسی محاذ آرائی دیکھی جا رہی ہے۔

سوال یہ ہے کہ آخر بلوچ یکجہتی کمیٹی ہے کیا؟ یہ تنظیم بلوچستان کے سیاسی اور سماجی منظرنامے میں کس کردار کی حامل ہے؟ اور وہ کون سے عوامل ہیں جن کی وجہ سے اس کا نام آج بلوچستان کی سیاسی بحث کا ایک مرکزی موضوع بن چکا ہے؟

اس فیچر رپورٹ میں ہم انہی سوالات کے جوابات تلاش کرنے کی کوشش کریں گے۔ ہم جائزہ لیں گے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی تشکیل کن حالات میں ہوئی، اس کے مقاصد اور مطالبات کیا ہیں، اور بلوچستان کی سیاست میں اس کے اثرات کس نوعیت کے ہیں۔ ساتھ ہی یہ بھی جاننے کی کوشش کریں گے کہ ریاستی اداروں اور حکومتی حلقوں کی جانب سے اس تنظیم کے بارے میں پائے جانے والے تحفظات کی بنیاد کیا ہے اور بلوچستان کے مستقبل کی سیاست میں اس کی کیا اہمیت ہو سکتی ہے۔

بی وائی سی، پس منظر اور آغاز

26 مئی 2020 کی رات بلوچستان کے ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت کے علاقے ڈنک میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے بعد ازاں بلوچستان کی حالیہ سیاسی تاریخ پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ بلوچستان کے موجودہ حالت کے پس منظر میں بظاہر یہ ایک عام واقعہ تھا، لیکن اس کے ردِعمل نے ایک ایسی عوامی تحریک کو جنم دیا جو وقت گزرنے کے ساتھ ایک منظم سیاسی و سماجی قوت کی شکل اختیار کر گئی۔

اس رات نامعلوم مسلح افراد نے ڈنک میں ایک گھر پر دھاوا بول دیا۔ مقامی ذرائع اور متاثرہ خاندان کے مطابق حملہ آور چوری کی نیت سے آئے تھے، تاہم مزاحمت کے دوران فائرنگ ہوئی جس کے نتیجے میں ملک ناز نامی خاتون جاں بحق جبکہ ان کی کمسن بیٹی برمش زخمی ہوگئی۔ واقعے کی خبر سوشل میڈیا پر پھیلتے ہی عوامی غم و غصے میں اضافہ ہونے لگا اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ معاملہ بلوچستان بھر میں زیرِ بحث آ گیا۔

چند ہی دنوں میں ساحلی شہر گوادر سمیت مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے۔ مقررین نے اس واقعے کو بلوچ سماجی روایات، عزت اور غیرت پر حملہ قرار دیا۔ ان احتجاجوں نے جلد ہی ایک وسیع عوامی مہم کی صورت اختیار کرلی۔ بلوچستان کے شہروں، قصبوں اور دیہاتوں میں ریلیاں اور مظاہرے منعقد ہونے لگے، جبکہ سوشل میڈیا پر بھی اس کی بازگشت سنائی دینے لگی۔ اس وقت اس تحریک کا کوئی واضح رہنما یا تنظیمی ڈھانچہ موجود نہیں تھا، بلکہ عوام اپنی سطح پر متحرک تھے۔ بعد میں اس عوامی مہم کو “برمش یکجہتی کمیٹی” کا نام دیا گیا، جس کا بنیادی مطالبہ واقعے میں ملوث افراد کی گرفتاری اور انہیں سزا دلانا تھا۔

احتجاجی حلقوں کا مؤقف تھا کہ حملہ آور ایسے مسلح گروہوں سے تعلق رکھتے ہیں جنہیں بلوچستان میں ریاستی سرپرستی حاصل ہے۔ بلوچ قوم پرست حلقے ان گروہوں کو عموماً “ڈیتھ اسکواڈز” کے نام سے پکارتے ہیں اور الزام عائد کرتے ہیں کہ یہ گروہ چوری، ڈکیتی، منشیات فروشی اور دیگر جرائم میں ملوث ہیں۔ بلوچ سیاسی اور قوم پرست حلقوں کا مؤقف ہے کہ یہ مسلح گروہ بلوچستان میں سرگرم مزاحمتی تحریکوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تشکیل دیے گئے یا انہیں سرپرستی فراہم کی گئی۔ ان حلقوں کی جانب سے الزام عائد کیا جاتا ہے کہ مذکورہ گروہوں کے عناصر چوری، ڈکیتی، منشیات فروشی اور دیگر جرائم میں ملوث رہے ہیں، تاہم ان کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کی جاتی اور انہیں ریاستی اداروں کی جانب سے تحفظ حاصل رہتا ہے۔

