افغانستان: نیمروز میں طالبان کا بلوچ مہاجرین کے گھروں پر چھاپے، بزرگ رہنماء سمیت 7 افراد گرفتار

884

افغانستان کے بلوچ اکثریتی صوبے نیمروز میں افغان طالبان کی جانب سے بلوچ مہاجرین کے گھروں پر بڑے پیمانے پر چھاپے مارے گئے ہیں جن میں بزرگ بلوچ رہنماء سمیت سات افراد کو گرفتار کرلیا گیا جبکہ دو افراد اس دوران زخمی ہوئے ہیں۔

دی بلوچستان پوسٹ کو ذرائع نے بتایا کہ آج شام کے وقت نیمروز شہر کے مضافات میں واقع بلوچ مہاجرین کے کئی گھروں پر افغان طالبان نے چھاپے مارے ہیں۔ افغان طالبان نے چھاپوں کے دوران گھروں میں موجود خواتین و بچوں کو زدوکوب کیا جبکہ دو افراد اس دوران زخمی ہوئے ہیں۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ افغان طالبان سات افراد کو تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے حراست میں لیکر اپنے ہمراہ لے گئے جن میں بزرگ بلوچ رہنماء ملک خان محمد مری بھی شامل ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے ملک خان محمد مری کو بھی شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

خیال رہے اس سے قبل بھی افغان طالبان کی جانب سے کندھار میں بلوچ مہاجرین کے گھروں اور گاڑیوں کو قبضے میں لینے کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔

مزیر پڑھیں: افغانستان میں بلوچ پناہ گزینوں کے گھروں پہ طالبان کا حملہ و قبضہ – ٹی بی پی رپورٹ

اس کے علاوہ گذشتہ دنوں نیمروز ہی میں مسلح افراد کی فائرنگ سے دو بلوچ مہاجرین زخمی ہوئے تھے۔ جس پر بی آر پی کے رہنماء شیر محمد بگٹی کا کہنا تھا کہ بلوچ مہاجرین کو پاکستانی ایجنٹس نے نشانہ بنایا ہے۔

کرزئی اور اشرف غنی حکومتوں میں بلوچ مہاجرین کو افغانستان میں ٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکوں میں نشانہ بنایا جاتا رہا ہے جن میں کئی مہاجرین جانبحق بھی ہوئیں ان واقعات پر بلوچ قوم پرستوں نے پاکستان کے خفیہ اداروں کے ملوث ہونے کا موقف اپنایا تاہم افغان طالبان کے حکومت میں آنے کے بعد ان کے گھروں پر چھاپوں اور گرفتاریوں کی یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