بی این پی ، این پی اور نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کا ڈاکٹر حکیم لہڑی کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار

15

بلوچستان نیشنل پارٹی، نیشنل پارٹی اور نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی نے الگ الگ بیانات میں بلوچ قوم پرست رہنما، بزرگ سیاسی رہنما، ڈاکٹر حکیم لہڑی کے انتقال پر گہرے رنج و غم اور دلی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی وفات بلوچ قومی سیاست، قومی جدوجہد اور سیاسی و فکری تحریک کے لیے ایک بڑا نقصان ہے، جس کا خلا طویل عرصے تک محسوس کیا جائے گا۔

بیانات میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر حکیم لہڑی نے اپنی پوری زندگی بلوچ قومی حقوق، قومی تشخص، سیاسی شعور اور قومی جدوجہد کے لیے وقف کیے رکھی۔ انہوں نے بلوچستان کی سیاسی تاریخ کے مختلف ادوار میں فعال سیاسی کردار ادا کیا اور قومی سیاست کے نشیب و فراز، سیاسی کشمکش اور مشکل ترین حالات کے باوجود اپنی قومی وابستگی، قومی سوچ اور اصولی مؤقف کو برقرار رکھا۔ وہ ایک بااصول، نظریاتی، مخلص، مستقل مزاج اور فکری طور پر مضبوط سیاسی رہنما تھے، جنہوں نے سیاست کو ذاتی مفاد کے بجائے عوامی خدمت، قومی حقوق، جمہوری اقدار، انسانی آزادی اور سماجی انصاف کے حصول کا ذریعہ سمجھا۔

انہوں نے کہا ہے کہ ڈاکٹر حکیم لہڑی کی طویل سیاسی زندگی میں مختلف مراحل پر سیاسی حالات کے مطابق اتار چڑھاؤ اور سیاسی وابستگیوں و طریقۂ کار میں تبدیلیاں ضرور آئیں، تاہم بلوچ قوم کے سیاسی حقوق، قومی وقار، قومی تشخص اور قومی موقف ان کی سیاست کا بنیادی حوالہ رہے۔ انہوں نے مشکل سیاسی حالات میں بھی قومی سوال کو زندہ رکھنے، سیاسی شعور کو فروغ دینے اور نئی نسل کو بلوچ تاریخ، قومی جدوجہد اور سیاسی عمل سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کیا۔

مزید کہا ہے کہ انہوں نے ترقی پسند و روشن خیال فکر، انسانی آزادی، سماجی انصاف اور مظلوم و محکوم اقوام کے حقوق کے لیے بھی مسلسل آواز بلند کی۔ ان کی سیاسی بصیرت، فکری پختگی، نظریاتی وابستگی، مستقل مزاجی اور ثابت قدمی ان کی طویل سیاسی زندگی کا نمایاں حوالہ ہے۔ مشکل ترین حالات میں بھی انہوں نے اپنے نظریات اور اصولوں سے سمجھوتہ نہیں کیا اور اپنی قوم کے سیاسی و قومی حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھی۔

انہوں نے کہاکہ ڈاکٹر حکیم لہڑی کی عظیم اور طویل قومی و سیاسی جدوجہد، قربانیوں، افکار و نظریات اور اصولی سیاست کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بلوچ قومی سیاست اور مظلوم و محکوم اقوام کی جدوجہد میں ان کا کردار تاریخ کا اہم حصہ رہے گا۔ ان کی سیاسی بصیرت، فکری پختگی، ثابت قدمی اور قومی وابستگی آنے والی نسلوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ رہیں گی اور ان کی جدوجہد کو قومی حقوق اور سیاسی شعور کی منزل کے حصول کے لیے مشعلِ راہ کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔

سیاسی پارٹیوں نے کہاکہ ڈاکٹر حکیم لہڑی کی وفات کو موجودہ سیاسی صورتحال میں ایک بڑا سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اگرچہ ان کے انتقال سے ایک ایسا خلا پیدا ہوا ہے جسے پُر کرنا آسان نہیں، تاہم ان کی طویل قومی و سیاسی جدوجہد بلوچ قوم کے لیے ایک قیمتی سیاسی و فکری ورثہ ہے۔ ان کے افکار، نظریات اور اصولی سیاسی جدوجہد کو آگے بڑھانا ہی ان کی جدوجہد کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا بہترین ذریعہ ہوگا۔