ڈنک واقعے کے اثرات ابھی ختم بھی نہیں ہوئے تھے کہ چند ماہ بعد تربت میں ایک اور واقعہ پیش آیا، جس نے اس نوخیز عوامی تحریک کو مزید تقویت فراہم کی۔

13 اگست 2020 کو، جب دنیا کورونا وبا سے نبرد آزما تھی اور تعلیمی ادارے بند تھے، کراچی یونیورسٹی کے طالب علم حیات بلوچ اپنے آبائی علاقے تربت میں موجود تھے۔ وہ اپنے والد کے ساتھ موسم صرام میں مصروف تھے کہ اسی دوران قریبی علاقے میں پاکستانی فورسز کے ایک قافلے پر بم حملہ ہوا۔ بعد ازاں سیکیورٹی فورسز نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کیا۔

عینی شاہدین اور خاندان کے مطابق حیات بلوچ کو ان کے والدین کے سامنے حراست میں لیا گیا اور بعد ازاں آٹھ گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا۔ اس واقعے کی ایک تصویر سوشل میڈیا پر وسیع پیمانے پر وائرل ہوئی، جس میں حیات بلوچ کی لاش ان کی والدہ کی گود میں دکھائی دے رہی تھی۔ اس تصویر اور واقعے نے بلوچستان سمیت ملک بھر میں شدید ردِعمل کو جنم دیا۔

بہت سے مبصرین کے نزدیک یہی وہ مرحلہ تھا جب برمش یکجہتی کمیٹی کی شکل میں شروع ہونے والی عوامی تحریک نے “بلوچ یکجہتی کمیٹی” (BYC) کی صورت اختیار کرنا شروع کی۔ حیات بلوچ کے قتل کے خلاف بلوچستان بھر میں احتجاجی مظاہرے منعقد ہوئے اور یہ تحریک انسانی حقوق اور انصاف کے مطالبات کے ساتھ مزید وسعت اختیار کرتی گئی۔

اسی دوران دسمبر 2020 میں کینیڈا میں بلوچ سیاسی کارکن اور سابق طالبہ رہنما کریمہ بلوچ کی موت بھی بلوچستان میں بحث کا موضوع بنی۔ بلوچ سیاسی حلقوں نے اس واقعے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے منعقد کیے۔ ان واقعات نے بلوچ یکجہتی کمیٹی کی عوامی پذیرائی میں مزید اضافہ کیا۔

اس کے بعد جب بھی بلوچستان میں جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، فوجی آپریشنوں یا انسانی حقوق کی ورزیوں کے خلاف بلوچ یکجہتی کمیٹی آواز اٹھاتی رہی۔ رفتہ رفتہ یہ تنظیم بلوچستان کے ایک بڑے طبقے کے لیے ریاستی جبر کے خلاف مزاحمت اور امید کی علامت بنتی چلی گئی۔

تنظیم کی عوامی مقبولیت میں نمایاں اضافہ اس وقت ہوا جب اس نے تربت کے رہائشی بالاچ بلوچ کی ہلاکت کے خلاف احتجاجی مہم شروع کی۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی نے پہلے تربت میں احتجاج کیا اور بعد ازاں ایک طویل لانگ مارچ کا آغاز کیا جو تربت سے شروع ہوئی اور کوئٹہ سے ہوتا ہوا اسلام آباد تک پہنچا۔ اس مارچ کے دوران بلوچ اور پشتون علاقوں میں قافلے کا استقبال کیا گیا اور متعدد مقامات پر جلسے اور اجتماعات منعقد ہوئے۔

اسلام آباد پہنچنے کے بعد مظاہرین اور پولیس کے درمیان کشیدگی بھی دیکھنے میں آئی۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کارکنوں کے ساتھ سخت رویہ اختیار کیا گیا۔ اس دوران گرفتاریوں اور حکومتی رویہ نے قومی سطح پر توجہ حاصل کی۔

ان واقعات کے نتیجے میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی مقبولیت میں غیرمعمولی اضافہ ہوا اور تنظیم کی مرکزی رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ ایک نمایاں عوامی شخصیت کے طور پر ابھریں۔ اسلام آباد دھرنے کے بعد تنظیم نے مزید منظم ڈھانچہ اختیار کیا اور ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو اس کا آرگنائزر منتخب کیا گیا۔

بعد ازاں بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) نے ساحلی شہر گوادر میں ایک بڑے عوامی جلسے کے انعقاد کا اعلان کیا جو راجی مچی کا نام دیا گیا ۔ اس اعلان کے بعد بلوچستان کے مختلف اضلاع سے ہزاروں افراد گوادر پہنچنے کے لیے قافلوں کی صورت روانہ ہونے لگے۔ تاہم جلسے کے روز صورتحال کشیدہ ہوگئی اور مختلف علاقوں میں سیکیورٹی پابندیوں اور راستوں کی بندش کی اطلاعات سامنے آئیں۔

