بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے مرکزی ترجمان نے کہا ہے کہ آج جہاں ایک جانب دنیا نت نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے ترقی کی بلندیوں کو چھو رہی ہے، وہیں ہم آج بھی اس نہج پر قائم ہیں کہ کتابوں کے اسٹالز سے خوفزدہ ہو کر ان کو قبول کرنے تک کے لیے تیار نہیں ہیں۔ یہاں آج بھی تحقیق، تخلیق اور اس سے جنم لینے والی ترقی کو نہ صرف روکا جاتا ہے، بلکہ جو لوگ اپنی مدد آپ کے تحت کتاب جیسی عظیم ہستی کو اپناتے ہوئے علم کی روشنی پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں، انہیں کتابوں سمیت گرفتار کر لیا جاتا ہے۔
ترجمان نے کہا ہے کہ سندھ کے شہر حیدرآباد، نسیم نگر میں جے ایس ایس ایف کے ایک کتاب اسٹال پر پولیس کا دھاوا اور طلبہ کو کتابوں سمیت گرفتار کر کے لے جانا، شعور اور علم کا راستہ روکنے کے مترادف ہے۔ یہاں ایک جانب شرحِ خواندگی اور معیاری تعلیم کا معیار عرصے سے ماند پڑ چکا ہے، وہیں اس طرح کی علمی سرگرمیوں اور کتاب اسٹالوں پر پابندی اس زوال کو مزید بڑھاوا دینے کا ذریعہ بنتی ہے۔ یہ عمل اس تصّور کو پیدا کررہی ہے کہ ہم علم اور شعور سے بھاگنا چاہتے ہیں، جو کہ ایک تشویشانک عمل ہے۔
ترجمان نے کہاکہ ہم اس کتاب اسٹال پر غیر قانونی دھاوے کی نہ صرف مذمت کرتے ہیں، بلکہ متعلقہ اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ جو کوئی بھی علمی سرگرمیوں کو سبوتاژ کرنے میں ملوث ہے، اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ نیز اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کتاب اسٹالز اور دیگر علمی سرگرمیوں پر کوئی بندش نہ ہو، کیونکہ یہ صرف ایک اسٹال کا معاملہ نہیں بلکہ اس سماج کے رویے اور اس کی شعوری تربیت کی نشاندہی کرتا ہے۔
















































