جنگ کے سوداگر: امن کےاصل دشمن
تحریر: رفیع اللہ کاکڑ
دی بلوچستان پوسٹ
بلوچستان کے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے حال ہی میں صوبے کے پی ایچ ڈی اسکالرز کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے انہیں “بی ایل اے سے زیادہ خطرناک” قرار دیا۔ بگٹی صاحب کے نزدیک اس تعلیم یافتہ طبقے کا قصور یہ ہے کہ وہ سیاسی کارکنوں کے خلاف طاقت کے بے دریغ استعمال کی حمایت نہیں کرتے اور صاف شفاف الیکشن کا مطالبہ کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ سفارشات حکومت پاکستان کے اپنے نیشنل ایکشن پلان اور نیشنل داخلی سیکورٹی پالیسی کا حصہ ہیں۔ بگٹی صاحب کے اس بیان کو سیاسی فرسٹریشن اور توجیہ بازی سمجھ کر نظرانداز کرنا چاہئے، مگر یہ غور و فکر کا تقاضا بھی کرتا ہے ۔ اس لیے نہیں کہ یہ الزام ذرا بھی درست ہے، بلکہ اس لیے کہ یہ اُس حکمران طبقے کی سوچ کو بے نقاب کرتا ہے جس کا گہرا مفاد بلوچستان کے تنازعے کو زندہ رکھنے میں مضمر ہے۔ اس سوچ کو سیاست کے علمی ادب میں ایک مخصوص نام سے جانا جاتا ہے: “جنگ کی سوداگری” (Conflict Entrepreneurship)۔
جب جنگ کاروبار بن جائے
دنیا بھر میں مسلح قومی اور علاقائی شورشوں پر ہونے والی تحقیق ایک تکلیف دہ حقیقت کو آشکار کرتاہے: قومی و علاقائی بغاوتیں اکثر اس لیے نہیں طول پکڑتیں کہ شکایات ناقابلِ حل ہیں ۔ بلکہ اس لیے کہ دونوں طرف کے بعض اہم کردار اس تشدد کے جاری رہنے سے مستفید ہوتے ہیں۔ یہ “جنگ کے سوداگر” دولت، اقتدار اور سیاسی اہمیت اسی لیے سمیٹتے ہیں کیونکہ تنازعہ حل نہیں ہوتا۔ ان کے لیے امن کوئی منزل نہیں بلکہ ان کے مراعات اور اقتدار کے لیے ایک خطرہ ہے۔
قومی تحریکیں اور شورشیں عموماً حقیقی ناانصافیوں ( سیاسی محرومی، معاشی استحصال، ثقافتی تذلیل) سے جنم لیتے ہیں۔ مگر جونہی آگ بھڑکتی ہے، یہ مسلح شورشیں ایسے حالات کو جنم دیتے ہیں جس کا فائدہ اور لوگ لیتے ہیں۔ دونوں اطراف سے موقع پرست میدان میں اترتے ہیں: وہ اپنے سیاسی اور اقتصادی مفادات کو نظریے اور قومی مقصد کا لباس پہناتے ہیں، اور بتدریج اپنی ذاتی منفعت کو اس مقصد کا ہم معنی بنا دیتے ہیں جس کی وہ نمائندگی کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ان حالات میں اعتدال پسند ، جو ان شورشوں کا واقعی سیاسی حل چاہتے ہیں، سیاسی طور پر کنارے لگا دیے جاتے ہیں۔ تشدد کی منطق اپنے نگہبان خود پیدا کر لیتی ہے۔
بلوچستان کا مصنوعی سیاسی طبقہ
بلوچستان کا موجودہ تنازعہ اس نمونے پر پوری طرح اترتا ہے۔ صوبے کی شکایات کی تاریخی جڑیں مرکزیت پسند حکمرانی، منظم مالی محرومی، قدرتی وسائل کے یک طرفہ استحصال اور سیاسی اختلاف کو فوجی طاقت سے دبانے میں پیوست ہیں۔ ریاست نے وقتاً فوقتاً ان حقائق کو تسلیم کیا، اٹھارہویں آئینی ترمیم اور ساتواں قومی مالیاتی ایوارڈ اسی تسلیم کا اظہار تھے۔ مگر تنازعہ حل نہیں ہوا۔ اس کی بنیادی وجہ ریاستی اپروچ میں ہے۔
