بلوچستان کا امر جنگجو یاگی بلوچ – نوتک بلوچ

10

بلوچستان کا امر جنگجو یاگی بلوچ

تحریر: نوتک بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

جب عشقِ زمین نے عاشقوں کے دلوں کو مست و لبریز کر دیا، جب وطن کی محبت کی آگ ہر رگ و ریشے میں دوڑنے لگی، تو استعماریت کو مردہ باد کہتے ہوئے قابض قوتوں کو للکارنے کے لیے عاشقوں کی ایک مقدس ٹولی ایک ہو گئی۔ ان کی آنکھوں میں آزادی کا وہ جوش تھا جو رات کے گہرے اندھیرے کو چیر کر روشنی پھیلا دیتا تھا‐ جیسے کوئی ستارہ آسمان کی گہرائیوں سے اتر کر زمین پر اتر آیا ہو۔

اُدھر وہ بہادر عاشقوں کی ٹولی کھڑی تھی: عشقِ زمین اور استعمار کے خلاف پرجوش، حوصلے سے لبریز، اور جہدِ مسلسل میں ڈوبی ہوئی۔ وہ استعماری قوتوں کو اپنی مقدس سرزمین سے بے دخل کرنے کی بلند امنگوں اور لازوال عزم کے ساتھ آگے بڑھ رہے تھے۔ تمام سختیاں، مصائب اور اذیتیں برداشت کرتے ہوئے، ہر قربانی دینے کو تیار تھے۔ ان کے سینوں میں وطن کی محبت کا طوفان تھا، آنکھوں میں شہادت کا نور، اور قدموں میں آزادی کا وہ عزم جو پہاڑوں کو بھی ہلا سکتا تھا۔

ان فرزندان وطن میں ایک یوسف جان عرف یاگی بلوچ بھی تھا۔ ایک تندرست جسم و دماغ والا، نڈر اور بے باک نوجوان، جو راہِ حق پر اپنے ساتھیوں کا حوصلہ، سہارا اور طاقت بنا ہوا تھا۔ اس کی آنکھوں میں آزادی کا خواب ایسا جگمگا رہا تھا کہ صدیوں سے نابینا شخص بھی اسے دیکھ کر حیران رہ جاتا۔ وہ خواب جو اندھیروں کو چیرتا، خوف کو کچلتا اور دشمن کے دل میں لرزہ پیدا کرتا تھا۔

یاگی بلوچ کی شخصیت میں بلوچ کی وہ روایتی بہادری تھی جو نسل در نسل منتقل ہوتی آئی ہے۔ وہ ایک ایسا جنگجو تھا جو نہ صرف اپنی جان بلکہ اپنے ساتھیوں کی جان بھی اپنے سینے سے ڈھال بناتا تھا۔ دھرتی ماں ایسے نڈر، بہادر اور بلند حوصلے والے بیٹوں پر ناز کرتی ہے۔ وہ انہیں لوریاں گاتی ہے اور ان کی قربانیوں پر فخر کرتی ہے۔ یاگی جان جیسے فرزند دفاعِ شناخت اور زمین کی حفاظت پر قربان ہونے والے ہیں جن کی شہادت تاریخ میں ایک سنہری اور امر باب رقم کر جاتی ہے۔

ان کی قربانیاں اتنی عظیم، اتنی پاکیزہ اور اتنی گہری ہیں کہ انسانی سوچ اور قلم انہیں بیان کرنے سے قاصر رہ جاتا ہے۔ زمین خود ان پر ناز کرتی ہے، فلسفۂ قربانی دنگ رہ جاتا ہے، اور تاریخ شرم سے سر جھکا لیتی ہے۔ جن کی روحیں وطن کے دفاع کے لیے امر ہو جاتی ہیں، وہ کبھی مرتی نہیں۔ وہ ہر مزاحمت کار کے دل میں، ہر پہاڑ کی چوٹی پر اور ہر ساحل کی لہر میں زندہ رہتی ہیں۔

یاگی بلوچ کی پیدائش اور پرورش مقدس خطے پروم میں ہوئی جو مکران کے مغربی علاقوں میں پھیلا ہوا ایک زرخیز اور پرجوش علاقہ، جہاں کی مٹی نے صدیوں سے بہادروں اور آزادی کے عاشقوں کو جنم دیا ہے۔ یہاں کی پہاڑیاں آسمان کو چھوتی ہوئی لگتی ہیں اور وادیاں سبزہ زاروں سے بھری ہوئی ہیں۔ بیرونی دنیا کے لیے یہ ایک سادہ اور خشک منظر پیش کرتی ہیں، مگر بلوچ کی نظر میں یہ جنت کا ایک ٹکڑا ہیں۔

پروم فدائیوں کی سرزمین ہے، بہادروں کا وطن ہے۔ یہاں کی ہوا میں آزادی کی خوشبو گھلی ہوئی ہے اور یہاں کی مٹی نے ہزاروں ایسے بیٹوں کو پالا ہے جو استعمار کے سامنے سر نہیں جھکاتے۔ پروم کی چوٹیاں، جہاں سورج کی پہلی کرنیں سب سے پہلے پڑتی ہیں، ہر پتھر اور ہر درخت ان بہادروں کا گواہ ہے جنہوں نے یہاں سے اٹھ کر وطن کی خاطر اپنی جانیں نثار کیں۔ تاریخی طور پر پروم نے ہمیشہ مزاحمت کی روایت کو زندہ رکھا ہے۔ یہاں کے لوگ نہ صرف کسان اور چرواہے ہیں بلکہ جنگجو بھی ہیں جو اپنی زمین، اپنی شناخت اور اپنے وطن کے لیے ہر لمحہ تیار رہتے ہیں۔ پروم وہ گہوارہ ہے جہاں فدائیوں کی روحیں پروان چڑھتی ہیں اور بچپن سے ہی نوجوانوں کے دلوں میں عشقِ وطن کی آگ جلائی جاتی ہے۔

فدائی سنگت کی مسکراہٹ میں وطن کی خوشبو تھی، تمہارے قدموں میں بلوچستان کی بقا کا عزم تھا، اور تمہاری شہادت میں عشقِ زمین کی وہ آگ تھی جو کبھی نہیں بجھ سکتی۔ آپریشن ہیروف کے دوران، جب گوادر اور بلوچستان کی سرزمین دشمن کے ناپاک پنجوں سے محفوظ رکھنے کی جنگ لڑی جا رہی تھی،فدائی سنگت اپنے ساتھیوں سمیت مسکراتے ہوئے خود کو فدا کر دیا۔ تم نے گوادر کو بلوچ کی ماں اور میراث سمجھا اور اس کی خاطر اپنی جان نثار کر دی۔

پروم کی مٹی نے تمہیں پالا، پروم کی ہوا نے تمہیں سکھایا کہ وطن سے بڑھ کر کچھ نہیں، اور پروم کے پہاڑوں نے تمہیں وہ طاقت بخشی جو تم نے آخری لمحات میں دکھائی۔ جب عشقِ وطن جاگ اٹھے تو استعمار کی کوئی طاقت اسے روک نہیں سکتی۔

تمہاری روح اب بھی بلوچستان کی پہاڑیوں، ساحلوں اور وادیوں میں گونج رہی ہے، خاص طور پر پروم کی ان چوٹیوں پر جہاں تم نے بچپن گزارا، اور ان وادیوں میں جہاں تم نے آزادی کے خواب دیکھے۔ تمہاری قربانی ہر نئی نسل کو حوصلہ دے گی، ہر نوجوان کے سینے میں آگ بھر دے گی، اور خاص طور پر پروم کے نوجوانوں کو یاد دلائے گی کہ ان کی سرزمین بہادروں کی ہے۔

ایسے جنگجوؤں کو تاریخ، فلسفۂ قربانی، عشقِ زمین اور دفاعِ شناخت ہمیشہ یاد رکھتے ہیں، نہ صرف یاد رکھتے ہیں بلکہ ان کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہیں۔ ان کی یاد ہمیشہ بلوچ قوم کے دلوں میں زندہ رہے گی، ایک ایسا شعلہ جو آزادی کی راہ روشن کرتا رہے گا اور پروم کی سرزمین کو ہمیشہ فخر سے سربلند رکھے گا۔ یاگی بلوچ، بلوچستان کے شہید ہو اور تاریخ کے امر ہیرو ہو۔ جب تک وطن پر قربان ہو نے کا فلسفہ زندہ ہے ، بلوچ کی مزاحمت زندہ رہے گی۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