بلوچستان کے علاقے نوشکی میں مسلح افراد نے مرکزی شاہراہ پر ناکہ بندیاں قائم کرکے گھنٹوں تک کنٹرول قائم رکھا، فورسز کو مسلح حملے میں جانی نقصانات اٹھانے کی اطلاعات
گذشتہ شب نوشکی کے علاقے سرمَل میں مسلح افراد کی بڑی تعداد نے کوئٹہ – تفتان مرکزی شاہراہ پر ناکہ بندی کرکے اسنیپ چیکنگ جاری رکھا، اس دوران مرکزی شاہراہ پاکستانی فورسز کی دو گاڑیوں کو حملے میں نشانہ بنایا۔
علاقائی ذرائع کے مطابق حملے کے نتیجے میں فورسز کی ایک گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی جبکہ متعدد اہلکاروں کے ہلاک و زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
دریں اثناء نوشکی، جورکین کے مقام پر بھی مسلح افراد نے ناکہ بندی کرکے گھنٹوں تک اسنیپ چیکنگ کی۔
خیال رہے گذشتہ نوشکی سے متصل شیخ واصل کے مقام پر ہونے والے ایک حملے میں پاکستانی فوج کو جانی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
یہ حملہ اس وقت ہوا جب فورسز معدنیات لیجانے والی گاڑیوں کے قافلے کو سیکورٹی فراہم کررہے تھے کہ مسلح افراد نے مذکورہ قافلے کو حملے میں نشانہ بنایا، حملے میں متعدد گاڑیوں کو نقصان پہنچا جبکہ ڈرائیوروں کے جانی نقصانات کی بھی اطلاعات ہیں۔
دریں اثناء دالبندین میں دوران ناکہ بندی مسلح افراد نے “سیاہ دک” کاپر پروجیکٹ سے منسلک تین افراد اور ریکوڈک پروجیکٹ کی ایک گاڑی کو بھی تحویل میں لے لیا۔
یہ واقعات ایسے موقع پر ہوئے ہیں جب گذشتہ روز چمالنگ میں ایک بم دھماکے اور مسلح حملے میں پاکستان فوج کے میجر رینک کے افسر سمیت آٹھ اہلکار ہلاک ہوئیں۔ اس حملے کی ذمہ داری بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کرلی ہے۔
بی ایل اے کے ترجمان جیئند بلوچ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ یہ کارروائی بی ایل اے کے انٹیلی جنس ونگ زراب کی فراہم کردہ درست خفیہ معلومات کی بنیاد پر سرانجام دی گئی۔



















































