کُنٹانی ھور میں مزدوروں کا قتلِ عام ظلم، بربریت اور بلوچ نسل کشی کا تسلسل ہے۔حق دو تحریک

1

حق دو تحریک بلوچستان کے مرکزی آفس سے جاری ایک بیان میں کُنٹانی ھور، جیونی میں کوسٹ گارڈ کی فائرنگ سے متعدد مزدوروں کی ہلاکت اور زخمی ہونے کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بلوچستان میں اب محنت مزدوری کرنا بھی گویا قابلِ قتل جرم بن چکا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ ریاستی ادارے اس حد تک سفاک، بے حس اور بے لگام ہو چکے ہیں کہ جب چاہیں، جسے چاہیں اور جتنے چاہیں گولیاں مار دیں۔ نہ انہیں کوئی پوچھنے والا ہے اور نہ ہی کوئی آئین و قانون انہیں روکنے والا ہے۔ یہ ظلم، بربریت اور بلوچ نسل کشی کا تسلسل ہے، جہاں اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے محنت مزدوری کرنے والے غریب مزدوروں کو گولیوں سے چھلنی کرکے گھروں کے چراغ بجھا دیے جاتے ہیں۔

مرکزی آفس کے بیان میں کہا گیا کہ بلوچستان میں نفرت، بے چینی اور ردِعمل کی سب سے بڑی وجہ یہی ریاستی ادارے اور ان کے ظالم اہلکار ہیں، جو بلوچوں کو انسان تو کیا، جانور بھی نہیں سمجھتے اور ان کا خون بہانا اپنا حق تصور کرتے ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ جیونی اور کُنٹانی ھور کے اس افسوسناک واقعے نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ بلوچستان کے عوام کی جان و مال کسی بھی سطح پر محفوظ نہیں، اور ریاستی طاقت کا استعمال نہتے مزدوروں کے خلاف کیا جا رہا ہے۔

حق دو تحریک بلوچستان نے مطالبہ کیا کہ فائرنگ میں ملوث اہلکاروں اور ان کے ذمہ دار افسران کے خلاف فوری طور پر قتل کا مقدمہ درج کرکے انہیں نہ صرف ملازمت سے برطرف کیا جائے بلکہ قرار واقعی سزا بھی دی جائے۔ ساتھ ہی شہداء کے لواحقین کو انصاف اور زخمیوں کو فوری علاج اور معاوضہ فراہم کیا جائے۔