کوئٹہ: بی ایم سی طالبہ خدیجہ بلوچ کی جبری گمشدگی کے خلاف دھرنا جاری، بی وائی سی رہنماؤں کی مذمت

4

بولان میڈیکل کالج ہاسٹل سے طالبہ خدیجہ بلوچ کی جبری گمشدگی کے خلاف احتجاجی ریلی اور گولی مار چوک پر دھرنا۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ یہ دھرنا بلوچ خواتین پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف ایک مزاحمت ہے۔ ریاست بلوچ خواتین کو ان کے شعور کی وجہ سے اجتماعی سزا دے رہی ہے۔ بلوچ خواتین نہ گھروں میں محفوظ ہیں اور نہ ہی تعلیمی اداروں میں۔ جو بھی ان مظالم کے خلاف آواز بلند کرتا ہے، اسے خاموش کرانے کے لیے جیلوں میں ڈالا جاتا ہے۔ یہ ظلم بلوچ قوم کو کمزور کرنے کے بجائے مزید مضبوط کرے گا۔

مظاہرین نے کہا کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اور اب مردوں کے بعد خواتین کو بھی کھلے عام حراست میں لے کر لاپتہ کیا جا رہا ہے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ایک باقاعدہ انسانی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہیں۔ حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ انسانی جان کی حرمت عملاً ختم ہوتی دکھائی دیتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2026 کے ابتدائی چار ماہ مکمل ہونے سے پہلے ہی 70 سے زائد افراد “کل اینڈ ڈمپ” پالیسی کا نشانہ بن چکے ہیں، جنہیں جبری گمشدگی کے بعد یا ماورائے عدالت قتل کیا گیا۔ اس کے علاوہ سینکڑوں افراد اب بھی جبری گمشدگی کا شکار ہیں، جن میں خواتین بھی شامل ہیں۔

ڈاکٹر صبیحہ بلوچ کے مطابق، گزشتہ رات بولان میڈیکل کالج کے گرلز ہاسٹل سے طالبہ خدیجہ بنت پیر بخش کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔ ان کی گمشدگی کے خلاف بی ایم سی کے سامنے طلبہ کا پُرامن احتجاج جاری ہے۔ مظاہرین کو دباؤ اور ہراسانی کا سامنا ہے، اور خدشہ ہے کہ پولیس تشدد کے ذریعے اس پرامن احتجاج کو سبوتاژ کر سکتی ہے۔ یہ صورتحال آئین اور قانون کی بالادستی کے ساتھ ساتھ بنیادی انسانی حقوق کی بھی سنگین خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کوئٹہ کے باشعور شہری، سول سوسائٹی اور طلبہ اس دھرنے میں شامل ہو کر اپنی آواز بلند کریں۔ ساتھ ہی قومی و بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس جبر کے خلاف مؤثر کردار ادا کریں اور تمام متاثرین کی بازیابی کو یقینی بنائیں۔

بی وائی سی کی رہنما سمی دین بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیاں اور ماورائے عدالت قتل ایک معمول بن چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب خواتین بھی اس جبر کا براہِ راست نشانہ بن رہی ہیں، اور سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ خواتین کی گمشدگی جیسے سنگین مسئلے کو بھی معمول بنایا جا رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ رات کوئٹہ میں سیکیورٹی فورسز نے بولان میڈیکل کالج کے گرلز ہاسٹل پر چھاپہ مار کر طالبہ خدیجہ بلوچ کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔ تاحال ان کے بارے میں کوئی معلومات سامنے نہیں آ سکیں۔

سمی دین بلوچ کے مطابق، چند روز قبل آواران سے تعلق رکھنے والی حسینہ بلوچ، جو کراچی کے علاقے نیول میں مقیم تھیں، کو بھی حراست میں لے کر لاپتہ کیا گیا، اور ان کے بارے میں بھی تاحال کوئی اطلاع نہیں ملی۔

انہوں نے کہا کہ جبری گمشدگیاں دنیا بھر میں ایک سنگین اور غیر قانونی عمل تصور کی جاتی ہیں، مگر بلوچستان میں یہ ایک منظم پالیسی کی صورت اختیار کر چکی ہیں۔

سمی دین بلوچ نے اپیل کی کہ خدیجہ بلوچ کی بازیابی کے لیے بی ایم سی کے سامنے جاری دھرنے میں زیادہ سے زیادہ لوگ شریک ہوں اور ان کی آواز بنیں۔