بی وائی سی اور مقامی ذرائع کے مطابق گوادر جانے والے قافلوں کو متعدد مقامات پر روکا گیا، جبکہ بعض علاقوں میں مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔ گوادر کے داخلی مقام “تلار” پر صورتحال خاص طور پر کشیدہ رہی، جہاں دن بھر مظاہرین اور سیکیورٹی اہلکار آمنے سامنے رہے۔ تنظیم کا مؤقف ہے کہ مظاہرین پر لاٹھی چارج اور فائرنگ کی گئی، جبکہ اسی دوران جانی نقصانات کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔

اس دوران بلوچستان کے مختلف علاقوں میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز کی معطلی کی شکایات بھی سامنے آئیں، جس کے باعث صورتحال کے بارے میں معلومات کا بہاؤ محدود ہوگیا۔ اگرچہ بڑی تعداد میں لوگوں کو گوادر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ملی، تاہم شہر میں موجود بلوچ یکجہتی کمیٹی کی قیادت نے مقامی شرکاء کے ساتھ جلسے کا انعقاد کیا۔

کشیدہ صورتحال کے بعد حکومت اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوا۔ ان مذاکرات کے نتیجے میں گوادر کی جانب جانے والے بعض بند راستے کھول دیے گئے، جبکہ دیگر مطالبات اور معاملات پر بھی بات چیت جاری رہی۔

بعد ازاں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی قیادت میں گوادر سے ایک عوامی رابطہ مہم اور قافلے کا آغاز ہوا، جو تربت، پنجگور، ناگ، نال، خضدار، سوراب، قلات، مستونگ اور نوشکی سے ہوتا ہوا کوئٹہ پہنچا۔ اس سفر کے دوران مختلف شہروں میں جلسوں اور عوامی اجتماعات کا انعقاد کیا گیا، جن میں خواتین، نوجوانوں، بزرگوں اور بچوں سمیت ہزاروں افراد نے شرکت کی۔

اس کے بعد دالبندین میں بھی ایک بڑے عوامی اجتماع کا انعقاد کیا، جسے تنظیم کی عوامی مقبولیت اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں اس کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے اظہار کے طور پر دیکھا گیا۔دوسری جانب حکومتی اور ریاستی حلقوں کی جانب سے بلوچ یکجہتی کمیٹی پر تنقید کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ بلوچستان کے وزیر اعلیٰ، صوبائی وزراء اور وفاقی سطح کے بعض حکام نے اسمبلیوں، پریس کانفرنسوں اور ٹی وی پروگراموں میں تنظیم بیانیہ سازی شروع کی۔ وزیر دفاع خواجہ آصف سمیت متعدد حکومتی شخصیات نے بھی مختلف مواقع پر بلوچ یکجہتی کمیٹی نشانہ بناتے رہے ہیں۔

یوں 2020 میں ڈنک کے ایک واقعے سے جنم لینے والی ایک خود رو عوامی تحریک چند ہی برسوں میں بلوچستان کی سیاست، انسانی حقوق کی بحث اور ریاستی بیانیے کے درمیان ایک اہم سیاسی قوت کے طور پر ابھر کر سامنے آئی۔

بلوچستان کی سیاست اور بی وائی سی

بلوچستان کی موجودہ سیاسی صورتحال کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے تاریخی پس منظر کا ایک مختصر جائزہ لیا جائے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد دنیا بھر میں سیاسی، جغرافیائی اور معاشی سطح پر بڑے پیمانے پر تبدیلیاں رونما ہوئیں، جن کے نتیجے میں نئے عالمی نظام اور ریاستی ڈھانچے وجود میں آئے۔ ان عالمی تبدیلیوں کے اثرات بلوچستان کی سیاسی تاریخ اور اس کے مستقبل پر بھی گہرے انداز میں مرتب ہوئے۔

برصغیر کی تقسیم کے نتیجے میں 1947 میں پاکستان اور بھارت دو ریاستوں کی صورت میں سامنے آئے۔ قیامِ پاکستان کے بعد بلوچستان کو پاکستان میں شامل کیا گیا۔ اس عمل کی تشریح کے حوالے سے مختلف نقطۂ نظر موجود ہیں۔ بلوچ قوم پرست حلقے اسے ایک جبری قبضہ یا الحاقِ جبری قرار دیتے ہیں، جبکہ پاکستانی ریاست اسے قانونی اور آئینی الحاق کے طور پر پیش کرتی ہے۔