اسلام آباد نے دہائیوں سے بلوچستان میں مصنوعی قیادت پروان چڑھائی اور فرمانبردار حکومتیں نصب کیں۔ اسلام آباد نے یہ سب مؤثر حکمرانی کے لیے نہیں، بلکہ بلوچ اور پشتون قوم پرستی کو دبانے اور اسلام آباد کو یہ یقین دلانے کے لیے کہ سب کچھ قابوِ میں ہے۔ روایتی طور پر قبائلی سردار اور مذہبی شخصیات بلوچستان میں ریاستی پارٹنر رہے ہیں۔ سینڈیمن دور سے چلی آنے والی یہ ریاست-سردار اتحاد پاکستان بننے کے بعد جاری رہا اور اس میں مولویوں کا اضافہ ہوا۔گزشتہ دو دہائیوں میں اس ریاست-سردار-مولوی اتحاد کو بلوچستان کے حالات قابو کرنے میں مشکلات درپیش آئی۔
ان دو دہائیوں میں بڑھتی ہوئی شہری آبادی، اعلیٰ تعلیم کے پھیلاؤ اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے بلوچستان کے معاشرے کو بنیادی طور پر بدل دیا ہے۔ ان تبدیلیوں نے ایک ایسی تعلیم یافتہ اور ڈیجیٹلی باشعور نوجوان نسل پیدا کی ہے جسے نہ آسانی سے خریدا جا سکتا ہے اور نہ خاموش کیا جا سکتا ہے ۔اسی نسل نے جہاں پاکستان پراپر میں تحریک انصاف جیسی جماعتوں کے لئے راہ ہموار کی ہے وہیں پاکستان کی پیرفری (periphery) میں پی ٹی ایم ، کشمیر جوائینٹ عوامی ایکشن کمیٹی، گلگت نوجوان تحریک اور بلوچ یکجہتی کمیٹی جیسی غیر مسلح تحریکوں کو تقویت دی۔ ان سماجی اور ٹیکنالوجیکل تبدیلیوں کے ہوتے ہوئے ریاست کے روایتی پارٹنر، سردار، مولوی، قبائلی معتبر، وہ سماجی کنٹرول فراہم کرنے سے قاصر ہو گئے جو اسلام آباد کو درکار تھا۔ لہذا ریاست کو نئے چہروں کی تلاش شروع ہوئی۔
اس دوران دو گروہ آگے بڑھے۔ پہلا، نیا تاجر طبقہ جس میں ٹھیکیدار اور اسمگلر نمایاں رہیں۔ خاص طور پر ٹھیکیداروں نے سرکاری ٹھیکوں سے دولت اکٹھی کی اور اسے سیاسی جگہ بنانے کے لئے استعمال کیا۔ یہ خود کو پرانے سرداروں کے قابلِ قبول متبادل کے طور پر فوجی قیادت کے سامنے پیش کرنے لگا۔ دوسرا، بظاہر تعلیم یافتہ متوسط طبقے کا ایک چھوٹا سا حلقہ سامنے آیا۔ جس نے بلوچستان کی بے چین نوجوان نسل کے ساتھ بامعنی رابطے کی صلاحیت کا دعویٰ ریاست کو بیچا۔ ان کا دعویٰ یہ بھی تھا کہ وہ سرداروں سے بہتر پیامبر جو ریاستی بیانیہ نئی نسل تک پہنچا سکتے ہیں۔
ریاست کے لئے دونوں گروہوں کی کشش ان کی قابلیت میں نہیں بلکہ ان کی مطلق اطاعت میں تھی۔ انہوں نے اسلام آباد کو وہی سنایا جو وہ سننا چاہتا تھا: کہ حالات بہتر ہو رہے ہیں، تازہ اقدامات کارگر ہیں، بلوچستان قابو میں ہے۔ انہوں نے بلاتامل طاقت کے استعمال کی حمایت کی، صوبے میں اسٹیبلشمنٹ کی سیاسی اور معاشی گرفت مضبوط کرنے میں ہاتھ بٹایا، اور جب بھی کوئی قومی سیاسی بحران آیا، آلہ کار کے طور پر دستیاب رہے۔ ان خدمات کے عوض انہیں تحفظ، اقتدار، سرپرستی اور احتساب سے مکمل استثنیٰ ملا۔
وقت گزرنے کے ساتھ اس طبقے نے بلوچستان میں مسلح شورش کے خاتمے کے بجائے اس کے تسلسل میں اپنا بنیادی مفاد دیکھا۔ انہیں یہ ادراک ہو گیا کہ اسلام آباد اور کوئٹہ کے اقتدار کے ایوانوں تک خصوصی رسائی، ریاستی سرپرستی اور غیر معمولی مراعات اسی وقت تک برقرار رہ سکتی ہیں جب تک بلوچستان میں شورش ایک مستقل مسئلہ کے طور پر موجود رہے، ایسا مسئلہ جس کے “انتظام” اور “حل” کے لیے ان کی خدمات ناگزیر سمجھی جاتی رہیں۔
اسی منطق کے تحت انہوں نے مختلف ادوار میں ریاست سے مراعات اور وسائل حاصل کرنے کے نت نئے جواز تراشے۔ کبھی “امن فورسز” کے قیام کے نام پر، کبھی “مسلح سرمچاروں کو پہاڑوں سے واپس لانے کے” دعووں کے ذریعے، اور کبھی صوبائی محرومیوں اور حقوق کی سیاست کے مقابلے میں ایک نام نہاد “مثبت بیانیہ” تشکیل دینے کے عنوان سے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ان میں سے اکثر عناصر اپنی سیاسی قوت کے بل بوتے پر یونین کونسل کی سطح کا انتخاب جیتنے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتے تھے، مگر اس کے باوجود انہیں اہم سرکاری عہدوں، سیاسی مناصب اور مختلف مراعات سے مسلسل نوازا جاتا رہا۔
یہ مراعات اور اختیارات اس قدر پرکشش تھے کہ ان کے تحفظ کے لیے یہ جنگی سوداگر ہر حد تک جانے پر آمادہ ہو گئے۔ انہوں نے بخوبی سمجھ لیا تھا کہ ایک پُرامن بلوچستان، جہاں جلاوطن سیاسی رہنما واپس آ جائیں، مسلح مزاحمت سے وابستہ عناصر سیاسی عمل کا حصہ بن جائیں، اور سول سوسائٹی آزادانہ طور پر اپنا کردار ادا کر سکے، ان کی سیاسی افادیت کو ختم کر دے گا۔ ایسے بلوچستان میں نہ ان کی سہولت کاری کی ضرورت باقی رہتی اور نہ ہی ان مراعات کا جواز جن پر ان کی سیاست اور معاشی مفادات کی عمارت کھڑی تھی۔ چنانچہ شورش کا خاتمہ ان کے لیے امن کا نہیں بلکہ اپنے اثر و رسوخ اور مفادات کے خاتمے کا مترادف تھا۔
یہ طرزِ حکمرانی موجودہ صوبائی حکومت کے متعدد اہم فیصلوں میں واضح طور پر جھلکتا ہے۔ مثال کے طور پر، قدرتی گیس کی ملکیت اور وسائل پر صوبائی حقوق کے معاملے میں بلوچستان، سندھ اور خیبر پختونخوا طویل عرصے سے وفاق کے ساتھ مختلف قانونی اور آئینی تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ تاہم، وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی کی حکومت نے سوئی گیس فیلڈ میں پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ (PPL) کے لیز میں غیر آئینی توسیع کر کے پچھلے پانچ دہائیوں کی صوبائی خودمختاری کی جدوجہد پر پانی پھیر دیا۔ اس فیصلے کے تحت نہ صرف لیز کی مدت میں توسیع کی گئی بلکہ وفاق کی جانب سے گزشتہ برسوں میں دی گئی متنازع توسیعات کو بھی پسِ منظر میں قانونی جواز فراہم کیا گیا۔ یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے کے دوران بلوچستان کی مختلف منتخب حکومتیں اس معاملے پر مسلسل تحفظات اور مخالفت کا اظہار کرتی رہی تھیں۔
اسی طرح، حکومت کے دور میں وسیع رقبوں پر مشتمل اراضی وفاقی اداروں اور نجی کمپنیوں کے حوالے کیے جانے کے فیصلوں نے بھی مقامی آبادیوں اور قبائلی برادریوں میں بے چینی کو جنم دیا ہے۔ ناقدین کے مطابق، ان فیصلوں میں مقامی آبادیوں کی مشاورت، ملکیتی حقوق اور طویل المدتی مفادات کو مطلوبہ اہمیت نہیں دی گئی۔
مزید برآں، اقتدار سنبھالنے کے بعد سے بگٹی انتظامیہ نے سیاسی اختلاف اور عوامی احتجاج سے نمٹنے کے لیے بنیادی طور پر اندھا دھند طاقت کے استعمال پر انحصار کیا ہے۔ غیر مسلح بلوچ یکجہتی کمیٹی کو کچلا گیا اور اس کی قیادت قید کی گئی، جبری گمشدگیاں بڑھی ہیں، جامعات کی سرویلنس بڑھ گئی ہے، شاعروں اور دانشوروں کو ہراساں کیا گیا اور نشانہ بنایا گیا، اور نوآبادیاتی دور کے اجتماعی سزا کے قوانین دوبارہ نافذ کیے گئے ہیں۔ ان تمام غیر انسانی حربوں کے باوجود مسلح بغاوت کمزور نہیں پڑی۔ بلکہ ہر قابلِ اعتبار اشارے کے مطابق یہ مزید مضبوط ہوئی ہے۔
