کوئٹہ، نوشکی: پروفیسر غمخوار حیات کی یاد میں ریلیاں، شمعیں روشن

7

منگل کے روز بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ اور نوشکی میں طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد نے ہاتھوں میں شمعیں روشن کرکے پروفیسر غمخوار حیات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

تفصیلات کے مطابق بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشنز الائنس (جس میں بی ایس اے سی، بی ایس او اور بی ایس او پجار شامل ہیں) کی جانب سے کوئٹہ میں پروفیسر اور دانشور غمخوار حیات کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے ایک تعزیتی واک کا انعقاد کیا گیا۔ واک کے اختتامی مقام پر بلوچ ادب کے لیے اُن کی انتھک خدمات اور تعلیمی میدان میں اُن کی بے لوث وابستگی کو خراج پیش کرنے کے لیے شمعیں روشن کی گئیں۔

بساک نے کہا کہ ایک طلبہ تنظیم ہونے کے ناطے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے اساتذہ، پروفیسرز، دانشور اور اہلِ علم ہمارے معاشرے اور قوم کے بنیادی ستون ہیں، جن کے بغیر ہم کسی بھی صورت آگے نہیں بڑھ سکتے۔ پروفیسر غمخوار حیات کا انتقال ہمارے ادبی حلقے کے لیے ایک المناک نقصان ہے۔

ادھر پروفیسر غمخوار حیات کے آبائی علاقے نوشکی میں بھی طلبہ، طالبات اور شہریوں کی بڑی تعداد نے گھروں سے نکل کر مارچ کیا۔ شرکاء نے پروفیسر غمخوار حیات کی تصاویر ہاتھوں میں اٹھا کر شہر کی سڑکوں پر مارچ کیا اور اُن کی ادبی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے اُن کے قتل کو براہوی ادب کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیا۔

واضح رہے کہ پروفیسر غمخوار حیات کو گزشتہ روز نوشکی کے علاقے کلی مینگل میں حکومتی حمایت یافتہ مسلح گروہ “ڈیتھ اسکواڈز” کی فائرنگ کے نتیجے میں قتل کیا گیا۔

پروفیسر غمخوار حیات براہوی زبان کے معروف شاعر، ادیب، مترجم، افسانہ نگار اور انشائیہ نگار تھے۔ انہوں نے مختلف اصنافِ ادب میں گراں قدر خدمات انجام دیں اور تقریباً بیس کتابوں کے مصنف تھے۔ وہ راسکوہ ادبی دیوان اور اوتان کلچر اکیڈمی کے بانیوں میں بھی شامل تھے۔

ان کے قتل پر سیاسی، سماجی، ادبی اور علمی حلقوں سمیت اُن کے قارئین نے شدید غم و افسوس کا اظہار کیا ہے۔

مختلف حلقوں کا کہنا ہے کہ غمخوار حیات کی شہادت سے نہ صرف براہوی ادب بلکہ علم و دانش کی دنیا کو بھی ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے