بلوچستان اور کراچی سے مزید دو افراد کے جبری گمشدگی کا شکار ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جبکہ دوسری جانب جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کا احتجاجی کیمپ کوئٹہ میں 6186ویں روز بھی جاری رہا۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق 41 سالہ جمال ولد جلال، جو کراچی کے علاقے گٹر باغیچہ، پرانا گولیمار کے رہائشی ہیں، کو 28 مئی 2026 کی رات تقریباً 2:30 بجے حب چوکی کے مقام پر واقع رمضان ہوٹل سے ایف سی، ملٹری انٹیلی جنس (MI) اور پولیس اہلکاروں نے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔
اسی طرح ضلع کیچ کے علاقے جوسک، تربت کے رہائشی اکرام ولد شبیر، عمر 25 سال، کو 24 مئی 2026 کو شام کے اوقات میں تربت کے مرکزی بازار سے ملٹری انٹیلی جنس (MI) کے اہلکاروں نے حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کر دیا۔
دریں اثنا، کوئٹہ پریس کلب کے سامنے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیرِ اہتمام قائم احتجاجی کیمپ تنظیم کے رہنما نیاز محمد کی قیادت میں 6186ویں روز بھی جاری رہا۔ مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد اور وفود نے کیمپ کا دورہ کیا اور جبری گمشدگیوں کے خلاف جاری جدوجہد سے اظہارِ یکجہتی کیا۔
شرکاء نے کہا کہ لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ برسوں سے ذہنی اذیت اور بے یقینی کا شکار ہیں، جبکہ جبری گمشدگیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام جبری لاپتہ افراد کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے اور اس عمل کا خاتمہ کیا جائے۔
اس موقع پر وی بی ایم پی کے ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن نیاز محمد نے کہا کہ جبری گمشدگیاں ایک سنگین انسانی حقوق کا مسئلہ ہیں جس کے حل کے لیے فوری اور سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ تمام لاپتہ افراد کی باحفاظت بازیابی کو یقینی بنایا جائے اور متاثرہ خاندانوں کی بے چینی کا خاتمہ کیا جائے


















