اس اختلافِ رائے کے نتیجے میں بلوچستان میں سیاسی بے چینی اور مزاحمت کی مختلف شکلیں سامنے آتی رہی ہیں۔ 1948 سے لے کر آج تک بلوچستان کی تاریخ مختلف سیاسی تحریکوں، احتجاجی جدوجہدوں اور مسلح مزاحمتی سرگرمیوں سے عبارت رہی ہے۔ یہ تحریکیں وقتاً فوقتاً مختلف شدت اور صورتوں میں ابھرتی رہی ہیں، جن میں سیاسی، سماجی اور عملی مزاحمت کے پہلو نمایاں رہے ہیں۔ یہی تاریخی عوامل بلوچستان کی موجودہ سیاسی صورتحال سمجھنے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔

26 اگست 2006 کو ڈیرہ بگٹی کے علاقے تاترانی میں اُس وقت کے فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف کے دور میں ایک فوجی کارروائی کے دوران بزرگ بلوچ رہنما نواب اکبر بگٹی جاں بحق ہوگئے۔ اس واقعے سے قبل بلوچستان میں ایک نسبتاً محدود اور کم شدت کی مزاحمتی تحریک جاری تھی، تاہم اکبر بگٹی کی قتل نے اس تحریک کو ایک نئے موڑ پر لا کھڑا کیا۔ یہ واقعہ گویا ایک ایسی چنگاری ثابت ہوا جس نے پہلے سے موجود بے چینی کو وسیع عوامی ردِعمل میں تبدیل کر دیا، اور اس کے اثرات پورے بلوچستان میں محسوس کیے گئے۔

اس کے بعد بلوچ نیشنل موومنٹ (BNM) کے رہنماؤں غلام محمد بلوچ، لالا منیر بلوچ اور شیر محمد بلوچ کی جبری گمشدگی اور بعدازاں ماورائے عدالت قتل نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا۔ ان واقعات نے بلوچستان کے سیاسی منظرنامے پر گہرے اثرات مرتب کیے اور بلوچ سیاست میں ایک اہم تبدیلی کی بنیاد رکھی۔

نتیجتاً، بلوچ مسلح تنظیموں کو نئی قوت اور حمایت حاصل ہوئی، جبکہ بڑی تعداد میں نوجوان اور دیگر افراد ان تحریکوں کا حصہ بنتے گئے۔ یوں یہ واقعات بلوچستان میں جاری سیاسی و مزاحمتی جدوجہد کی تاریخ میں اہم سنگِ میل کی حیثیت اختیار کر گئے اور انہوں نے آنے والے برسوں کی سیاسی سمت پر بھی نمایاں اثرات مرتب کیے۔

دوسری جانب ریاست نے بلوچستان میں بڑھتی ہوئی مزاحمت کے مقابلے کے لیے مختلف نوعیت کی پالیسیاں اختیار کیں۔ ان پالیسیوں کے نتیجے میں ہزاروں افراد متاثر ہوئے، جن میں سیاسی کارکن، طلبہ، دانشور، سماجی رہنما اور معاشرے کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل تھے۔ بلوچ قوم پرست حلقوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق، جبری گمشدگیاں، ماورائے عدالت ہلاکتیں اور مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی بلوچستان کی سیاسی اور سماجی زندگی کا مستقل حصہ بنتی چلی گئیں۔

ان حالات نے بلوچستان کی سیاسی سرگرمیوں کو شدید متاثر کیا۔ متعدد سیاسی جماعتوں اور تنظیموں کے رہنما یا تو لاپتہ کر دیے گئے یا پھر انہیں اپنی سرگرمیاں محدود کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ بہت سے کارکنوں اور رہنماؤں نے گرفتاری یا گمشدگی کے خوف کے باعث انڈر گراونڈ ہوگئے۔ اس دوران جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور متاثرہ خاندانوں کی جانب سے انصاف کے مطالبات بلوچستان کے عوامی اور سیاسی منظرنامے کا اہم موضوع بنے رہے۔

ایسے ماحول میں عوام ایک ایسی منظم اور مؤثر آواز کی تلاش میں تھے جو ان کے مسائل کو نمایاں انداز میں اجاگر کر سکے۔ انہی حالات کے درمیان بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کا ابھرنا بہت سے لوگوں کے لیے ایک غیر معمولی پیش رفت ثابت ہوا۔ تنظیم نے ایسے مسائل کو اجاگر کیا جنہیں اس کے حامی بلوچ عوام کے حقیقی اور بنیادی مسائل قرار دیتے ہیں، جن میں جبری گمشدگیاں، انسانی حقوق سے متعلق خدشات اور سیاسی نمائندگی کے سوالات شامل ہیں۔ اس نے ان مطالبات کے لیے پُرامن احتجاج، عوامی بیداری اور منظم عوامی جدوجہد کا راستہ اختیار کیا اور مؤقف اپنایا کہ اس کے تمام مطالبات پاکستان کے آئینی دائرہ کار کے اندر ہیں۔ اگرچہ بلوچ یکجہتی کمیٹی نے بلوچستان میں ریاستی پالیسیوں اور سیکیورٹی اقدامات پر کھل کر تنقید کی، تاہم اس کا طریقۂ کار بی ایس او آزاد، بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) اور مختلف بلوچ مسلح تنظیموں سے مختلف رہا۔ تنظیم نے نہ تو کوئی سخت گیر یا انقلابی سیاسی مؤقف اختیار کیا اور نہ ہی بلوچستان کی آزادی کا مطالبہ کیا، بلکہ خود کو ایک ایسی تحریک کے طور پر پیش کیا جو انصاف، جوابدہی اور آئینی حقوق کے حصول کے لیے عدم تشدد اور پُرامن سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتی ہے۔

نتیجتاً، بلوچ یکجہتی کمیٹی کو مختصر عرصے میں عوامی سطح پر غیر معمولی پذیرائی حاصل ہوئی۔ اس کی سرگرمیوں اور احتجاجی مہمات میں بڑی تعداد میں لوگ شریک ہونے لگے۔ یہی وجہ تھی کہ جب تنظیم نے گوادر میں ایک بڑے عوامی اجتماع کی کال دی تو ہزاروں افراد اس میں شریک ہوئے۔ عوامی حمایت اور تیزی سے بڑھتی ہوئی مقبولیت کا یہ منظر ریاستی اداروں کے لیے ایک اہم چیلنج کے طور پر سامنے آیا، جس نے بلوچستان کی سیاست میں ایک نئی بحث کو جنم دیا۔

حکومتی ادارے اور بی وائی سی

نواب اکبر بگٹی اور بلوچ نیشنل موومنٹ کے رہنماؤں غلام محمد بلوچ، لالا منیر بلوچ اور شیر محمد بلوچ کے قتل کے بعد بلوچستان کا سیاسی منظرنامہ نمایاں طور پر تبدیل ہوگیا۔ ان واقعات نے نہ صرف بلوچستان میں جاری مزاحمتی تحریکوں کو متاثر کیا بلکہ بلوچستان کی مجموعی سیاسی فضا کو بھی ایک نئے رخ پر ڈال دیا۔

اس عرصے کے دوران جہاں ایک طرف مسلح مزاحمت اور سیکیورٹی کارروائیوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا، وہیں دوسری جانب سرفیس سیاست کا دائرہ بھی بتدریج محدود ہوتا چلا گیا۔ قوم پرست جماعتوں اور طلبہ تنظیموں کے متعدد رہنماؤں اور کارکنوں کو مختلف نوعیت کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض سیاسی کارکن لاپتہ کر دیے گئے، بعض جلاوطنی اختیار کرنے پر مجبور ہوئے جبکہ کئی تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں کو محدود کر دیا۔ نتیجتاً بلوچستان میں وہ سیاسی و سماجی فضا، جہاں عوامی مسائل پر منظم انداز میں گفتگو کی جا سکتی تھی، پہلے کے مقابلے میں خاصی سکڑتی ہوئی محسوس ہونے لگی۔

اسی دوران جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں اور انسانی حقوق سے متعلق دیگر معاملات بلوچستان کے سیاسی مباحث کا مرکزی موضوع بنتے گئے۔ متاثرہ خاندانوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا تھا کہ ہزاروں خاندان اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے در در کی ٹھوکریں کھا رہے تھے، مگر ان کے مطالبات کو مؤثر انداز میں قومی سطح پر پیش کرنے کے لیے کوئی مضبوط پلیٹ فارم موجود نہیں تھا۔ لاپتہ افراد کے لواحقین اکثر احتجاجی کیمپوں، ریلیوں اور پریس کلبوں کے باہر نظر آتے تھے، لیکن ان کی آواز محدود حلقوں سے آگے نہیں پہنچ پاتی تھی۔

ایسے ماحول میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کا ابھار بہت سے مبصرین کے نزدیک ایک اہم سیاسی پیش رفت تھی۔ تنظیم نے اپنے آغاز ہی سے جبری گمشدگیوں، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور متاثرہ خاندانوں کے مسائل کو اپنی جدوجہد کا محور بنایا۔ بی وائی سی نے ان پالیسیوں پر براہ راست تنقید کی جنہیں وہ بلوچستان میں جاری انسانی بحران کی بنیادی وجہ قرار دیتی ہے۔ تنظیم کا مؤقف ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران اپنائی گئی ریاستی پالیسیوں نے بلوچ معاشرے کو شدید نقصان پہنچایا ہے، بہت سے تجزیہ کاروں کے مطابق بلوچ یکجہتی کمیٹی کی مقبولیت کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ اس نے ایسے وقت میں آواز بلند کی جب بلوچستان میں سیاسی نمائندگی اور عوامی احتجاج کے روایتی ذرائع کمزور پڑ چکے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ لاپتہ افراد کے خاندانوں، طلبہ، نوجوانوں اور سماجی کارکنوں کی ایک بڑی تعداد اس کے گرد جمع ہوتی چلی گئی۔

دوسری جانب ریاستی اور حکومتی حلقوں نے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر تحفظات کا اظہار کیا۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے نمائندوں نے مختلف پریس کانفرنسوں میں تنظیم پر تنقید کی، جبکہ بلوچستان حکومت اور وفاقی وزراء نے بھی متعدد مواقع پر بی وائی سی کے کردار پر سوالات اٹھائے۔ حکومتی مؤقف یہ رہا ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی براہِ راست یا بالواسطہ طور پر بلوچ مسلح تنظیموں کے بیانیے کو تقویت دیتی ہے اور بعض معاملات میں ان کے مفادات کے مطابق سرگرم عمل دکھائی دیتی ہے۔

تاہم بلوچ یکجہتی کمیٹی اور اس کے حامی ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تنظیم ایک عوامی اور پرامن پلیٹ فارم ہے جو انسانی حقوق، جبری گمشدگیوں اور آئینی حقوق کے لیے آواز اٹھا رہی ہے۔ تنظیم کے حامی یہ مؤقف بھی اختیار کرتے ہیں کہ اب تک حکومتی حلقوں کی جانب سے لگائے گئے الزامات کے حق میں عوام کے سامنے ایسے شواہد پیش نہیں کیے گئے جو ان دعوؤں کو ثابت کر سکیں۔

بلوچستان کی سیاسی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو ایک بات نمایاں طور پر سامنے آتی ہے کہ جب بھی بلوچ قوم پرست جماعتوں، طلبہ تنظیموں یا مزاحمتی تحریکوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا گیا، اس کا آغاز عموماً ان کی مرکزی قیادت کو نشانہ بنا کر کیا گیا۔ بلوچ سیاسی حلقے اس حوالے سے نواب اکبر بگٹی ، غلام محمد بلوچ، لالا منیر بلوچ اور شیر محمد بلوچ کے قتل، اور بعد ازاں ذاکر مجید بلوچ، سنگت ثناء اور دیگر سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں اور جبری گمشدگیوں کو مثال کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ ان حلقوں کا مؤقف ہے کہ بلوچستان میں کسی بھی سیاسی تحریک کو کمزور کرنے کے لیے سب سے پہلے اس کی قیادت کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ تنظیم کے خلاف حالیہ اقدامات بھی اسی پالیسی کا تسلسل دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے مطابق جب ریاست اور حکومتی اداروں نے بی وائی سی کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو ایک چیلنج کے طور پر دیکھنا شروع کیا تو سب سے پہلے اس کی مرکزی قیادت کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔

اسی تناظر میں 22 مارچ 2025 کو بلوچ یکجہتی کمیٹی کی مرکزی آرگنائزر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، مرکزی کمیٹی کے رکن صبغت اللہ شاہ جی، گلزادی بلوچ، بیبگر بلوچ اور دیگر رہنماؤں کو کوئٹہ سے حراست میں لیا گیا۔ تنظیم اور اس کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ ان رہنماؤں کو ابتدائی طور پر مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) کے تحت حراست میں رکھا گیا۔ بعد ازاں جب اس حراست کی مدت مکمل ہوئی تو انہیں دیگر مقدمات میں گرفتار کر لیا گیا۔

بی وائی سی اور انسانی حقوق کے بعض حلقے ان مقدمات کو سیاسی نوعیت کا قرار دیتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ تنظیم کی قیادت کو سیاسی سرگرمیوں سے روکنے کے لیے ان کے خلاف مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔ دوسری جانب حکومتی حکام کا مؤقف ہے کہ تمام کارروائیاں قانون کے مطابق کی گئی ہیں اور گرفتار افراد کے خلاف قانونی بنیادوں پر مقدمات درج ہیں۔

ان گرفتاریوں کے بعد بلوچ یکجہتی کمیٹی اور اس کے حامیوں کی جانب سے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے، ریلیاں اور یکجہتی مہمات بھی چلائی گئیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اس کی قیادت کو قید کرکے اس کی سیاسی سرگرمیوں کو محدود کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

