بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے کوئٹہ میں فوجی شٹل ٹرین پر ہونے والے فدائی حملے کے حوالے سے مزید ایک بیان جاری کرتے ہوئے حملہ آور کی شناخت ظاہر کردی۔ تنظیم کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یہ حملہ مجید بریگیڈ کے فدائی یونٹ کے رکن اور کمانڈر بلال شاہوانی عرف سائیں نے انجام دیا۔
ترجمان نے کہا کہ بلوچ لبریشن آرمی کے فدائی یونٹ مجید بریگیڈ نے آج صبح کوئٹہ میں چمن پھاٹک کے مقام پر قابض پاکستانی فوج کے اہلکاروں کو منتقل کرنے والی ایک فوجی شٹل ٹرین کو فدائی حملے میں نشانہ بناکر دشمن کو بھاری جانی نقصان سے دوچار کیا۔ بی ایل اے اس حملے کی تمام تر ذمہ داری قبول کرتی ہے۔ اس فدائی حملے کے نتیجے میں دشمن فوج کو پہنچنے والے جانی ومالی نقصانات کی حتمی تفصیلات تنظیم کے باقاعدہ طریقہ کار کے مطابق بعد میں ایک جامع رپورٹ کی صورت میں میڈیا کے لیئے جاری کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس فدائی مشن کو مجید بریگیڈ کے جانباز فدائی اورتنظیم کے کمانڈر بلال شاہوانی عرف سائیں نے از خود سرانجام دیا۔ پچیس سالہ فدائی بلال شاہوانی ولد چیف عبدالغنی شاہوانی، شال کے علاقے کلی سردے، سریاب کے رہائشی تھے۔ انہوں نے سن دو ہزار بیس میں بلوچ مزاحمتی تحریک برائے آزادی میں شمولیت اختیار کی۔ عسکری میدان میں بہترین کارکردگی اور تنظیمی ڈسپلن کی بنیاد پر سن دو ہزار بائیس میں شہید بلال کو انکی رضاکارانہ خواہش پر مجید بریگیڈ کے فدائی یونٹ میں شامل کیا گیا۔ آپ ناگاہو، دشت کومبیلا، کوئٹہ اور قلات کے اہم محاذوں پر سرگرم رہے اور اپنی خداداد عسکری صلاحیتوں کی بنا پر کمانڈر کے عہدے پر فائز ہوئے۔
کمانڈر بلال شاہوانی عرف سائیں بی ایل اے کے نیٹ ورک کے ایک فعال اور مدبر عسکری دماغ تھے۔ گزشتہ چھ ماہ کے دوران دشت کومبیلا کے پورے جنگی محاذ پر قابض فوج کے خلاف ہونے والے تمام بڑے حملوں اور گوریلہ آپریشنز کی براہِ راست کمانڈ شہید فدائی بلال شاہوانی کے ہاتھوں میں تھی۔ اس سے قبل، تنظیم کے تاریخی عسکری معرکے “آپریشن ہیروف اول” کے دوران انہوں نے قلات کے محاذ پر دشمن کے خلاف ہراول دستوں کی عسکری قیادت کی تھی، جبکہ “آپریشن ہیروف دوم” کے دوران انہوں نے شال کے انتہائی حساس علاقے، ریڈ زون میں فدائی دستوں کی کمانڈ سنبھال کر دشمن کے حفاظتی حصارکو توڑا تھا۔
انہوں نے کہا کہ آج صبح قابض فوج کے اہلکاروں کو کوئٹہ کینٹ سے شٹل ٹرین کے ذریعے خفیہ طریقے سے جعفر ایکسپریس تک منتقلی کے عین وقت پر کامیابی سے نشانہ بنانا، بی ایل اے کے انٹیلی جنس ونگ ” زراب” کی گہری رسائی اور کمانڈر بلال شاہوانی کی جنگی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچ لبریشن آرمی اپنے فدائی کمانڈر بلال شاہوانی عرف سائیں کی تنظیمی خدمات اور لازوال قربانی پر انہیں سرخ سلام پیش کرتی ہے۔ ایک فعال فیلڈ کمانڈر کا خود کو فدائی مشن کے لیئے پیش کرنا بی ایل اے کے ادارہ جاتی ارتقا اور فکری برتری کا واضح ثبوت ہے۔ یہ فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ بلوچ قومی مزاحمت اب روایتی گوریلہ طریقہ کار سے آگے بڑھ کر ایک ایسے جدید عسکری ڈھانچے میں تبدیل ہوچکی ہے جہاں تنظیمی کمانڈرز اجتماعی قومی اہداف کو انفرادی مادی کردار پر ترجیح دیتے ہیں۔ بلال شاہوانی کا یہ اقدام تاریخ میں محکوم اقوام کی سیاسی وعسکری جدوجہد کے ایک ایسے اہم اصول کے طور پر محفوظ رہے گا، جو یہ ثابت کرتا ہے کہ غاصب ریاست کے جدید مادی نیٹ ورک کا مقابلہ صرف اور صرف گہرے فکری ڈسپلن، انٹیلی جنس رسائی، قربانی اور تزویراتی عزم کے پائیدار توازن سے ہی ممکن ہے۔۔ ہماری یہ جنگ بلوچ سرزمین پر مکمل حاکمیتِ اعلیٰ کے قیام اور مکمل آزادی تک جاری رہے گی۔















































