مظلوم کی پکار اور امت کی خاموشی – حافظ سعد بلوچ

1

مظلوم کی پکار اور امت کی خاموشی

تحریر: حافظ سعد بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

تاریخِ اسلام کا مطالعہ کیا جائے تو اس کے صفحات ایسے بے شمار واقعات سے روشن نظر آتے ہیں جن میں مسلمانوں نے مظلوموں کی فریاد پر لبیک کہا، خواہ وہ مظلوم مسلمان ہو یا غیر مسلم۔ اسلام نے ظلم کے خلاف کھڑا ہونے اور مظلوم کی مدد کرنے کو انسانی اور دینی فریضہ قرار دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی تاریخ صرف فتوحات کی داستان نہیں بلکہ عدل، انصاف اور مظلوموں کی حمایت کی تاریخ بھی ہے۔

محمد بن قاسمؒ کی سندھ آمد کو ہی دیکھ لیجئے۔ روایت کے مطابق ایک مظلوم عورت کی فریاد نے اسلامی ریاست کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔ اس کی عزت و حرمت کے تحفظ کے لیے لشکر روانہ ہوا اور سندھ کی سرزمین اسلام کے عدل سے روشناس ہوئی۔ اسی طرح خلیفہ معتصم باللہ کے دور کا مشہور واقعہ تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہے کہ جب ایک مسلمان خاتون نے “وا معتصماہ” کی صدا بلند کی تو بغداد کے ایوانِ خلافت میں بیٹھا حکمران بے چین ہو گیا۔ اس نے اپنی ذمہ داری محسوس کی اور عموریہ تک لشکر کشی کرکے مظلوم کی فریاد کا جواب دیا۔

اندلس کی فتح کے پس منظر میں بھی مظلوموں کی داد رسی کا جذبہ کارفرما تھا۔ وہاں کے کمزور اور پسے ہوئے طبقات ظلم و جبر سے نجات چاہتے تھے۔ طارق بن زیادؒ کی قیادت میں آنے والی قوت نے صرف زمینیں فتح نہیں کیں بلکہ عدل اور انصاف کا ایک نیا باب رقم کیا۔

یہ وہ تاریخ ہے جس پر مسلمان فخر کرتے ہیں۔ یہ وہ کردار ہے جس نے اسلام کو صرف ایک مذہب نہیں بلکہ انسانیت کے لیے رحمت کے طور پر متعارف کرایا۔

لیکن آج جب ہم اپنے گرد و پیش کا جائزہ لیتے ہیں جو ایک دردناک تصویر جو ہمارے سامنے سے گزر رہی ہے تو ایک دردناک سوال ذہن میں ابھرتا ہے: کیا مظلوم کی فریاد اب اپنی تاثیر کھو چکی ہے؟ کیا ظلم کے خلاف آواز اٹھانا اب ہماری ترجیحات میں شامل نہیں رہا؟ جب کہیں کسی قوم پر ظلم ہو، جب بے گناہ جانیں ضائع ہوں، جب عزتیں پامال ہوں اور بنیادی حقوق سلب کیے جائیں تو کیا اہلِ علم، اہلِ فکر اور امت کے ذمہ دار طبقات کی کوئی ذمہ داری نہیں بنتی؟

علماء کرام انبیاء کے وارث ہیں۔ ان کا منصب صرف عبادات کے مسائل بیان کرنا نہیں بلکہ ظلم کے خلاف کلمہ حق بلند کرنا بھی ہے۔ تاریخ میں بڑے بڑے علماء نے حکمرانوں کے سامنے حق بات کہی، قید و بند برداشت کی مگر ظلم پر خاموشی اختیار نہیں کی۔ اسی جراتِ اظہار نے انہیں امت کے دلوں میں زندہ رکھا۔

اور اسی طرح بلوچ روایت میں سردار اور نواب صرف ایک منصب یا لقب کا نام نہیں تھا بلکہ وہ اپنی قوم کی عزت، ناموس اور روایات کے محافظ سمجھے جاتے تھے۔ اگر آج عورتوں کی بے حرمتی کے مناظر سامنے آئیں اور اس پر مؤثر آواز بلند نہ ہو تو یہ سوال فطری طور پر جنم لیتا ہے کہ کیا یہ القابات اپنی اصل روح برقرار رکھے ہوئے ہیں یا محض تاریخ کے صفحات میں باقی رہ گئے ہیں؟

تاریخ گواہ ہے کہ قومیں صرف زمین اور وسائل سے زندہ نہیں رہتیں بلکہ اپنی اقدار روایات اور اصولوں سے زندہ رہتی ہیں۔ جب اقدار کمزور پڑ جائیں تو محلات، خطابات اور طاقت کے مظاہر بھی معاشروں کو اخلاقی زوال سے نہیں بچا سکتے۔ بلوچستان کی اصل طاقت اس کے پہاڑ نہیں بلکہ اس کی روایات، اس کی غیرت اور اس کے لوگوں کا اجتماعی وقار ہے۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اختلافات، سیاسی وابستگیوں اور گروہی تعصبات سے بالاتر ہو کر ہر مظلوم کے لیے انصاف کی آواز بلند کی جائے۔ اسلام کا پیغام یہی ہے کہ ظالم کا ہاتھ روکا جائے اور مظلوم کا ساتھ دیا جائے۔ خاموشی اگر ظلم کو تقویت دے تو وہ محض خاموشی نہیں بلکہ ایک سنگین اخلاقی سوال بن جاتی ہے۔

تاریخ ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ قومیں سر جھکانے سے نہیں بلکہ عدل، حق گوئی اور مظلوموں کے حق میں آواز بلند کرنے سے زندہ رہتی ہیں۔ جب تک امت اپنے اس تاریخی اور اخلاقی کردار کو دوبارہ زندہ نہیں کرتی، تب تک مظلوموں کی آہیں اور خاموش فریادیں ہمارے اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑتی رہیں گی۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