ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور زبردستی پریس کانفرنسوں میں حالیہ اضافہ انتہائی تشویشناک ہے، جبکہ پرامن سیاسی جدوجہد اور انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھانے کی گنجائش مسلسل محدود کی جارہی ہے۔
ہدہ جیل کوئٹہ میں گذشتہ ایک سال سے زائد عرصے سے قید بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے اپنے بیان میں کہا کہ انصاف اور انسانی حقوق کی بات کرنے والوں کو خوف و ہراس اور دباؤ کے ذریعے خاموش کرایا جارہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہر انسان کو ناانصافی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف آواز بلند کرنے کا حق حاصل ہے، تاہم جب پاکستانی ریاست پرامن پلیٹ فارمز کو بھی نشانہ بنائے تو عوام کے پاس کیا راستہ باقی رہ جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب عدالتی نظام اور ریاستی ادارے مظلوموں کو تحفظ دینے میں ناکام ہوجائیں اور بلوچ عوام کی تکالیف پر خاموش رہیں تو متاثرہ خاندان انصاف کے لیے کہاں جائیں۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے مطابق انسانی حقوق کے کارکن اور بی وائی سی کے رکن نظر مری بلوچ کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا، تاہم آج تک ان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
انہوں نے کہا کہ ذیشان ظہیر بلوچ کے والد ظہیر احمد کو 13 اپریل 2015 سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا، اور ذیشان نے اپنے خاندان میں جبری گمشدگی کے دکھ کے ساتھ پرورش پائی، انصاف ملنے کے بجائے ذیشان کو 29 جون 2025 کو قتل کردیا گیا، جبکہ ان کے اہلخانہ مسلسل دباؤ اور ہراسانی کا سامنا کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حال ہی میں ذیشان کی بہن ادیبہ بلوچ کو زبردستی پریس کانفرنس کرنے پر مجبور کیا گیا تاکہ وہ عوامی طور پر بلوچ یکجہتی کمیٹی سے لاتعلقی ظاہر کریں، ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے مطابق یہ اقدامات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ خاندانوں کو کس حد تک نشانہ بنایا جارہا ہے اور انہیں نفسیاتی اذیت دی جارہی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ بی وائی سی کی سرگرم رکن فوزیہ بلوچ کو بھی مسلسل نشانہ بنایا جارہا ہے، فوزیہ بلوچ کے بھائی، لکھاری داد شاہ کو 21 اپریل 2026 کو ریاستی اداروں نے ان کے گھر سے حراست میں لے کر لاپتہ کردیا۔
ماہ رنگ بلوچ نے کہا بعد ازاں جب فوزیہ بلوچ نے اپنے بھائی کی بازیابی کے لیے آواز بلند کی تو انہیں اور ان کے خاندان کو گھسیٹ کر حراست میں لیا گیا اور بعد میں رہا کردیا گیا۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں پرامن کارکنوں کو لاپتہ کرنا، دن دہاڑے قتل کرنا اور بی وائی سی اراکین کے خاندانوں کو ہراساں کرنا اس خطے کی سنگین صورتحال کو بے نقاب کرتا ہے۔
ان کے بقول بلوچستان میں پرامن سیاسی سرگرمیوں کو جرم بنایا جارہا ہے جبکہ ذمہ دار عناصر بغیر کسی احتساب کے کام کررہے ہیں۔
بی وائی سی رہنماء نے کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی ایک پرامن تنظیم تھی، ہے اور رہے گی جو بلوچستان میں جبر، جبری گمشدگیوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف پرامن جدوجہد جاری رکھے گی۔
اپنے بیان کے اختتام پر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے عالمی انسانی حقوق تنظیموں اور بین الاقوامی اداروں سے اپیل کی کہ وہ بلوچستان کی صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لیں اور پرامن کارکنوں کو نشانہ بنانے اور انسانی حقوق کی جاری خلاف ورزیوں پر پاکستان کو جوابدہ ٹھہرائیں۔



















































