نوشکی نوجوانوں کو جبری لاپتہ کرکے اہلخانہ سے دیگر پیاروں سے لاتعلقی کی پریس کانفرنس کروائی گئی

10

بلوچستان کے ضلع نوشکی سے تین افراد کو پاکستانی فورسز فرنٹیئر کور اور خفیہ اداروں نے حراست میں لینے کے بعد جبری لاپتہ کردیا ہے۔ تینوں افراد کو 28 اور 29 مئی کو مختلف علاقوں سے حراست میں لیا گیا، تاہم ان کے بارے میں تاحال کوئی سرکاری معلومات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔

لاپتہ ہونے والوں میں اللہ نذر ولد غیاث سکنہ کلی جمالدینی، طیب ولد آغا محمد سکنہ کلی جمالدینی اور صدام ولد باز محمد سکنہ قاضی آباد شامل ہیں۔ خاندانوں کا دعویٰ ہے کہ تینوں افراد کو 28 اور 29 مئی کو پاکستانی فورسز نے اپنی تحویل میں لیا تھا جس کے بعد سے ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔

ذرائع کے مطابق مذکورہ افراد کو حراست میں لیے جانے کے بعد ان کے اہلِ خانہ پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ اپنے دیگر پیاروں سے لاتعلقی کی پریس کانفرنس کرے جو مبینہ طور پر بلوچ مسلح آزادی پسند تنظیموں کا حصہ بنے ہیں، اہلخانہ کو دھمکیاں دی گئی کہ پریس کانفرنس نہ کرنے کی صورت میں ان کے جبری لاپتہ نوجوان بازیاب نہیں ہوسکیں گے۔

یاد رہے کہ حالیہ عرصے کے دوران بلوچستان میں اس نوعیت کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ مختلف حلقوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی جانب سے یہ الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ قوم پرست تنظیموں سے وابستگی کے شبہے میں گرفتار یا لاپتا کیے جانے والے افراد کے اہلِ خانہ سے بعض اوقات پریس کانفرنسیں کروائی جاتی ہیں، جن میں ان سے اپنے رشتہ داروں سے لاتعلقی یا ان کی سرگرمیوں سے بے زاری کا اظہار کروایا جاتا ہے۔

گذشتہ دنوں کوئٹہ میں فوجی اہلکاروں کو لیجانے والی ٹرین پر حملہ کرنے والے بی ایل اے مجید برگیڈ فدائی بلال شاہوانی عرف سائیں کی والدہ سمیت دو بھائیوں اور مزید دو رشتہ داروں کو فورسز نے گھر سے جبری لاپتہ کردیا۔ خیال رہے بلال شاہوانی کے اہلخانہ کو بھی پریس کانفرنس کے ذریعے ان سے لاتعلقی کا بیان دلوایا گیا تھا تاہم ان کے اہلخانہ و رشتہ داروں کو لاپتہ کیا گیا۔

مزید برآں بی ایل اے خاتون کمانڈر شہناز بلوچ عرف سدو کے اہلخانہ کی جانب سے گذشتہ روز اسی نوعیت کی پریس کانفرنس سامنے آئیں تاہم بعدازاں انکشاف ہوا کہ شہناز بلوچ کی والدہ سمیت ان کے دو ماموں پاکستانی فورسز نے جبری لاپتہ کرنے کے بعد خاندان کے دیگر افراد سے پریس کانفرنس کروائی گئی۔