وی بی ایم پی کا کیمپ 6143 ویں روز میں داخل،خدیجہ بلوچ کی جبری گمشدگی کی شدید مذمت

1

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیر اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ 6143ویں روز بھی جاری رہا۔

اس موقع پر نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے مرکزی آرگنائزر ایڈوکیٹ شاہ زیب بلوچ اور ولید بلوچ سمیت مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے احتجاجی کیمپ کا دورہ کیا۔ انہوں نے جبری گمشدگیوں کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا اور لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہارِ یکجہتی کیا۔

وفد نے جبری گمشدگیوں اور لاپتہ افراد کے مبینہ ماورائے عدالت قتل پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے ماورائے آئین و قانون اقدامات شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے جن کا فوری خاتمہ کیا جائے اور تمام لاپتہ افراد کو بازیاب کرایا جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جن افراد پر کوئی الزام ہے، انہیں منظرِ عام پر لا کر عدالتوں میں پیش کیا جائے تاکہ ان کے اہلِ خانہ کو مسلسل اذیت سے نجات مل سکے۔

وی بی ایم پی کے رہنما نصراللہ بلوچ نے کہا کہ تنظیم کے پلیٹ فارم سے جاری پرامن اور آئینی جدوجہد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک تمام لاپتہ افراد بازیاب نہیں ہو جاتے اور جبری گمشدگیوں و ماورائے آئین اقدامات کا خاتمہ یقینی نہیں بنایا جاتا۔

انہوں نے سیاسی جماعتوں، طلبہ تنظیموں اور تمام مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد سے اپیل کی کہ وہ اس جدوجہد میں وی بی ایم پی کا ساتھ دیں اور لاپتہ افراد کی بازیابی کو یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

دوسری جانب وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) نے خدیجہ بلوچ کی جبری گمشدگی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری اور بحفاظت رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خدیجہ بلوچ، دختر پیر جان، بی ایس نرسنگ کے ساتویں سمسٹر کی طالبہ ہیں اور ضلع کیچ کے علاقے ہیرونک کی رہائشی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق انہیں رات کے وقت سیکورٹی فورسز نے بولان میڈیکل کالج، کوئٹہ کے ہاسٹل سے حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔ تاحال نہ ان کی گرفتاری کی وجوہات بتائی گئی ہیں اور نہ ہی ان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا جاری سلسلہ نہایت تشویشناک اور ناقابلِ قبول ہے۔ اس طرح کے اقدامات بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہیں اور متاثرہ افراد کو تشدد اور دیگر زیادتیوں کے شدید خطرات سے دوچار کرتے ہیں۔

وی بی ایم پی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ جبری گمشدگیوں کے مکمل سدباب کے لیے فوری اور عملی اقدامات کیے جائیں اور خدیجہ بلوچ سمیت تمام لاپتہ افراد کی بازیابی یقینی بنائی جائے۔ اگر ان پر کوئی الزام ہے تو انہیں عدالتوں میں پیش کرکے ملکی قوانین کے مطابق قانونی چارہ جوئی کا حق دیا جائے۔