بی وائی سی اور مستقبل کی سیاست

بلوچ یکجہتی کمیٹی آج اپنی سیاسی جدوجہد کے ایک ایسے مرحلے پر کھڑی ہے جہاں اس کے مستقبل کے حوالے سے کئی سوالات جنم لے رہے ہیں۔ تنظیم کے حامیوں کا خیال ہے کہ ریاست اب بی وائی سی کے ساتھ بھی وہی حکمتِ عملی اختیار کرنا چاہتی ہے جو ماضی میں بلوچ قوم پرست تنظیموں اور طلبہ تحریکوں کے ساتھ اختیار کی گئی تھی جن کے رہنما یا تو قتل یا لاپتہ قرار کر دئے گئے یا پھر انہیں اس قدر دباؤ کا سامنا کرنا پڑا کہ ان کی سیاسی سرگرمیاں محدود ہو کر رہ گئیں۔

ان حلقوں کے مطابق گزشتہ دو دہائیوں کے دوران بلوچستان میں ایسی متعدد مثالیں موجود ہیں جہاں سیاسی مزاحمت اور عوامی تحریکوں کو مختلف ریاستی اقدامات کے ذریعے محدود کرنے کی کوشش کی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے حامی موجودہ صورتحال کو اسی تاریخی تسلسل کا حصہ قرار دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ تنظیم کے خلاف جاری بیانیہ سازی، مقدمات، گرفتاریوں اور دیگر اقدامات کو اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔

تاہم بلوچ یکجہتی کمیٹی کے معاملے میں ایک بنیادی فرق بھی موجود ہے۔ ماضی کی کئی قوم پرست جماعتیں اور تنظیمیں اگرچہ عوامی حمایت رکھتی تھیں، لیکن ان کی سرگرمیاں زیادہ تر مخصوص سیاسی حلقوں، طلبہ تنظیموں یا قوم پرست کارکنوں تک محدود سمجھی جاتی تھیں۔ اس کے برعکس بلوچ یکجہتی کمیٹی نے خود کو انسانی حقوق، جبری گمشدگیوں اور متاثرہ خاندانوں کے مسائل سے جوڑ کر معاشرے کے نسبتاً وسیع طبقات تک رسائی حاصل کی ہے۔ اس کی سرگرمیوں میں خواتین، طلبہ، نوجوانوں، بزرگوں اور لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ کی بڑی تعداد کی شرکت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ تنظیم کی بنیاد صرف روایتی سیاسی کارکنوں تک محدود نہیں رہی۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سیاست کو اگر بلوچستان کی ماضی کی سیاسی تحریکوں کے تناظر میں دیکھا جائے تو اس کی ایک نمایاں اور منفرد خصوصیت خواتین کا غیر معمولی کردار ہے۔ بلوچستان میں قوم پرست سیاست اور طلبہ تحریکوں کی ایک طویل تاریخ موجود ہے، تاہم ان تنظیموں اور جماعتوں کی قیادت اور فیصلہ سازی کے مراکز میں عموماً مردوں کا غلبہ رہا ہے۔ اگرچہ مختلف ادوار میں خواتین سیاسی سرگرمیوں کا حصہ رہی ہیں، لیکن وہ شاذ و نادر ہی کسی تحریک کا مرکزی چہرہ یا قیادت کا محور بنی ہیں۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے اس روایت کو ایک حد تک تبدیل کیا۔ تنظیم کے ابھار کے ساتھ ہی خواتین نہ صرف اس کی سرگرمیوں میں نمایاں نظر آئیں بلکہ قیادت کے اہم مناصب پر بھی سامنے آئیں۔ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، ڈاکٹر صبیحہ بلوچ، سمی دین بلوچ اور گلزادی بلوچ سمیت متعدد خواتین رہنماؤں نے تنظیم کے سیاسی بیانیے، احتجاجی مہمات اور عوامی رابطہ سرگرمیوں میں کلیدی کردار ادا کیا۔
بہت سے مبصرین کے نزدیک بلوچ یکجہتی کمیٹی کی مقبولیت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس نے بلوچ خواتین کو محض علامتی نمائندگی تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں عملی قیادت کے مواقع فراہم کیے۔ یہی وجہ ہے کہ تنظیم کے جلسوں، ریلیوں، لانگ مارچوں اور احتجاجی کیمپوں میں خواتین کی شرکت غیر معمولی طور پر نمایاں رہی۔ بلوچستان کی سیاسی تاریخ میں شاید پہلی بار ایسا منظر دیکھنے میں آیا کہ ہزاروں خواتین نہ صرف احتجاجی سرگرمیوں میں شریک ہوئیں بلکہ مختلف مواقع پر ان کی قیادت بھی کرتی نظر آئیں۔

خاص طور پر جبری گمشدگیوں کے متاثرہ خاندانوں سے تعلق رکھنے والی خواتین نے بی وائی سی کی سرگرمیوں میں نمایاں کردار ادا کیا۔ لاپتہ افراد کی مائیں، بہنیں اور بیٹیاں تنظیم کی احتجاجی سیاست کا ایک اہم حصہ بن گئیں۔ اس صورتحال نے بلوچ یکجہتی کمیٹی کو صرف ایک سیاسی تنظیم کے بجائے ایک سماجی تحریک کی شکل بھی دی، جس کی جڑیں معاشرے کے مختلف طبقات میں پھیلتی دکھائی دیتی ہیں۔

سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ خواتین کی اس مضبوط موجودگی نے بی وائی سی کو بلوچستان کی دیگر سیاسی تنظیموں سے ممتاز کیا ہے۔ ایک ایسے معاشرے میں جہاں سیاست طویل عرصے تک مردوں کے زیرِ اثر رہی، وہاں خواتین کا مرکزی قیادت کے طور پر ابھرنا بذاتِ خود ایک اہم سماجی اور سیاسی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

شاید یہی وجہ ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے بارے میں ہونے والی بحث صرف اس کے سیاسی مطالبات تک محدود نہیں رہتی، بلکہ اس کے ذریعے بلوچ معاشرے میں خواتین کے بدلتے ہوئے کردار، سیاسی شعور اور عوامی شرکت کے نئے رجحانات بھی زیرِ بحث آتے ہیں۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو بی وائی سی نے بلوچستان کی سیاست میں نہ صرف ایک نیا سیاسی بیانیہ متعارف کرایا بلکہ قیادت اور نمائندگی کے روایتی تصورات کو بھی چیلنج کیا ہے۔

اسی وجہ سے بعض مبصرین کا خیال ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کو مکمل طور پر سیاسی منظرنامے سے الگ کرنا یا ختم کرنا اتنا آسان نہیں ہوگا جتنا ماضی میں بعض دیگر تنظیموں کے ساتھ ہوا۔ ان کے مطابق بی وائی سی کی اصل طاقت اس کی قیادت سے زیادہ اس سماجی بنیاد میں ہے جو گزشتہ چند برسوں کے دوران بلوچستان کے مختلف علاقوں میں تشکیل پا چکی ہے۔ یہ بنیاد ان خاندانوں، نوجوانوں اور سماجی حلقوں پر مشتمل ہے جو خود کو موجودہ سیاسی نظام میں غیر نمائندہ محسوس کرتے ہیں اور اپنے مسائل کے اظہار کے لیے بی وائی سی کو ایک پلیٹ فارم کے طور پر دیکھتے ہیں۔

تنظیم کے ناقدین اور حکومتی حلقے البتہ ایک مختلف مؤقف رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق تنظیم کی سرگرمیاں قومی سلامتی یا امن و امان کے لیے خطرہ ہے۔ چند سیاسی مبصرین بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مستقبل کا انحصار بڑی حد تک اس چیز پر رکھتے ہیں کہ آیا وہ اپنی موجودہ عوامی حمایت کو ایک پائیدار سیاسی اور سماجی قوت میں تبدیل کر پاتی ہے یا نہیں۔

اختتامیہ

بلوچ یکجہتی کمیٹی کا ابھار بلوچستان کی سیاست میں ایک غیر معمولی پیش رفت کے طور پر اس لیئے بھی دیکھا جا رہاہے کہ یہ نہ صرف متاثرہ خاندانوں، طلبہ، خواتین اور نوجوانوں کی آواز بنی ہے بلکہ اس نے بلوچستان کے ان مسائل کو بھی قومی اور بین الاقوامی سطح پر موضوعِ بحث بنانے میں کامیابی حاصل کی ہے جو کئی سالوں سے نظرانداز ہوتے رہے ہیں۔

چنانچہ ،بلوچ یکجہتی کمیٹی کا مستقبل صرف ایک تنظیم کی کامیابی یا ناکامی کا سوال نہیں، بلکہ بلوچستان میں ریاست اور معاشرے کے درمیان تعلق کی نوعیت سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ اگر بلوچستان میں جبری گمشدگیوں، سیاسی نمائندگی، انسانی حقوق اور عوامی شمولیت جیسے بنیادی سوالات بدستور حل طلب رہتے ہیں تو ایسے میں بی وائی سی جیسی تحریکوں کا ابھرنا محض ایک سیاسی واقعہ نہیں بلکہ ایک سماجی اور تاریخی ردِعمل کے طور پر دیکھا جائے گا۔ اسی لیے اصل سوال یہ نہیں کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی مستقبل میں موجود رہے گی یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ مسائل جنہوں نے اس تحریک کو جنم دیا، ان کا حل کس حد تک تلاش کیا جاتا ہے۔ جب تک یہ سوالات اپنی جگہ برقرار ہیں، بلوچستان کی سیاست میں بی وائی سی اور اس جیسی عوامی تحریکوں کی اہمیت اور اثرات بھی بحث کا حصہ رہیں گے۔