اس ناکامی کا سامنا کرنے اور راستہ بدلنے کے بجائے، بگٹی انتظامیہ طاقت اور ظلم کے دائرہ کار کو مزید آگے بڑھانے پر مصر ہیں۔ اب پی ایچ ڈی اسکالروں اور دانشوروں کو ریاست کا دشمن قرار دیا جا رہا ہے ۔ان کا جرم یہ ہے کہ وہ ایک بنیادی طور پر سیاسی بحران کے سیاسی حل کی بجائے فوجی طاقت سے نمٹنے پر سوال اٹھاتے ہیں۔
جبری اقدامات کی وکالت کے علاوہ، یہ جنگی سوداگر مصالحتی کوششوں کو بھی سبوتاژ کرتے رہے ہیں اور اکثر کامیابی سے۔ سب سے واضح مثال 2015ء کی وہ پہل ہے جو وزیراعلیٰ ڈاکٹر مالک بلوچ نے اس وقت کے سول و فوجی قیادت کی حمایت کے ساتھ کی۔ وہ جلاوطن بلوچ رہنماؤں کو مذاکرات کی میز تک لانے کے اب تک کے سب سے قریب پہنچے تھے۔ انکی کوششوں کو ناکام بنا دیا گیا۔ مذاکرات کو ناکام کرنے میں مرکزی کردار اس مصنوعی قیادت نے ادا کیا جن کو اس پیش رفت سے سب سے زیادہ نقصان ہوتا، انہوں نے اسے ناکام بنانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ مذاکرات ٹوٹ گئے، اور ان کے ساتھ بلوچستان کے لیے امن کا وہ موقع بھی ضائع ہو گیا جو شاید نسلوں میں ایک بار آتا ہے۔
اب یہ جنگی سوداگر ریاست کی اپنی منطق کے اعتبار سے بھی بوجھ بن چکے ہیں۔ وہ بھاری سکیورٹی کے بغیر اپنے حلقوں میں قدم نہیں رکھ سکتے۔ ان کے سوشل میڈیا بیانیے، جو ریاستی وسائل سے فیاضی کے ساتھ چلائے جاتے ہیں، کوئی اثر نہیں چھوڑتے، کیونکہ جن لوگوں کو قائل کرنا مقصود ہے وہ انہیں کب کا پہچان چکے ہیں۔ عام بلوچستانی شہری جانتے ہیں کہ ان مصنوعی لوگوں کون پال رہا ہے، اور اسی لیے ان کے ہاتھوں ہونے والے جرائم اور بدعنوانی کی ذمہ داری وہ سیدھی ریاست پر عائد کرتے ہیں۔ یہ بیانیہ سازی کا منصوبہ، جو ان کی سیاسی ضرورت کا واحد جواز ہے ، اپنی ہی شرائط پر ناکام ہو چکا ہے۔
صوبے میں حکمرانی عملاً تحلیل ہو چکی ہے۔ صوبے کے وسیع علاقے سرکاری حکام اور عوام دونوں کے لیے ممنوعہ زونز بن گئے ہیں۔ موجودہ انتظامیہ بلوچستان کی حالیہ تاریخ کی بدترین حکومتوں میں شمار ہوتی ہے۔ بدعنوانی ڈھٹائی سے جاری ہے، سرکاری محکمے تنزلی کا شکار ہیں، سینئیر صوبائی بیوروکریسی کی بڑی اکثریت کو کھڈے لائن لگا دیا گیا اور جو ڈی سی اور کمشنر طاقت کے اندھا دھند استعمال میں ہچکچاہٹ دکھائے ان کو او ایس ڈی بنا دیا جاتا ہے۔ جبکہ ترقیاتی فنڈز بدستور کرپشن اور سیاسی وفاداریاں خریدنے کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں۔
اس بری طرز حکمرانی کی وجہ یہ ہے کہ جس سیاسی طبقے کو ووٹ جیتنے کی ضرورت نہیں، اسے گورننس کی بھی فکر نہیں رہتی۔ بری حکمرانی اور نہ ختم ہونے والا جنگ اس ماڈل کی ناکامی نہیں بلکہ یہی اس ماڈل کا مقصد ہے۔
پاکستان بلوچستان کو اس لیے نہیں کھو رہا کہ یہ تنازعہ حل ناپذیر ہے ۔ بلکہ اس لیے کہ جن لوگوں کو اسے سنبھالنے کی ذمہ داری دی گئی ہے، ان کا مفاد مسلح شورش کے حل میں نہیں بلکہ اس کے بقا میں ہے۔ جنگ جاری رہے گا تو جنگی سوداگروں کی اسلام آباد اور پنڈی کے لئے اہمیت برقرار رہے گی۔
آگے بڑھنے کا راستہ یہ ہے کہ جنگی سوداگروں کی جگہ ایسی قیادت کے لئے راہ ہموار کی جائے جو بلوچستان کے عوام کو جوابدہ ہو۔ پی ایچ ڈی اسکالر بلوچستان کے لیے خطرہ نہیں ہیں۔ خطرہ وہ حکمران اشرافیہ ہے جو اس جنگ کو سلگتا رکھنے میں اپنا مفاد دیکھتی ہے۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































