کوئٹہ: عید الاضحیٰ کے موقع پر جبری لاپتہ افراد کے لواحقین کا احتجاج

1

بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں عید الاضحیٰ کے موقع پر بھی جبری لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس کا اہتمام تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز نے کیا تھا۔

کوئٹہ پریس کلب کے باہر ہونے والے اس مظاہرے میں خواتین اور بچے بھی شریک ہوئے۔ مظاہرین اپنے پیاروں کی تصاویر اٹھائے ہوئے تھے اور ان کی بازیابی کے حق میں نعرے لگا رہے تھے۔

مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے تنظیم کے چیئرمین نصراللہ بلوچ، نیاز بلوچ اور بزرگ سیاسی رہنما مہیم خان بلوچ کے علاوہ لاپتہ افراد کے لواحقین نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

جبری لاپتہ افراد کے لواحقین کا کہنا تھا کہ جہاں ایک طرف ملک بھر میں لوگ عید کی خوشیاں منا رہے ہیں، وہیں دوسری جانب وہ اپنے پیاروں کی جدائی کے باعث اس دن بھی احتجاج پر مجبور ہیں۔ان کے مطابق برسوں گزر جانے کے باوجود ان کے عزیزوں کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں، جس کے باعث ان کی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

نصراللہ بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تنظیم مطالبہ کرتی رہی ہے کہ لاپتہ افراد کے مسئلے کو ملکی قوانین کے مطابق حل کیا جائے، تاہم ان کے بقول حکومت اس سلسلے میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’جب حکومت اس مسئلے کو حل نہیں کر رہی تو ہم اسے سول سوسائٹی کے سامنے لے جا رہے ہیں تاکہ وہ اپنا کردار ادا کرے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان حکومت کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ فروری میں متعارف کرائے گئے قانون کے ذریعے اس مسئلے کو حل کر لیا گیا ہے، تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔

ان کے مطابق فروری سے اب تک ان کی تنظیم کے پاس جبری گمشدگی کے 257 نئے کیسز رجسٹر ہو چکے ہیں، جبکہ سرکاری مراکز میں صرف محدود تعداد میں افراد موجود ہیں۔

نصراللہ بلوچ نے کہا کہ گذشتہ چند ماہ سے سرکاری حکام کی جانب سے احتجاجی کیمپ کو ختم کروانے کے لیے کیمپ انچارج نیاز بلوچ کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔

مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ تمام لاپتہ افراد کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے اور اگر کسی پر کوئی الزام ہے تو اسے عدالت کے سامنے پیش کیا جائے۔